اس کی تکذیب و توہین بھی جاذبیت سے عاری نہیں
بس یہ تازہ اِہانت ہی جانِ حزیں نے سہاری نہیں
کچھ اسے گفتگو کا سلیقہ نہیں آسکا آج تک
کچھ ہماری طبیعت میں بھی تو ستم سازگاری نہیں
لطف کی بات یہ ہے تواتر سے دیکھی گئی خواب میں
ایک ایسی بھی شب جو کسی نے کہیں بھی گزاری نہیں
چاہتی ہوں کہ یہ مرحلہ موت آسان کردے مگر
کیا کروں میں، مرے پاس پروانہ ء راہداری نہیں
یہ مرے نقرئی دل کی پیمک ہے اے دشمنِ سادگی
شب کی تاریک چادر کے پلو سے ادھڑی کناری نہیں
اپنی آنکھوں کو اس کے حوالے تو کر، کام بن جائے گا
کوئی ایسا مَرَض ہے شفا جس کی رب نے اتاری نہیں
عبیرہ احمد









