غزل

یہ تحریر 199 مرتبہ دیکھی گئی

کچھ بھی نیا نہیں ہے مگر سب نیا سا ہے
باتیں وہی ہیں لہجہ مگر معجزہ سا ہے

منظر کی مَست لے پہ تھرکتا حسیں گلاب
کچھ جانتا نہیں کہ یہ سب کیا نشہ سا ہے

دیوارو در سے جھڑتی ہوئی ریت میں کہیں
وہ عکس آ پڑا ہے کہ گھر ائنہ سا ہے