غزل

یہ تحریر 243 مرتبہ دیکھی گئی

وہی سیر باغ دنیا وہی تیری خوش لباسی
وہی آگ زندگی کی وہی میری بد حواسی

میں یونہی گلی گلی میں کوئی رنگ ڈھونڈتا تھا
مرے دل میں کیسے اتری کسی شام کی اداسی

ترے در کی رونقوں سے مجھے دور لے گئی ہے
کسی کشف کی گھڑی میں کوئ آئی تھی صدا سی

اسے پھر بلا رہا ہے وہی دور کا اندھیرا
ابھی مجھ میں جاگتا ہے گھنے جنگلوں کا باسی

کبھی صبح کی ہوا کو کبھی شام کی فضا کو
کوئی رنگ دے گئ ہے مرے دل کی دیوداسی