کہانی کا سرا

یہ تحریر 67 مرتبہ دیکھی گئی

یاد نہیں کہ اس کہانی کا سرا کب چھوٹ گیا. ایک مدت کے بعد کہانی کا خیال آیا ۔کبھی سنا تھا کہ کہانی ملکوں ملکوں سفر کرتی ہے اور اسے انتظار رہتا ہے کہ وہ کسی نئے لسانی اور تہذیبی معاشرے میں داخل ہو جائے۔اسی لیے دنیا کی کوئی کہانی اتنی اجنبی معلوم نہیں ہوتی۔یہ باتیں شاید میں نے بڑے میاں کی زبانی سنی تھیں یا گھر کے کسی اور شخص کی زبان سے۔یہ بھی سنا تھا کہ کہانی ایک نشست میں اگر نہ سنی اور لکھی جائے تو اس میں کئی کہانیاں شامل ہو جاتی ہیں اور وہ کہانی جس سے کہانی کا آغاز ہوا تھا کہیں کھو جاتی ہے۔بڑے میاں کے گھر میں کہانیاں ان گردآلود کتابوں میں تھی جو بڑی بی کہ کمرے کی طاق پر رکھی تھیں ۔کتنے مہینے کہانی کے اس سرے کو پکڑنے میں گزر گئے۔اب معلوم نہیں کہ جو سرا ہاتھ میں آیا ہے وہ کسی اور کہانی کا ہو۔کہانی کبھی اتنی گریزاں رہتی ہے کہ اس کے بہت قریب میں موجود ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔گریز کا مطلب فاصلہ تو نہیں۔قربت کا فاصلہ کتنا خطرناک ہوتا ہے۔شاید اسی لیے بڑے میاں نے مجلس میں بیٹھنے والوں کو ہدایت دی تھی کہ تھوڑا فاصلے سے بیٹھیں۔کہانی جو چھوٹ گئی تھی یا پھسل گئی تھی اس کی تلاش میں وہیں جانا چاہیے تھا جہاں سے اس کہانی کا آغاز ہوا۔بڑے میاں اور چشمے والی کی باتوں سے یہی محسوس ہوتا تھا کہ کھوئی ہوئی چیز کہیں اور نہیں مل سکتی۔جو کہانی کہیں مل جاتی ہے وہ کسی اور کی چھوٹی ہوئی کہانی ہوتی ہے لیکن کسی اور کی کہانی کو اپنی کہانی بنا لینا یہ ہنر تو چشمہ والی ہی کو آتا تھا۔اسی لیے وہ کہتی تھی کہ مجھے تحریری کہانیوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔زبانی کہانیاں کہیں اور پہنچا دیتی ہیں۔مجھے اپنی اس کہانی کے سرے کا انتظار ہے جس کو پکڑ کر کہانی کو آگے بڑھایا جا سکے۔یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں جسے اپنی کہانی کہہ رہا ہوں وہ کسی اور کی کہانی ہو جو کبھی اور کہیں کہانی کار کے ذہن سے محو ہو کر بے یار و مددگار بھٹک رہی ہو۔کہانی کتنی آسانی سے مل جاتی ہے اور اسے ناراض ہونے میں وقت نہیں لگتا۔روٹھی ہوئی کہانی ہمیشہ سچی اور بڑی ہوتی ہے۔جو کہانی رونے کی ادا سے خالی ہے اس کے بارے میں بڑے میاں کی رائے ہمیشہ محفوظ رہتی تھی۔
اسی انتشار کے عالم میں کئی ماہ گزر گئے اور کہانی کے سرے سے ملاقات نہیں ہوئی۔کہانی جو تحریر میں تھی اس کو پڑھنے کے بعد بھی کہانی کا سرا ہاتھ نہیں آیا ۔شاید کہانی اپنے مزاج اور فطرت کے اعتبار سے زبانی ہوتی ہے اور لکھے جانے سے پہلے اور لکھے جانے کے بعد وہ زبانی گفتگو کا تقاضا کرتی ہے۔میں نے سوچا کہ کہانی کی صورت میں جو خیالات ذہن میں ابھر رہے ہیں کیوں نہ انہیں لوگوں کے سامنے پیش کروں۔مگر کہانی یہ بھی چاہتی ہے کہ کہانی سنانے والا کبھی کہانی کو اس کی کہانی سنائے۔چنانچہ اپنی کہانی کی تلاش میں کہانی کو اس کی کہانی سنانی پڑی اور درمیان میں بس سنانے والی کی ایک ذات تھی جو مجھے اضافی اور غیر ضروری معلوم ہوئی۔لیکن دھیرے دھیرے کہانی اصل کی طرف رخ کرنے لگی اور یہ میرا گمان بھی ہو سکتا ہے واقعہ نہیں۔کہانی کا کوئی اپنا رنگ اور آہنگ ہوتا ہے یا کہانی اظہار کے ساتھ ہی رنگ تبدیل کرنے لگتی ہے یہ بات اس لیے یاد آئی کہ بڑھیا نانی نے ایک نشست میں یہی بات تو کہی تھی کہ کہانی سنانے سے پہلے جیسی تھی وہ سنانے کے درمیان ویسی نہیں رہتی اور جب کہانی سنا دی جاتی ہے تو پھر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی اور کہانی کا خیال ذہن پر دستک دے رہا ہے۔کہانی کا وہ سرا جو چھوٹ گیا تھا اس کی تلاش میں کتنی شامیں،اور کتنی راتیں گزر گئیں ۔ذہن اس بات کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں کہ کہانی کو اس کی کہانی سنانے کے بعد کہانی نے خود کو میرے حوالے کر دیا ہے۔کوئی شے ہے جو اب بھی ذہن سے پھسلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔مجھے اس مقام تک جانا چاہیے تھا جسے کہانی کی ابتدا کا سبب کہنا چاہیے۔لیکن خوف اس بات کا ہے کہ وہ مقام کہیں کسی اور کہانی کے آغاز کا وسیلہ نہ بن جائے۔ٹوٹے ہوئے دروازے،ٹوٹی کھڑکیاں اور گرتی ہوئی دیواریں اور وہ زمین جو درخت کے پتوں سے اٹی پڑی ہیں انہیں دیکھنا اور پرانی نظر سے دیکھنا کتنا دشوار ہے۔وہ نظر اب کوئی کہاں سے لائے،وہ لمحہ کب کا رخصت ہو گیا وہ دستکیں جو کبھی گھر کو موسیقی کا بدل بنا دیتی تھیں،کس کس بات کا ذکر کیا جائے ایک زیاں کا احساس جو کہانی کے ساتھ مزید بڑھتا جاتا ہے۔
کہانی کا سرا تحریری کہانی کے اندر بھی ہو سکتا ہے۔ادھر بہت دنوں سے کوئی خواب بھی نہیں دیکھا کچھ خواب ان دنوں آئے تھے جب کہانی کا آغاز کیا تھا۔یاد آتا ہے کے کہانی کے آغاز میں جس مٹی کے مکان کا بیان ہے وہ واقعتاً مٹی کا گھر تھا اور اسے ایک پختہ مکان کے سامنے تعمیر کیا گیا تھا جس کی دیواریں زیادہ بلند نہیں تھی البتہ ان کی موٹائی اتنی زیادہ تھی کہ اسے دیکھ کر پہلی مرتبہ تندرست گورے آدمیوں کا خیال آیا تھا۔آنگن میں تلسی کا پودا کچھ اندھیری پتیوں کے ساتھ شام کے رنگ کو زیادہ گہرا کر دیتا تھا ۔چراغ کی لو کا رخ ہوا کے ساتھ اتنا بدلتا نہیں تھا جتنا کہ سنا گیا۔مٹی کے مکان کا گورا رنگ گورے لوگوں کا رنگ تو نہیں تھا لیکن گورے رنگ کے لوگ اس علاقے میں موجود تھے جنہوں نے جنگ آزادی کی تحریک میں گورے لوگوں کا ساتھ دینے کی وجہ سے بہت پیارے معلوم ہوتے تھے۔مجھے مٹی کے گورے رنگ کے ساتھ گورے لوگوں کا خیال اتنی تاخیر سے آیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ اس گھر میں انیس نے نہ صرف جنگ آزادی کی تحریک کو اپنے علاقے میں اپنی تقریروں کے ذریعہ جلا بخشی تھی بلکہ وہ آزادی اور تقسیم کے بعد پاکستان چلی گئی تھیں اور انہیں تلسی کے پودے کے چھوٹنے کا بڑا دکھ تھا۔ انہیں دکھ تو کئی باتوں کا تھا مگر وقت نے جو سبق پڑھایا اس کے آگے کسی دکھ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ہاں یاد آیا کہ وہ اس درخت کی کوئی ایک ٹہنی اپنے ساتھ لے کر آئی تھیں جو گوتم بدھ کے گیان ورکچھ کی تھی۔وقت کے اس تیز بہاؤ میں جو لہر ان کی وجود میں اٹھ رہی تھی اس کا رخ جدھر تھا اسے آج اتنے فاصلے سے دیکھنا اور سمجھنا ممکن نہیں۔مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ شاید کہانی کا وہ سرا میرے ہاتھ آگیا ہے یا اس کے نزدیک آ جانے کا امکان روشن ہے۔

(غیر مطبوعہ ناول کے آخری حصے کی چند سطریں )

سرور الہدیٰ
نئی دہلی
15/04/2024