لکڑمنڈی

یہ تحریر 233 مرتبہ دیکھی گئی

ہم پیڑ تھے
پیڑ لکڑ ہارے لے گئے
اور پات ہوا
پرند بےگھری پروں سے باندھ کر
نیلے آسمان کی آنکھ میں کنکروں کی طرح جا گرے۔
آسمان کی آنکھ چُبھ گئی
برکھا رُت نے بٗن کو گھیر لیا
ساون تازہ دم نہالوں کی جنم رُت ہے
بوڑھے پیڑ کے حصے میں کیا آیا؟؟
لکڑ منڈی۔۔۔۔۔۔!!!
لکڑمنڈی میں آنے والے ہر گاہک کا حُلیہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
چِتا۔ چُولہا۔ چٗوکھٹ۔ چٗرخی۔ چٗاک۔ چٗپُّو
گاہک کے بُشرے میں نہیں دِل میں ہوتے ہیں
لکڑمنڈی پیڑوں کا نہیں
لکڑیوں کا محشرستان ہے
جہاں ہر چوب پارے کی قیمت الگ
مگر قسمت ایک سی ہوتی ہے
ہم سب لکڑیوں کی
ہمارا انتظار ہماری عقوبت ہے