سجنوں تے متروں آج فیر لہور دیاں کج گلاں باتاں تہانوں دسیے ۔ اے جیہڑا ...

ہوا ئیں خاک چرائیں گی راز ، اندر کے کواڑ کھانستے رہتے ہیں رات بھر ...

وہ مُجھے یوں بہت سستا خرید سکتی تھی اپنے ہاتھوں میرے لیے تیز پتی کی ...

بہت کم ایسی شامیں آتی ہیں جو کسی کتاب کی وجہ سے اتنی روشن ہو ...

رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا اتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہوا ...

میں مفلسی سے لدا اس گلی سے جاتا ہوں وہ میرے حال کو دیکھے نہیں ...

گوالن کے ہاتھ میں سرمئی اُپلے اور سر پر چاندنی جیسے دودھ کی کٹوری دل ...

ریڈیو بند ہے کئی دن سے‎ کل سے اخبار بھی نہیں آیا‎ یہ تجسّس کہ ...

جھڑتے پتوں کے عارض پر کیا جادوئی رنگت ہے پیڑ کی آنکھ میں خون اترا ...

حلب محاذ جنگ؟ نہیں یہ میرا شہر ہے میرا گھر شہر کے مرکز میں ہے ...