محمود شام کی تصنیف” روبرو

یہ تحریر 60 مرتبہ دیکھی گئی

جب ارتقانے ہمیں احسن ِ تقویم کا مقام ہزار احترام دِلوایا
ہماری زد میں بھی اور دسترس میں بھی ہےبرابر کمال بعدِ کمال


جمیل الدین عالی صاحب نے اپنی ایک نظم میں یہ الفا ظ جن تاریخی و بشریاتی معنوں میں ادا کیے تھے ،ان کی نثری تفہیمات محمود شام صاحب کی کتاب “روبرو” میں اپنی مکمل معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔کتاب کا انتساب اپنے اندر متن کی تشریحات(Exegesis) کو قبل از مطالعہ قاری پر واضح کرتا ہے ۔انتساب کے الفاظ یہ ہیںکہ “متحدہ پاکستان کے نام جو ۱۶/دسمبر۱۹۷۱ء کودولخت ہوگیا”۔
محمود شام صاحب ، سیاسی و سماجی صورت حال کو اپنی درون ِ ذات (Self Conscience) سے برآمد کرنے کے ہنر کا واضح و بین اظہار شخصیت ہیں ۔آپ کی کثیر جذبی صلاحیتوں (Hybrid abilities) نے معاشرت و ثقافت کے مختلف النوع(Diverse) پہلوؤں کی نمائندگی نمایاں و ممتاز خطوط پر کی ہے۔آپ کی کتاب “روبرو” نہایت معتبر اشاعتی ادارے “قلم فاؤنڈیشن انٹر نیشنل، لاہور ” کے زیر اہتمام علامہ عبدالستار عاصم صاحب کی نگرانی میں ۲۰۲۴ء میں شائع ہوئی ہے ۔علامہ صاحب انتہائی باریک بین، اردو طباعت و اشاعت پر گہری نظر رکھنے والے اور حسن ِبیان سے معمور علمی و ممتاز کاروباری شخصیت ہیں۔اس کتاب کے علمیاتی و نظریاتی مرتبے کے تعین میں محمود شام صاحب کا اپنا مطمح نظر سامنے آتا ہے کہ جب وہ میجر جنرل سرفراز، ائیر مارشل(ر) نور خان، ذوالفقار علی بھٹو(متعدد انٹرویو)، شیخ مجیب الرحمان ، اور دیگر نمایاں سیاسی و سماجی شخصیات کے روبرو ہوئے تو آپ کے انٹرویو میںان سوالات کی اہمیت و معنویت کو سماجیات کے مخالف تصورات و توہمات کے انسداد (Eradication) کی کوششوں پر مبنی تصورِ حب الو طنی اور عقلی بنیادوں پر ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
عموماً انٹرویو کار اپنے اِدراک(Sagacity) کی بنیاد پر کئی نظریات کی نفی کرنے کا خواہش مند ہونے کے باوجود عقل کی عظمت اور توازن کی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے مستقبل میںممکنہ بہتری (Expected Goodness) کا خواہاں ہوتا ہے۔انٹرویو کار کی شخصیت اسی ایک پہلو سے مکمل ہوجاتی ہے، لیکن محمود شام صاحب کی شخصیت یک رخی نہیں بلکہ کثیر سمتی ہے۔ لہٰذا آپ کے نظری شعور(Visual Wisdom) کا ناگزیر تقاضہ خود ان کے نزدیک یہ ہے کہ دنیائے انسانیت کی بقا و بہتری کے لیے استعمار(Imperialism) کے خلاف پیہم جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔ اسپنگلر(Oswald Spengler) نے اپنی کتاب “زوال ِ مغرب ” میں عالمی تاریخ کے مسائل کو تصورِ قضا و قدراور اُصولِ علیت(Causality) کی روشنی میں بیان کیا ہےاور ان ہی اصولوں کو تعمیرِ عالم کی اساسیت تسلیم کیا ہے۔ انسان کی عالمی بصیرت، اس کی عالمی آرزو کو جنم دیتی ہے جسے وہ قضا و قدر کی لازمی صورت کو تسلیم کرنے کے باوجود ہمہ وقت کائناتی مسائل کے حل کی جانب متوجہ رہتا ہے اور حیات و موت کے علت و معلول (Cause and Effect)کے رشتے کو پائیدار سمجھتا ہے ۔محمود شام صاحب کی اس کتاب میں اشخاص و افراد کی کہی ہوئی باتیں اس حقیقت پر دلیل ثابت ہوتی ہیں کہ محمود شام صاحب محض ایک صحافیانہ فرائض کی انجام دہی سے ہی نہیں گزرے بلکہ انجام دہی کی یہ صورت اپنی عظیم ترین شکل میں نظری اور عملی ہے۔معراج محمد خان صاحب کے انٹرویو میں آپ نے یہ ذکر کیا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ایسے نظریاتی کارکن تھے کہ کبھی بھی اپنی گاڑی یا آفس میں لگے جھنڈوں کو اپنی شخصیت پر طاری و حاوی نہ ہونے دیا اور حب الوطنی کے وہی اوصاف زندہ و تابندہ رہے جو ابتدا سے معراج صاحب کی شخصیت کا حصہ تھے۔محمود شام صاحب کی جانب سے مختصر لیکن وسیع تناظر میں کیا گیا یہ سوال کہ “کیا پاکستان مزید ٹوٹنے کے خطرات سے محفوظ ہوگیا ہے؟”کے جواب میں معراج صاحب نے حقیقت نگاری کے اس خلا کو پر کردیا ہے جو سماج و معاشرت کی تعمیر کی پیہم بنیاد قرار دی جاسکتی ہے۔معراج صاحب کے الفاظ ہیں کہ “ہم کسی معاشرے ،سماج یا کسی ملک و قوم کے بارے میں اسی وقت صحیح تجزیہ کرسکتے ہیں جب ہم اس انسانی معاشرے پر جدلیات (Dialectics)یا تاریخ کی رہنمائی میں غور کریں ۔ جب تک ہم کسی معاشرے میں سماجی مفادات ،ان کی نوعیت اور ان کے عالم ِ وجود میں آنے کے محرکات کو نہ سمجھ سکیں ،کسی قوم کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔”
کانٹ (Immanuel Kant)کےاُن اصول و نظریات کی تفہیم کی جائے جو اس فلسفۂ حیات سے مزین تھے کہ ضروریات ِ حیات کے لیے فکر و شعور، ناگزیر عناصر ہیں۔ زمان کی وسعت پذیری (Expansibility)اور مکان کی حقانیت(Veracity)کو مدنظر رکھتے ہوئےکانٹ کےا س قول کی روشنی میں محمود شام صاحب کی آئیڈیالوجی، معاشرت کی فطری و سماجی حقائق کی معروضیت (Objectivity) کا باقاعدہ اور منظم خطوط پر مطالعہ کرتی ہے اور آفاقی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتی نظر آتی ہے۔ آپ کی یہ آئیڈیالوجی، کائناتی انصاف کے منطقی اور وحدانی تصور کی جانب رجوع کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ داخلی یقین اور عقلیت کا منبع آپ کی اپنی ذات سے منسلک ہے اور آپ کے یہاں حقیقت نگاری کی اعلیٰ ترین صلاحیت کی موجودگی، متنوع و تکثیریت(Pluralism) پر مبنی ذخیرہ ٔ خیالات و نظریات کو مرکزیت فراہم کرتی ہے ۔ آپ کے نظریات کی یہ مرکزیت خالصتاً احترام ِ آدمیت کا فروغ اور اصلاح و خیر ہے۔آپ نے اپنے حواس ِخمسہ کو اپنی وجودی ذات میں تحلیل کرکے ایک مکمل نظام فکر کے نقطۂ آغاز اور نقطۂ عروج کی تشکیلات کا فریضہ سر انجام دیا ہے جس میں متناقض طبیعاتی کلیے “کب؟”، “کیسے؟”، “کیوں کر؟”اور “کب تک؟” نمایاں طور پر پیوستہ و ہم آہنگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “روبرو ” کے ساتھ ساتھ دیگر تصنیفات “شام بخیر” اور”شب بخیر” میں بھی آپ کی تحاریرفطری ، سماجیاتی اور تاریخی تناظرات کے ذیل میں ہم آمیز اور آپ کے نظری و علمیاتی رجحانات کی تفسیر و تو ضیحات کی تکمیلی مظہریت ہیں ۔اس کی لامحدود مثالیں آپ کے انٹرویوز میں نظر آتی ہیں۔محمود شام صاحب نے گزرے ہوئےوقت میں ظہور پذیر واقعات سے خوشہ چینی کرتے ہوئے(Drawing Inspiration)زمانہ ٔ موجود اور لازمانی ابدیت یعنی آنے والے وقت کی ابتدائی چاپ محسوس کی اور وہی سوالات کیےجوسماجیات کے اُس جدلیاتی نظام میں فی الواقع ضروری تھے۔
ابن ِ عربی نے تخیل(Thought) کی تخلیق کو تخلیقات میں عظیم تر قرار دیا ہےاور اس تخیل کو دو دنیاؤں میں منقسم کرتے ہوئے اسے حواس اور تجرید کے نام سے موسوم کیا ہے۔حواس اور تجرید اپنی فطری صلاحیتوں کے زیر ِ اثراپنے آس پاس ہونے والے واقعات و حوادث کی پیش بینی کرسکتے ہیں اور یہی دور اندیشی، عقل و شعور کی مدد سے انسانی معاشرت اور انسانی ارتقا کی تفہیم میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ محمود شام صاحب نے بھی اپنے اسی تخیل کی بنیاد پر آفاقی صداقت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر ایک سماجی و ثقافتی تغیر کوسمجھنے کے لیے ان تمام حالات و واقعات کو سمجھنا ضروری ہے جن حالات سے ان ممکنہ تبدیلیوں کا ربط ہے ۔ جمالیاتی بنیادوں پر محمود شام صاحب زندگی کے ان حقائق تک پہنچنے کے لیے حواس ،عقل،فکراور تخیلات کو بہ لحاظ ِ کمیت اوربہ لحاظِ کیفیت ، ہر دو صورتوں میں بروئے کار لاتے ہیں اور جمالیات و رجائیت کے یہ احساسات آپ کے دل کے جذبِ دروں میں آپ کے گہرے و پائیدار مطالعات ِ حیات کے سبب استوار ہوئے ہیں ۔
سماجی اور معاشرتی نظام کے اَن مِٹ اور لازوال ہونے کو شام صاحب نے کبھی تسلیم نہیں کیا بلکہ خالص نظریات اور عظیم افکار نے ہمیشہ آپ کو مثبت تغیر کا ہم خیال بنایا ہے۔ آپ کے قلم اور خیالات کی یہ خوبی “روبرو” میں بخوبی نظر آتی ہے۔