غزل

یہ تحریر 119 مرتبہ دیکھی گئی

پہلے پہل چراغ بڑا سٹپٹائے گا
پھر جو ہوا کہے گی وہی مان جائے گا

جن کے دلوں میں زمزمہ پیرا رہا ہو عشق
ان کو زباں کا لوچ بھلا کیا لبھائے گا

بستر کی سلوٹوں میں بسے کروٹوں کے راز
اوندھا پڑا چراغ تمہیں کیا بتائے گا

میرا کیا کسی کو کہاں سازگار تھا
میرا کہا کسی کو کہاں راس آئے گا

بستی کے راستے میں اٹھا ناگہاں غبار
اک بدگماں چراغ سے کیا داد پائے گا

یہ. باغ یہ چراغ یہاں کچھ نیا نہیں
پھر بھی ادھر جو آئے گا ثابت نہ جائے گا

مصرع کہو کہ جس کی سنے بازگشت وقت
ورنہ یہ سب کہا سنا بے کار جائے گا

دستک دروں پہ دیجئے دیوار پر نہیں
دیوار کے لکھے کو کیوں کر مٹائے گا