غزل

یہ تحریر 68 مرتبہ دیکھی گئی

کیا حسن تھا کہ جس کی فضا لے گئی مجھے
کن وادیوں میں شب کی ہوا لے گئی مجھے

آوازیں آس پاس کی اتریں نہ کان میں
آئی تھی دور سے جو صدا لے گئی مجھے

تاریخ کے ورق پہ بس اتنا ہی درج ہے
جانے کوئی پری کہ بلا لے گئی مجھے

کمرے کی کھڑکیوں پہ چمکتی رہی وہ دھوپ
اور اس کے ساۓنیند چرا لے گئی مجھے

ان دیکھے راستوں کی کشش بھی عجیب تھی
یوں جنگلوں میں آتش_ پا لے گئی مجھے

پھر یوں ہوا تھا میری کہانی کا اختتام
اک روز اس جہاں سے قضا لے گئی مجھے