جنگ کا فن (مترجم محمد سلیم الرحمٰن)

یہ تحریر 540 مرتبہ دیکھی گئی

مشرق کو حکمت سے منسوب کیا جاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں حکمت و دانش کا ذکر کرتے ہوئے یا اُس پر بات کرتے ہوئے مشرق کے ساتھ اس کا تعلّق خود بخود جُڑ جاتا ہے۔ خاص طور پر سیاسیات و معاشریات کے حوالے سے جو حکیمانہ ادب مشرق میں تخلیق ہوا، وہ آج بھی دنیا بھر میں زندگی کرنے اور جہاں بانی کے فن کی کلید سمجھا جاتا ہے۔ “الف لیلہ” سے لے کر “کلیلہ و دمنہ” تک، پھر ہمارے ہاں ہندو دیو مالائی مذہبی صحیفوں: “مہا بھارت”، “رامائن” وغیرہ، چانکیہ کوٹلیا کی  “اَرتھ شاستر” اور نظام الملک طوسی کی “سیاست نامہ” جیسی کلاسیکی کتابیں اس حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔

مشرق سے وابستہ اس حکیمانہ روایت کا ایک پورا باب چینی حکمت و دانش پر مشتمل ہے۔ کنفیوشس تو اب لیجنڈ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ ایک صدی میں چینی حکمت و دانش کے قدیم فن پارے متعارف ہو کر اور دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر منظرِ عام پر آ رہے ہیں جو اس باب میں چینی حکمت و دانش کی روایت کی تصویر واضح کرتے ہیں۔ انھی میں اُستاد سُن شُن یا سُن زو یا سُن زی کا شاہ کار ” جنگ کا فن” بھی شامل ہے۔

اس کتاب کو شامل کر کے مشرق میں حربی و سیاسی موضوعات پر لکھی جانے والی کلاسیکی کتابوں کی اچھی خاصی تعداد سامنے آتی ہے۔ اس تفصیل  سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سیاسی اور حربی معاملات کو مشرق میں خاصی اہمیّت حاصل تھی۔ اسی لیے سیاسی و حربی موضوعات پر مشرق کی تقریباً ہر کتاب اہم ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مشرقی کتابوں کے مغربی زبانوں میں کئی کئی تراجم ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ 

اُستاد سُن یا شن زی کے اس شاہ کار (“جنگ کا فن”) کا ایک نثری اُردو ترجمہ اس سے قبل بھی پاکستان میں شائع ہو چکا ہے لیکن وہ ترجمہ اہلِ حرب کی ضروریات کا احاطہ کرتا ہے، اس لیے اس کلاسیکی شاہ کار کے اُردو میں ادبی ترجمے کی گنجائش موجود تھی، کیوں کہ “جنگ کا فن” محض حربی حرکیات کی منضبط دستاویز ہی نہیں، ایک نادر ادبی شہ پارہ بھی ہے۔ مقامِ سرور و امتنان ہے کہ یہ ادبی ترجمہ محمد سلیم الرحمٰن جیسے نابغۂ روزگار اُردو مترجم کی مساعیِ جمیلہ سے متشکّل ہو کر منظرِ عام پر آیا ہے ۔ “جنگ کا فن” کے نام سے یہ ترجمہ ۲۰۲۲ء میں پاکستان کے  منفرد اشاعتی ادارے اِلقا پیلی کیشنز (ریڈنگز: کے۔۱۲، مین بلیوارڈ، گلبرگ ۲) لاہور سے شائع ہوا ہے ۔

اُستاد سُن کی اس کلاسیکی کتاب کا جو ادبی ترجمہ محمد سلیم الرحمٰن کے اشہبِ قلم کا راہوار ہے، وہ اُنھوں نے سُن زو کی کتاب کے اُس انگریزی ترجمے سے کیا ہے جو جان مینفورڈ (John Manford) نے براه راست چینی زبان سے کیا تھا۔ انگریزی زبان میں اس کتاب کا یہ پہلا ترجمہ نہیں تھا، اس سے قبل کے کم سے کم ایک اَور ترجمے کا سراغ بھی ملتا ہے۔ ان دو کے بعد بھی انگریزی میں اس کتاب کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اصل میں اپنے موضوع پر اُستاد سُن زی کی یہ کتاب کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے اور اس کے مباحث آج بھی اتنے ہی تازہ اور قابلِ عمل محسوس ہوتے ہیں جتنے کتاب کے لکھتے وقت ہوں گے۔ اس لیے یہ کتاب آج بھی مغرب میں جنگ کے فن اور سیاسیات پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کلا سیکی کتاب کہی جاتی ہے۔

                محمد سلیم الرحمٰن نے کتاب کے “پیش  لفظ” کے آخر میں واضح کیا ہے کہ اُنھوں نے اپنے اُردو ترجمے میں ماخذی ترجمے کے علاوہ انگریزی کے دیگر تراجم سے بھی استفادہ کیا ہے۔ یوں یہ ترجمہ یک رُخا نہیں رہا، بل کہ ہر اعتبار سے اس عظیم کلاسیکی کتاب کا بہترین اُردو ترجمہ بھی بن گیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ کلاسیکی کتاب اس کی حق دار تھی کہ اس کا اُردو میں ایسا ہی خوب صورت  ترجمہ ہو جو محمد سلیم الرحمٰن جیسے نابغۂ روزگار کا زائیدۂ فکر ہے۔

                کتاب تیرہ (۱۳) ابواب میں منقسِم ہے۔ ان ابواب کے نام حربی اصطلاحات پر ہیں۔ یہاں مترجم کی مہارت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ اُنھوں نے ان حربی اصطلاحات کے متبادل اُردو کی وہ اصطلاحات استعمال کی ہیں جن کے پڑھنے سے ادبی اور حربی، بیک وقت دونوں ضرورتیں پوری ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دوسرے باب کا عنوان ہے ” جنگ کرنے کا ڈھنگ”، تیسرے کا “محاربتی جارحیّت”۔ بعد کے ابواب کے عنوانات بھی اسی طرح کے ہیں: ۴۔ مجموعی ہیئتیں اور صف بندیاں”، ۵- مضمِر توانائی، ۶- خالی اور معمور، ۷- جنگ و جدل، ۸- نَو تبدیلیاں (‘نَو’ یہ معنی نئی)، ۹- کوچ کے دوران، ۱۰۔ علاقے کی ہیئتیں، ۱۱- زمین کی نو قسمیں، ۱۲- آگ لگا کر حملہ کرنا، ۱۳- جاسوسی۔

محمد سلیم الرحمٰن نے نئی بات یہ کی ہے کہ پوری کتاب کا ترجمہ نظمِ آزاد میں کیا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اُن کی یہ اُپچ بہت بھلی لگی اور دل و دماغ کو چُھو گئی۔ ایک حربی کتاب کے ادبی ترجمے کی غالباً اس سے بہتر صورت نہیں ہو سکتی تھی ۔۔۔ لیکن یہاں فطری طور پر کچھ سوال بھی ذہن میں اٹھنے ہیں۔ مثلاً سب سے پہلا سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ استاد سُن کی خشک حربی و سیاسی کتاب کا ادبی ترجمہ  کرنا کیسے ممکن ہے؟ اور پھر اس خشک اور تکنیکی کتاب کا منظوم ترجمہ، چہ معنی دارد؟ کیا ترجمے کی اس صورت سے ادبی ترجمے کی شرائط پوری ہو سکتی ہیں؟ کیا ایسا ترجمہ قابلِ مطالعہ و حَظ بھی ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔

محمد سلیم الرحمٰن کا ترجمہ پڑھنے سے قبل میرے ذہن میں بھی یہ سوالات گردش کر رہے تھے لیکن کسی تشکیک کے ساتھ نہیں، بل کہ اس دل چسپی کے ساتھ کہ انھوں نے ان مشکلات کو کیسے پانی کِیا ہوگا۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی دل میں موجود تھا کہ محمد سلیم الرحمٰن جیسے کامل مترجم کے لیے یہ نا ممکن نہیں ہو گا، کیوں کہ فی زمانہ اُن سے بہتر ادبی مترجم شاید ہی کوئی ہو جو ترجمہ نگاری کے فن اور زبان و ادب کی باریکیوں سے خوب واقف ہو۔ علاوہ ازیں اُردو و انگریزی مبادلۂ اَلسِنہ میں جیسی مہارت اُنھیں حاصل ہے، ویسی کسی اَور کو مشکل ہی سے حاصل ہو گی۔۔ ترجمہ پڑھا تو اس کی تصدیق بھی ہو گئی اور میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: “واہ! سبحان اللہ!”۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مشکل محمد سلیم الرحمٰن ہی سے حل ہو سکتی تھی، یہ معرکہ وہی سَر کر سکتے تھے۔

ترجمہ پڑھتے ہوئے بخوبی احساس ہوتا ہے کہ اصل کتاب کی خشک حربی  بحثوں کو مترجم نے آسان تفہیم اور بلاغت کے ساتھ اُردو میں یوں منتقل کیا ہے کہ قاری  خشک و سنگلاج بحثیں روانی اور سبک خرامی کے ساتھ پڑھتا چلا جاتا ہے اور کہیں اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ترجمے میں ادبی انداز و اسلوب اس درجہ کام یابی کے ساتھ استعمال ہوا ہے کہ اس ادبی لطافت سے متمتّع اندوز ہونے کا مستقل احساس قاری کو سرشاری کی حالت سے باہر نہیں آنے دیتا اور تکنیکی بحثوں کی سنجیدگی بھی برقرار رہتی ہے۔ میں یہاں نمونے کے طور پر اس ترجمے سے محض دو اقتباسات پیش کرنے پر اِکتفا کروں گا، ورنہ پورا ترجمہ ہی سراپا  مثال ہے

        ۔ (۱) غیظ و غضب دشمن کو

ہلاک کرنے کا سبب بنتا ہے

جو جنگ مالِ غنیمت کے حصول

کی خاطر کی جائے

اس کے پیچھے

انعام و اکرام حاصل کرنے کی آرزو

                کار فرما ہوتی ہے                                           (صفحہ ۲۰، ۲۱)

۔ (۲) عیش راحت میں

بدل سکتا ہے

کینہ توزی شادمانی

میں بدل سکتی ہے

لیکن جو قوم برباد ہو چکی ہو

اُسے دوبارہ یک جا کرنا

ممکن نہیں

جو مر چکا ہو

اُسے زندہ کرنا

ممکن نہیں                                                  (صفحہ ۱۳۰)

                کیا یہ دونوں مکمل نظمیں نہیں ہیں؟ یہ اس ترجمے کی  ایک اَور خوبی اور وجہِ دل کشی ہے۔ کتاب کا تکنیکی موضوع اور ترجمہ ذہن میں نہ لاتے ہوئے پڑھتے جائیں تو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کوئی منظوم ترجمہ پڑھ رہے ہیں، بل کہ مجھے جگہ جگہ ایسا محسوس ہوا جیسے میں محمد سلیم الرحمٰن کی نظموں کا تازہ مجموعہ پڑھ رہا ہوں۔ یاد ر ہے کہ محمد سلیم الرحمٰن اُردو کے جدید نظم گوؤں میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں اور “نظمیں” کی دو اشاعتوں کے ذریعے اُردو دنیا میں اپنی نظم گوئی کا نقش بٹھا چکے ہیں۔ سلیم صاحب نے دوسرا کمال یہ کِیا ہے کہ ترجمہ مسلسل نظم کی صورت میں نہیں کیا، بل کہ ایک بات یا نکتے کو ایک نظم کی صورت میں مکمل کر کے اگلے نکتے یا بات کو نئی نظم کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ اس سے ترجمے میں تنوّع، دل کشی، روانی، تفہیم و اِبلاغ اور خوب صورتی کی صفات نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں۔

مشرق میں سیاسی و حربی موضوعات پر جو کتابیں معرضِ تحریر میں آئیں، اُن میں چانکہ کوٹلیا کی کتاب کا ذکر پہلے ہو چکا۔ اس تناظر میں اُستاد شن زی کی اس کتاب کو یہ اہمیّت حاصل ہے کہ یہ چین کی قدیم شہنشاہی کے ایک مدبّر کے قلم سے نکلی ہے، جیسے چانکیہ کی کتاب ہے لیکن دونوں کتابوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اُستاد شن زی کی کتاب مختصر اور جامع ہے۔ کتاب کے عقبی سرورق پر ادارے کی جانب سے کتاب کا جو تعارف دیا گیا ہے، اس میں بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” تحریر کا ایجاز حیرت ناک ہے اور نکتہ آفرینی نے درجۂ کمال کو چُھو لیا ہے۔” غالباً اسی وجہ سے محمد سلیم الرحمٰن نے اس کتاب کو کلاسیک کا درجہ دیتے ہوئے اس کا اُردو میں ادبی ترجمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

کتاب کے شروع میں کتاب اور مترجم کے مختصر تعارف ہیں۔ اپنے “پیش لفظ” میں مترجم نے کتاب، اُس کے مصنّف، زمانۂ تصنیف اور کتاب اور ترجمے سے متعلّق ضروری باتیں نہایت اختصار کے ساتھ لکھ دی ہیں۔ متن میں کہیں کہیں تشریحی عبارتیں نثر میں ہیں جو عموماً ابواب کے آخر میں درج کی گئی ہیں۔ ناشر ڈاکٹر انوار ناصر نے کتاب کی طباعت و پیش کش میں اپنے مخصوص حسنِ انتظام کا مظاہرہ کیا ہے۔ کتاب کا سرِورق، کتابت و طباعت اور مجموعی پیش کش جاذب نظر ہیں ۔ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعے ایک عظیم کلاسیکی کتاب کا بہترین اُردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن نے یہ ترجمہ کر کے حقیقتاً اُردو تراجم کے سرمائے کو با ثروت کِیا ہے ۔