مُجھ سے مرے گُنہہ کا حساب اے خُدا نہ مانگ

یہ تحریر 931 مرتبہ دیکھی گئی

(مُحمد سعید راؤ کی ایک تصویر پر اظہارِ خیال)

“جنگ” ایک ہولناک لفظ ہے۔ لیکن امریکی ادیبہ سوزن سانٹیگ کا خیال ہے کہ جنگی مناظر اور مظالم کی تصویر کشی اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم اپنی کمزوریوں کے خلاف خود کو مضبوط کر سکیں۔ انھوں نے اپنی شُہرہ آفاق تصنیف Regarding the Pain of Others میں جنگی عکس کاری اور اس کے انسانی معاشرے پر اثرات کو لے کر بھرپور بحث کی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ پاکستانی لکھاری اور مُترجم اجمل کمال نے “دوسروں کی اذیت کا نظارہ” کے عنوان سے اُردو میں کیا ہے۔ سوزن سانٹیگ، ورجینیا وولف کی کتاب Three Guineas کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ جنگی مناظر کی تصویروں کو دیکھنے سے اندرونی تلاطم پیدا ہوتا ہے اور ہم یہ مانتے لگتے ہیں کہ اس بربریت اور بہیمیت کو ہر قیمت پر روکا جانا ضروری ہے۔

پاکستانی عکس کار مُحمد سعید راؤ نے جنگ کیمرے کی آنکھ سے تو نہیں دیکھی لیکن پاکستان کے شُمال مغربی سرحدی علاقوں میں جنگ سے مُتاثرہ مُقامی بے دخل، بے گھر افراد (IDPs) کی مُتاثر کُن تصویر کشی ضرور کی ہے۔ اس کٙڑی کی ایک تصویر اُنھوں نے جنوری 2018 الحمرا آرٹس کونسل، لاہور میں “سُرخ” کے عنوان سے پیش کی گئی تصویری نُمائش میں دِکھائی۔

اس عکس میں بے سر و سامان بُرقع پوش خواتین کا ایک گروہ، تپتی دھوپ میں کُھلے آسمان تلے بلوچستان کی کٹھور پتھریلی زمین پر خاردار تاروں کے پار بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ کُچھ فاصلے پر ایک اور بُرقع پوش عورت برہنہ پا مٹی اور سنگریزوں پر لیٹی ہے۔ بڑے گروہ کے ساتھ ایک کم عُمر بچہ ہے جس کے سامنے بُخار یا کھانسی کی ادویات کی شیشیاں پڑی ہیں۔ بظاہر ہوں لگتا ہے کہ لیٹی ہوئی عورت مٙر چُکی ہے اور دیگر خواتین اُس کی موت پہ نوحہ کِناں ہیں۔

تین فُٹ لمبے اور چھ فُٹ چوڑے فوم بورڈ بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ پر اس دل سوز عکس کا تاثر کئی گُنا شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ گیلری میں بے شُمار لوگوں نے اس تصویر کو دیکھا لیکن اُن میں سے چند ہی جان پائے کہ منظر نامے میں موجود مُتاثرہ خواتین اُن ہی کی ہم وطن ہیں۔

ساؤتھ افریقن فوٹوجرنلسٹ گریگ مارینووچ Greg Marinovich لکھتا ہے کہ “ہم المناک اور پُرتشدد واقعات کی عکاسی کر تو رہے ہوتے ہیں لیکن ہر بار شٹر دبانے کی قیمت ہمیں اپنی حساسیت اور ہمگُدازی کے زیاں کی صورت میں چُکانی پڑتی ہے۔” مُجھے نہیں معلوم کہ اس تصویر کے لیے شٹر دباتے وقت یا بعد میں مُحمد سعید راؤ کتنی ٹوٹ پُھوٹ کا شکار ہوا ہے لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ جنگ یا اُس کی ہلاکت خیزی کے اثرات دیکھ لینے کے بعد آپ پہلے جیسے انسان نہیں رہتے۔ کیمرے کے ذریعے ان مناظر کو دیکھتے ہی اندر ہی اندر بہت کُچھ بدل جاتا ہے۔ عکس کار چاہے کتنا بھی غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرے، وہ اپنی تصویر میں موجود آفت زدہ انسانوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ خود کو بھی اُس ستم اور انتقام کا ہدف سمجھتا ہے جو جنگ اور امن کے نام پر اُس جیسے دیگر انسانوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ اُس کی تمام ہمدردیاں اندھے ظُلم کا شکار نہتے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ یہی اندرونی کشمکش عکس کار سے ایسی سچی تصویریں تخلیق کرواتی ہے۔

موجودہ سیاسی شعور اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سطحی اجتماعی سوچ پر مُحمد سعید راؤ کی اس تصویر کے عام ہونے سے شاید معمولی سا اثر بھی نہ ہو۔ اوّل تو پاکستان کی نڈر اور بے باک حکومتوں کی وِژن دورِ اقتدار کی لوٹ مار کے بعد “سیف ایگزٹ” تلاش کرنا اور اگلے الیکشن میں پھر سے بوسیدہ منشور کے ساتھ اُترنے تک محدود ہے۔ دوسرا پولیٹیکل سِسٹم میں دیگر طاقتوں کی بے جا مداخلت اور غیر فِطری جوڑ توڑ سے یہ ناپائدار اور مایوس کُن صورتحال مُسلسل جاری رہتی ہے جس سے بدحال عوام کو بُنیادی تحفظ ملنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے طاقت کی رسہ کشی پر قُربان ہونے والے عوام کو مُحمد سعید راؤ تصویر کرے یا کوئی اور، ایسی تصاویر پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ میڈیا پر خطیر رقم خرچ کر کے عوامی سوچ پر حاصل کی گئی حاکمیت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے دُکھ بھول کر نکمے اور نااہل آقاؤں کے مسائل پر فکر مند رہا کریں۔ کیا کوئی حُکمران یا میڈیا اینکر ہمیں بتائے گا کہ مُحمد سعید راؤ کی اس تصویر میں ہم جیسے انسان ہی ہیں۔ کبھی یہ غیر جنگجو خواتین اور بچے اپنی زمین پر، اپنے گھروں میں اپنے کُنبوں کے ساتھ امن سے بٙس رہے تھے۔ ان پر ان کی مرضی کے خلاف جنگ مُسلط کی گئی۔ کیا یہ مُہم جو اقوام کے جنون کی بھینٹ چڑھنے کے لیے پیدا ہوئے تھے؟

اِس تصویر سے جنم لینے والے سوال ہم ناشتے میں توس پر جیم لیپتے ہوے خبروں کی شہ سُرخیوں کے ساتھ ہضم کرنے کے عادی ہو چُکے ہیں۔ لیکن تمام تر بے حسی کے باوجود ہماری سرزمین پر جاری کشمکش کا نشانہ بننے والے افراد کی تصویر بنا کر مُحمد سعید راؤ نے خوابیدہ عوامی ضمیر کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ اسیرانِ جنگ کی یہ تصویر در حقیقت اُن تمام جماعتوں اور اداروں کی سوچ کی تصویر بھی ہے جنھوں نے معصوم انسانوں کو اقتدار کا ایندھن بنانے میں اپنا مکروہ کردار ادا کیا۔