روشنی کی چوتھی جہت

یہ تحریر 167 مرتبہ دیکھی گئی

روشنی کی چوتھی جہت

ندیم بھٹہ کی تصویر کشی

فوٹوگرافک روشنی یا نور، جسے عکس کار اپنی اور دوسروں کی تصویروں میں تلاش کیا کرتے ہیں، کی تین جہتیں ہیں: رنگ Hue، شدت Saturation، اور چمک یا اجلا پن Brightnes۔ لیکن اگر آپ ندیم بھٹہ کی تصویر کشی سے واقف ہوں تو آپ کو روشنی کی وہ جہت دیکھنے کو ملے گی جسے بڑے عکس کار روشنی کا تجربہ یا Experience of Light کا نام دیتے ہیں۔ ندیم بھٹہ کی تصاویر میں یہ کیفیت بھرپور تابناکی کے ساتھ جھلکتی ہے۔ وہ کسی قسم کی فلسفیانہ فکر یا زیست کو درپیش مسائل کی عکاسی کرتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ اپنے گرد و پیش میں پوری طرح رچے شانت بھکشو کی مانند مکمل ارتکاز کے ساتھ ماحول کی حیران کن خیرگی کو تصویر کرتا ہے۔ وہ اپنے Urban Experience میں بلند عمارات، شہری مناظر، انسانی و قدرتی تعمیرات کے ساتھ ساتھ لینڈ سکیپ اور ان سب کے بیچ نہایت سلیقے سے بٹھائی گئی خواتین ماڈلز پر مختلف انواع کی روشنی کو اترتے دیکھتا ہے اور ان کی انمول عکس بندی کرتا ہے۔ اس خاص وصف کی بنیاد پر محض چھ سالہ قلیل المعیاد کرئیر میں بھی ندیم بھٹہ کو پاکستان کے ممتاز گلیمر فوٹوگرافرز میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ 2015 میں کیمرا لے کر سیدھی سادی تصویرکشی سے شروعات کرنے والا ندیم بھٹہ 2018 کے اوائل میں سنجیدہ مزاج عکس کار بن کر ابھرتا نظر آتا ہے۔ اس مختصر مدت میں اس کے کام میں مختلف انواع کی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ عورت کی عکاسی نمایاں ہے اور اگلے ایک دو برس میں آہستہ آہستہ مرکزی مقام حاصل کر لیتی ہے۔ ندیم بھٹہ کے ابتدائی دور کی فوٹوگرافی میں کالاشی لڑکیوں کی عام سی تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں یا کہیں کہیں دبئی فیشن ورلڈ کے ریمپ پر چھوٹے ٹیلی فوٹو زوم لینز پر بناۓ گئے چند پورٹریٹ۔ مگر پھر کچھ ورکشاپس اور تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ پیشہ ور ماڈلز کے ساتھ متاثر کن کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دبئی کے گلیمرائزڈ ماحول میں اپنے ہم عصر پاکستانی عکس کاروں کے برعکس ندیم بھٹہ نے زیرجاموں یا پیراکی کے پارچات میں ملبوس غیرملکی ماڈلز کو تصویرکشی میں استعمال نہیں کیا بلکہ عورت کی شخصیت کو جاذبیت، پوز، چہرے کے خواص اور ماحول کی انفرادیت سے گلیمرائز کیا ہے۔ یہ کام نیم عریاں ماڈلز کی عکاسی سے کہیں زیادہ دلچسپ اور دقت طلب ہے۔ ندیم بھٹہ عورت کو باوقار ملکہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کی تصاویر میں عورت پرشکوہ حاکمہ اور خودمختار نظر آتی ہے۔ اس کی ایسی ہی ایک تصویر چار سال کے عرصے میں BEST OF NATIONS ایوارڈ حاصل کر لیتی ہے۔ ندیم بھٹہ مصنوعی روشنی کو قدرتی روشنی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے فن میں طاق ہے۔ وہ دیگر عکس کاروں کی طرح اکثر فوٹوشاپ یا لائٹ روم کا سہارا لیتا ہے لیکن تصویر کا مجموعی تاثر اپنے قدرتی ماحول اور زمانے کے قریب تر رہتا ہے۔ اس نے فلیش لائٹ، کمپیوٹرائزڈ لائٹ اور قدرتی روشنی کے ملاپ سے ایک خاص ترکیب کی روشنی تخلیق کی ہے جو اس کے گلیمر پورٹریٹس کو انفرادیت عطا کرتی ہے۔

تکنیکی مہارت سے کہیں بڑھ کر تصویرکشی کی بھرپور لگن ندیم بھٹہ کی عکس کاری کا بنیادی محرک ہے۔ اپنے چھہ سالہ کرئیر میں ندیم بھٹہ ایک خاموش طبع مگر سرشار فن کار کی طرح کام کرتا نظر آتا ہے۔ اس کا ولولہ ہر دم جواں ہے۔ پاکستان واپسی پر بھی وہ مسحور کن شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ اپنے آبائی علاقے کے گرد پھیلے صحراؤں کے سفر پر نکلتا ہے۔ ان مسافتوں میں پیشہ ور ماڈلز اس کے ہمراہ ہیں جنہیں وہ چولستان، قلعہ دراوڑ، سندھ کے پانیوں پر ڈولتے موہانوں کے بجروں یا قراقرم و ہمالیہ کے دامن میں بلند چراگاہوں، ندیوں اور جھیلوں کے کناروں پر چڑھتے ڈوبتے سورج کی روشنی میں عکس بند کرتا ہے۔ ان تصاویر کی تعداد بہت زیادہ نہیں، لیکن موجودہ پاکستانی فوٹوگرافی میں اپنا خاص مقام پانے کے لیے مناسب ضرور ہے۔ ندیم بھٹہ نے اپنے منفرد طرز سے کئی ہم عصر پاکستانی عکس کاروں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ گلیمر ماڈلز کو لینڈسکیپ اور آرکٹیکچرل فوٹوگرافی کا حصہ بنائیں۔ مئی 2021 کے آخر میں کرونا وائرس کے شدید حملے نے ندیم بھٹہ کے قابل ستائش تخلیقی سفر کا اچانک خاتمہ کر دیا۔ پاکستان ایک پرجوش عکس کار سے محروم ہوگیا۔ افق پر اٹکے سورج میں دمکتی عورتوں کے عکس کار کا مختصر مگر قابل رشک دور سورج کی آخری کرن ثابت ہوا۔ تھوڑی دیر کو چمکا اور افق کے پار چلا گیا، مگر ڈوبا نہیں۔ ہر سورج اپنے وقت کا ستارہ ہوتا ہے۔ پاکستانی فوٹوگرافی کے آسمان پر ندیم بھٹہ کا کام آنے والے وقت میں بھی تابندہ رہے گا۔