
مولانا الطاف حسین حالی اردو کے شاعر تھے، نقاد، سوانح نگار اور مکتوب نگار تھے۔ ان کی ذاتی اور ادبی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر خورشید رضوی نے کتاب کے شروع ہی میں لکھا ہے کہ:
“مولانا حالی کی شخصیت ہمارے ادب کی تاریخ میں انتہا درجے کی شرافت، اعلی پائے کی ذہانت و قابلیت اور عمل پیہم کا ایک ایسا آمیزہ ہے جو نایابی کی حد تک کمیاب ہے۔ شاعری میں ان کی قدیم غزلیں فن کاری کا اعلیٰ نمونہ ہیں جبکہ مسدس سادگی و پرکاری، دردمندی اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہے۔ “مقدمہ شعر و شاعری” تنقید میں اور “حیات سعدی” و “حیات جاوید” سوانح نگاری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کسی علمی درس گاہ سے باقاعدہ فارغ التحصیل نہ ہونے کے باوجود ان کا علمی مقام اپنے زمانے کے مسلم و مسند علماء سے کسی طرح کم نہیں۔ ان تمام اعلیٰ صفات و امتیازات کے باوصف وہ نہایت درجہ سادہ، منکسر المزاج، بے نفس اور بے لوث انسان تھے۔ انھیں “پیکر اخلاص” کہنا مبالغے سے یکسر پاک ہوگا.”(“پیش گفتار”، زائد صفحہ ix)
اختصار میں جامعیت کے ساتھ مولانا حالی کا اس سے بہتر تعارف کرانا شاید ممکن نہ ہو۔
مولانا حالی نے اردو کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی میں بھی ادبی اظہار کیا لیکن بدقسمتی سے کسی نے آج تک ان کے فارسی و عربی رشحات قلم سے اعتنا نہیں کیا تھا۔ یاد رہے کہ ان کا اردو کلام اور نثر ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی مرحوم کی توجہ، محنت، چھان پھٹک اور ترتیب سے چار جلدوں میں مجلس ترقی ادب، لاہور سے شائع ہو چکی ہے جس میں مولانا حالی کی فارسی و عربی نظم و نثر بھی شامل ہے۔ آج کے دور میں چوں کہ عربی اور فارسی زبان سے گہری واقفیت رکھنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں، اس لیے مولانا حالی کی عربی اور فارسی تحریروں کو مناسب ترجمانی اور تفہیم کے ذریعے منظر عام پر لانے کی ضرورت تھی۔ مقام میں مسرت ہے کہ عربی زبان و ادب کے فاضل، ماہر، متخصص، محقق اور تدوین کار ڈاکٹر خورشید رضوی نے مولانا حالی کی عربی نظم و نثر کو اپنی تازہ کتاب میں موضوع تحقیق و تفہیم بنایا ہے۔ اس موضوع پر ان کی مذکورہ کتاب “حالی کی عربی نظم و نثر – ایک مطالعہ” حال ہی میں (یعنی جولائی ۲۰۲۵ء ء میں) لاہور کے منفرد اشاد گھر القا پبلی کیشنز سے منظر عام پر آئی ہے۔

مولف ڈاکٹر خورشید رضوی کی اس کتاب کے مشمولات کا تعارف بھی خود انھی کے الفاظ میں کرانا مناسب تر ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“زیر نظر تصنیف مولانا کے عربی نظم و نثر کے تعارف و تفہیم کی ایک کوشش ہے۔ چند تمہیدی مباحث کے بعد ہم نے ضمیمۂ کلیات میں شامل عربی کلام، مکاتیب اور نثر پاروں کا متن ترجمے اور توضیحی حواشی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ نیز موضوع کی مناسبت سے ضمنا ان اہم تراجم کا بھی تعارف کرایا ہے جو مولانا نے عربی سے اردو میں کیے.”(“پیش گفتار”، زائد صفحہ x)
چناں چہ اسی کے مطابق مولف نے “نظم عربی” اور “نثر عربی” کے عنوانات سے کتاب کے دو مرکزی ابواب قائم کیے ہیں۔ شروع کتاب میں “تمہید” اور آخر میں تین ضمیمے اس کے علاوہ ہیں۔ “تمہید” میں مولانا حالی کی عربی دانی اور عربی میں نظم و نثر کے سرمائے کی تفصیلات مہیا کی گئی ہیں۔ مرکزی ابواب کے بعد کتاب کے پہلے ضمیمے میں حالی کی چار عربی نظموں کے وہ تراجم درج ہیں جو خود مولانا حالی کے قلم سے ہیں۔ “ضمیمۂ کلیات حالی” میں شامل عربی کلام کے علاوہ حالی کے چار مزید عربی اشعار مع اردو ترجمہ بھی اس ضمیمے میں شامل ہیں۔ دوسرے ضمیمے میں مولانا حالی کے عربی سے اردو میں دو تراجم: “مبادی علم جیالوجی” (مطبوعہ ۱۸۸۳ء) اور “ترجمہ قصیدۂ عربیہ” (مطبوعہ ۱۹۰۵ء) کا تفصیلی تعارف کرایا گیا ہے. بعد ازاں مذکورۂ ثانی قصیدے کا متن مع اردو ترجمہ ازحالی بھی درج ہے۔ تیسرا ضمیمہ متعلقات حالی کے سلسلے میں نادر معلومات اور تحقیق کا درجہ رکھتا ہے۔ اس ضمیمے میں لندن سے شائع ہونے والے عربی ماہ نامے “النحلہ” کا سراغ لگا کر اس کے بارے میں صحیح معلومات، اس کے مشمولات و اشاعتی تاریخ اور بعد ازاں مولانا حالی سے اس کے تعلق کی تفصیلات قلم بند کی گئی ہیں۔ آخر کتاب میں فہرست مآخذ ہے۔
مولف نے کتاب کا انتساب معروف نقاد، محقق، اقبال و غالب شناس اور فارسی و اردو زبان و ادب نکتہ رس ڈاکٹر تحسین فراقی کے نام کیا ہے۔ ان کے مطابق “وہی اس کام کے محرک اول تھے.” اس کی مزید وضاحت انھوں نے اپنے “پیش گفتار” کے آخر میں یوں کی ہے:
“کم و بیش تیس برس پہلے محبی ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے میری توجہ اس کام کی طرف مبذول کرائی تھی۔ بعض اور علمی منصوبوں کی مصروفیت کے سبب، اگرچہ میری جانب سے تعمیل میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، تاہم، الحمدللہ، ان کی تحریک بے نتیجہ نہیں رہی۔ کتاب کا انتساب انھی کے نام ہے.”(“پیش گفتار”، زائد صفحہ xii)
اس کتاب کی اصل غایت مولانا الطاف حسین حالی کی اس عربی نظم و نثر کو ترجمے سمیت قارئین کے لیے دستیاب کرنا ہے جو ۱۳۲۲ھ مطابق ۱۹۱۴ء میں پانی پت سے شائع شدہ “ضمیمۂ اردو کلیات نظم حالی” میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ مولف کو مولانا حالی کی عربی نظم و نثر کے جو مزید نمونے حاصل ہوئے، انھوں نے وہ بھی اس کتاب میں شامل کر دیے ہیں جس کے بعد اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا حالی کے قلم سے نکلی ہوئی اب تک کی معلومہ تمام عربی نظم و نثر اور اس کا اردو ترجمہ اس کتاب میں جمع ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر خورشید رضوی کا نام عربی زبان و ادب کے حوالے سے استناد کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ عربی زبان کے اسرار و رموز اور باریکیوں سے بخوبی آگاہ ہیں
بلکہ ان کے ماہر ہیں، اس لیے انھوں نے مولانا حالی کے عربی کلام اور نثر کی جو تفہیم اور ترجمانی اس کتاب میں پیش کی ہے، وہ جویان علم کے لیے کسی گوہر بے بہا سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کے اس ترجمے میں متعدد خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ خورشید رضوی ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ حواشی کے ذریعے حل طلب مقامات کی بخوبی وضاحت بھی کرتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حواشی میں عربی زبان کی باریکیوں اور نزاکتوں کی تفاصیل بھی موجود ہیں جن کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کس انہماک، ادراک، ژرف نگاہی اور گہرائی سے مولانا حالی کی عربی نثر کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اردو قارئین کے لیے اس عربی نظم و نثر کی تفہیم بہت آسان ہو گئی ہے۔ خورشید رضوی کو عربی کے ساتھ اردو زبان پر جو ماہرانہ گرفت حاصل ہے، اس نے اس تفہیم و ترجمے کی وقعت اور استناد میں اضافہ کیا ہے۔
خورشید رضوی کے ان تراجم کی ایک اور اہم صفت سادہ و آسان زبان اور اسلوب ہے۔ ان تراجم میں عربی کے جید علما کی طرح ثقیل عربی و فارسی الفاظ اور تراکیب کی بھرمار نہیں، اسی لیے مطالب کی تفہیم میں کسی قسم کی مشکل کا احساس نہیں ہوتا۔ نہایت سادہ اور روزمرہ کی زبان اور اسلوپ میں مطالب کو سادگی سے یوں بیان کیا گیا ہے کہ ثانوی جماعت کے عام طالب علم کو بھی مطلب کی تہ تک پہنچنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ نثر کی میں یہ خوبی طویل ریاضت اور فہم و ادراک میں یک سوئی اور راست روی کے باعث ممکن ہوتی ہے۔ ان کے اس سادہ اسلوب میں ایک طرح کی شیرینی، گھلاوٹ، دل نشینی اور خود رفتگی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ پڑھنے والا نثر کی روانی کے ساتھ بہتا چلا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر خورشید رضوی نے اس کتاب میں تحقیق اور تجزیے کے بعد جو نتائج اخذ کیے ہیں، اکثر وہ منضبط اور مبنی بر حقیقت ہیں۔ اس طرح کے کچھ نتائج فکر اوپر درج کیے جا چکے ہیں۔ مولانا حالی کا اپنی عربی نظم و نثر کو محفوظ کرنے کی فکر کے حوالے سے مولف کا بیان اور نتائج فکر و تحقیق بھی یہاں درج کیے جانے کے قابل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
“اردو کے علاوہ مولانا کو عربی اور فارسی میں بھی غیر معمولی دست گاہ حاصل تھی۔ ان کی دوربین نگاہوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ فارسی اور عربی کا چلن مسلسل رو بہ زوال ہے اور اگر انھوں نے ان دونوں زبانوں میں اپنی نظم و نثر کو خود محفوظ نہ کر دیا تو بعد میں اس کام کی کسی سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ انھوں نے پایان عمر میں، اس پر خصوصی توجہ دی اور اپنا اردو کلیات نظم مرتب کرنے سے پہلے اس کا ایک ضمیمہ، جو فارسی و عربی شاعری اور انشا پر مشتمل تھا مرتب کر کے شائع کرا دیا۔ مولانا کو اس سلسلے میں زمانے کی بے التفاتی کا جو اندیشہ تھا، نہایت حقیقت پسندانہ تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سو سوا سو سال میں اس ضمیمے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا یہ مستحق تھا.” (“پیش گفتار”، زائد صفحہ x)
کتاب کے مشمولات، مباحث، تحقیق اور عربی نظم و نثر کی تراجم: ان تمام سے یہ بخوبی واضح ہوتا ہے یہ کتاب مطالعے اور استفادہ کرنے کے بہترین مواد کی حامل ہے۔ کتاب کے مولف ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ کتاب کے ناشر: القا پبلی کیشنز (مین بلیوارڈ، گلبرگ) لاہور اور اس کے روح رواں ڈاکٹر انوار ناصر بھی شکریے کے مستحق ہیں جن کی مشترکہ مساعی سے یہ اہم کتاب اہل علم کے ہاتھوں میں پہنچی ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کی یہ کتاب حالی شناسی اور پاکستان میں عربی زبان و ادب کی روایت میں خوش گوار اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔







