امریکہ میں پہلا قدم

یہ تحریر 133 مرتبہ دیکھی گئی

سورۂ نحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے-وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَاتُحۡصُوۡہَا ؕ یعنی اگرتم الللہ کی نعمتوں کاشمارکرناچاہو توبھی تو نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی تعداداس قدرہے کہ شمار ممکن نہیں ہےمگر اس کا کیا کیاجائے کہ حضرت انسان قرآن حکیم کے محاورےمیں-وَإِنَّالإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌیعنی یہ حقیقت ہےکہ انسان بہت بےانصاف، بڑاناشکرا ہے-کل جب اٹھارہ گھنٹے کےہوائی سفر کے بعدسیاٹل کی سرزمین پرقدم لگےتو دل ہی دل میں اللہ کاشکر ادا کیا کہ ہواکےکُرےسےوہ سلامتی کے ساتھ زمین پرلے آیاہےسیاٹل کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اُتر کرجا بجا سجدۂ شکر کے مواقع سامنے آتے رہے،ایک طویل العمر سکھ جوڑے پر نظر پڑی جس کا اپنا چلنا مشکل ہو رہاتھا مگرکس مصیبت اورمشکل سےہانپتےکانپتےوہ اپناسامان گھسیٹ رہےتھےاپنے ملک میں ہوتے تو یہ یوں خوار نہ ہوتے-بلکہ اکثر تارکین وطن کا یہی حال ہے کہ پھرتےہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں،یہ امریکی بھی خوب ہیں پوری دنیا کو پیچھےلگایا ہوا ہے،ہمیں نیسلے کی بوتلوں پر لگا دیاخود نل کا پانی پی رہے ہیں،ماضی میں اسی طرح انگریزوں نے ہمیں ہمارے اچھے بھلے کنؤوں کے پانی سے ہٹاکر نل کے پانی پر لگا دیا تھا جس پراکبر الہ آبادی چیخ پڑے تھے پانی پینا پڑاہےپائپ کا/حرف پڑھنا پڑاہے ٹائپ کا/ پیٹ چلتاہےآنکھ آئی ہے/شاہ ایڈورڈکی دہائی ہے-امریکہ کی تو ہر بات نرالی ہے،لائٹ آن کرنا ہو تو بٹن نیچے سےاوپر آف کے لئے نیچے،ٹریفک دائیں ہاتھ پر چلے گی،لباس جو چاہے پہنو بلکہ نہ پہنو تو بھی کوئی مضائقہ نہیں مگر یہ تو خوگرحمد سے تھوڑا سا گلہ والی بات ہے وگرنہ عمومی طور پر عام امریکی بھلے مانس ہیں-اصل بات یہ ہے کہ جو جہاں کاہےیعنی اُس کاجس مٹی کا خمیر ہے وہ وہیں خوش رہتا ہے دوسرے ملک میں اُسے کہنا ہی پڑتا ہے- جو سُکھ چھجو دے چوبارے، نہ بلخ نہ بخارے-