لکھنوی تہذیب اور نواب آصف الدولہ

یہ تحریر 466 مرتبہ دیکھی گئی

لکھنو کی آدابِ نشست و برخاست ،لہجے کی شائستگی اور مناسب الفاظ کے استعمال کی بڑی حیثیت ہے جو ایرانی مزاج سے جڑی ہوئی ہے ایرانی مزاج کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ تنقید گوارا نہیں کرتے یہ مزاج اس تہذیب کا حصہ ہے یہی تہذیب لکھنوی معاشرت  کہلاتی ہے جو دلی  اور فیض آباد میں نہیں بلکہ لکھنو میں دلی والوان سے پروان چڑھی اور لکھنوی تہذیب کہلائی۔

اودھ کے نواب آصف الدولہ نے مسند نشیں ہوتے ہی لکھنو کا رخ کیا گویا لکھنوی تمدن کا آغاز عہد آصف الدولہ سے شروع ہوتا ہے۔

آصف الدولہ لکھنو آنے کے بعدوہ نہیں رہے تھے جو فیض آباد میں تھے۔یہاں حکومتی معاملات ہوشیار لوگوں کے سپرد کیا اور خود اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوگئے۔علوم و فنون کی سرپرستی میں وہ اپنے والد شجاع الدولہ سے آگے تھے علم سیر و تاریخ میں بڑا درجہ رکھتے تھے  باکمال شاعر تھے رقص و موسیقی کے دلدادہ اور سیرو شکار کے شائق تھے،تعمیرات کے بھی شوقین تھے  ۔

لکھنو کو ان کی وجی سے نئی زندگی ملی اور علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کی رگوں میں تازہ خون دوڑا۔

 عمارتوں کا شہر لکھنو

مرزا  علی لطف بیان کرتے ہیں  آصف الدولہ ہر روز ایک نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے تھے اسی سبب لکھنو کے امراء اور اہل شہر کو بھی عمارتوں کا شوق پیدا ہوا اور لکھنو عالیشان عمارتوں کا شہر بن گیا۔

آصف الدولہ کے زمانہ میں ہی لکھنو شہر کو وسعت ملی اور اسی دور میں لکھنو بھر میں ایرانی طرز کے باغ بنوائے جن میں شاندار عمارتیں حوض فوارے،کیاریاں اوردرختوں کی قطاریں سمیت سب کچھ تھا۔

 آصف الدولہ کی دینداری

مشاغل میں رغبت کے ساتھ ساتھ آصف الدولہ میں دینداری  بھی بہت تھی۔مجتہد مولانا دلدار علی کی رہنمائی میں  عراق کے شہر کربلا سے نجف تک نہر نکلوائی جس میں اسی ہزار اشرفی خرچ کی۔

محرم الحرام میں تعزیہ داری بڑی عقیدت سے کرتے تھے،محرم میں پاپیادہ گشت کرتے تھے اور شہر کے تعزیوں پر نذر چڑھاتے تھے  دوسرے امراء بھی یہی عمل دہراتے تھے یہی وجہ ہے کہ کوئی گلی یا محلہ ایسا نہ تھا جو تعزیہ نہ رکھتا تھا حتیٰ کہ دولتمند ہندووں نے بھی  عالی شان امامباڑے بنوائے  اور بعدازاں یہ سب ہندو مسلمان ہوگئے تھے۔ خودآصف الدولہ کا بنوایا ہوا امام بارگاہ ہندوستان کی مشہور عمارتو ں میں سے ہے

آصف الدولہ کے دو ر میں شیعیت کی تجدید ہندوستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت کی حامل ہے جس نے شیعوں کی مذہبی زندگی میں انقلاب عظیم پید اکیااس میں آصف الدولہ کا کردار کم اور مولانا دلدار علی غفرانماب کی کاوشیں نمایاں ہیں۔

 شاعری سے رغبت

آصف الدولہ خود بھی شاعر تھے  اردو کے ساتھ فارسی میں بھی شاعری کی  دیوان لکھا ۔شعراء کرام کے بہت قدر دان تھے اور اُن کی بیش قرار تنخواہیں مقرر کیں ا سی لیے دہلی کی بجائے لکھنو شاعری کا مرکز بنا اور لکھنو کے باشندے دلی والوں سے برابری کا خیال کرنے لگے تھے

۔ان کے عہد میں مثنوی اور مرثیہ کی طرف خاص توجہ دی گئی۔مرثیہ نگاری اور مرثیہ خوانی کی ایسی فضا تیار ہوئی جس نے میر انیس اور مرزا دبیر جیسے بے مثل مرثیہ نگار پیدا کئے

 آصف الدولہ کی سخاوت

نواب آصف الدولہ کی بندہ پروری نے نہ صرف اودھ کے لوگوں کو فاقوں سے نجات دی

۔ ان کے لئے ایک اور کہاوت مستعمل ہے کہ ”جسے نہ دے مولا، اُسے دے آصف الدولہ۔“ اِس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ آصف الدولہ بھی اللہ کی مرضی کا پابند ہے اور جتنا کسی کی قسمت میں  لکھا ہے اس سے زیادہ وہ بھی نہیں  دے سکتا۔ اس سلسلہ میں  ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک غریب آدمی دربار میں  حاضر ہوا اور نواب صاحب سے مدد کا خواستگار ہوا۔انھوں  نے حکم دیا کہ ایک تھیلی میں  روپے اور دوسری میں  پیسے بھر کر اس آدمی کے سامنے رکھ دئے جائیں۔ اُس شخص سے ایک تھیلی منتخب کرنے کو کہا گیا۔اس نے جو تھیلی چُنی اس میں  پیسے تھے۔نواب صاحب نے کہا کہ ”بھائی،یہ تمھاری قسمت کہ تم کو پیسے ملے۔ میں  کیا کر سکتا ہوں۔جدھر مولا،اُدھر آصف الدولہ۔“

ماخد

لکھنو کا عروج و زوال،نیر مسعود

گزشتہ لکھنو،عبد الحلیم شرر

تاریخ لکھنومحمد باقر شمس

لکھنو،ریختہ آصف الدولہ،پنجند

توقیر کھرل کی دیگر تحریریں