تہذیب

یہ تحریر 150 مرتبہ دیکھی گئی

وہ مجھے تہذیب سکھانے پر مُصِر ہے
بندوق کی لَبلَبی سے ہاتھ ہٹائے بغیر
وہ کہتا ہے اس کے ساتھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں
منظم، مستعد
بالکل اس کے جیسے
کمانڈ اینڈ کنٹرول کی تہذیب میں ڈھالے ہوئے
وہ ایک لشکر ہیں
اور میں اکیلا
میرے جیسے کروڑوں ہیں لیکن سب اکیلے
درانتیوں، کدالوں، ہتھوڑوں، بیلچوں، اور کتابوں سے مسلح
لیکن بے کس و تنہا
مجھے مردہ زمینوں کو کھیتوں اور باغات میں بدل دینے کے
معجزات مالک نے عطا کئے ہیں
میرے بھائی کو ویرانے سے بستی اور بستیوں سے بہشت بنانے کا طلسم آتا ہے
ہم میں سے کتنے لوہے کے بے جان سینے سے ایجادات پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں
ہم نہریں، سڑکیں، پل، ملیں، کارخانے، محلات، ریلیں، جہاز سب کچھ بنا سکتے ہیں
سب کچھ سوائے اپنے لئے گھروں کے
اپنے بچوں کی قسمت کے
اس کی ہمیں اجازت نہیں
وہ ابھی ہمیں تہذیب سکھائیں گے
تہذیب کہ ہر بھینس کسی نہ کسی لاٹھی کی مِلک ہوتی ہے
دانش کا سر چشمہ طاقت کے پتھر سے پھوٹتا ہے
اور طاقت بندوق کی سرد مہر نالی سے
یہی تہذیب کا سبق ہے
جو بندوق کی خامشی کا سبق نہیں پڑھا
اسے بندوق کی زبان چپ کرا دے گی
میں اک سہما ہوا کند ذہن متعلم
کچھ نہ سمجھ کر بھی سب کچھ سمجھ لیتا ہوں
اس سر زمین پر جہاں چانکیہ نصاب مرتب کرتا
اور موریائی لشکر پڑھا رہے ہیں
اور پڑھنے والا میں اکیلا
کروڑوں سہمے ہوئے چہروں کا اکیلا وارث