غزل

یہ تحریر 106 مرتبہ دیکھی گئی

آنکھوں میں ہجوم ہے تو کیا ہے
سیلاب_ نجوم ہے تو کیا ہے

بے علم بھی جی چکے ہیں کتنے
تو بحر_ علوم ہے تو کیا ہے

ہم باد_ صبا سے مل چکے ہیں
یہ باد_ سموم ہے تو کیا ہے

فیشن ہی بدل چکا زمانہ
اب ترک_ رسوم ہے تو کیا ہے

ویرانہ بسا لیا ہے اندر
آبادی کی دھوم ہے تو کیا ہے