کوئی بھی جنگ پرانی نہیں ہوتی

یہ تحریر 100 مرتبہ دیکھی گئی

جنگ چھوٹی ہو یا بڑی اس کے مقاصد تھوڑے فرق کے ساتھ ایک جیسے ہوتے ہیں۔جنگ زمین پر لڑی جائے یا ذہن میں دونوں کی روداد ایک جیسی تو نہیں لکھی جا سکتی۔کبھی تمام عمر ذہن میں یا ذہنی سطح پر لڑی جانے والی جنگ انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔وہ بھی اس صورت میں جب کہ اس کی بنیاد تعصب،نفرت اور تنگ نظری کے دوسرے حوالوں پر رکھی گئی ہو۔جو جنگ زمین پر لڑی جاتی ہے اس میں دشمن سامنے ہوتا ہے اور لازماً رد و قبول کی ایک بدلتی ہوئی صورت موجود ہوتی ہے۔ذہن میں جو جنگ جاری ہے اس سے بھی زمینی جنگ کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ذہن میں جو معرکہ جاری ہے وہ اپنے غیاب کی وجہ سے ہار اور جیت کی صورت کو یا صورت حال کو ابھرنے کا موقع نہیں دیتا۔جنگوں کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نئے انداز سے سوچا جا سکتا ہے۔جن لوگوں نے سوچا ہے ان کی تحریریں اور کتابیں بہت کم موضوع گفتگو بن سکیں۔ اسی طرح کی ایک کتاب forgeten voices ہے۔ میکس آرتھر کی یہ کتاب 2002 میں شائع ہوئی جس کا تعلق دوسری جنگ عظیم سے ہے۔ آ رتھر کو ایک فوجی تاریخ داں،مصنف اور اداکار کے طور پر جاننا جاتا ہے۔اپنے دور کی جنگی یادداشتوں کو سمیٹنے اور انہیں سجونے کے سلسلے میں ان کی ایک خاص اہمیت ہے۔انسانی اور تہذیبی زندگی کا یہ پہلو سب سے زیادہ انسانی بھی ہے اور اخلاقی بھی۔وہ بھی اس صورت میں کہ جنگ سے متعلق بھولی ہوئی ان یادوں کو ضبط تحریر میں لایا جائے جنہیں فراموش کیا جا چکا ہے۔ جنگ کے دنوں کی یادیں ہماری تہذیبی زندگی کا اہم ترین حوالہ ہیں ۔یادیں وہ بھی ہیں جو جنگ کرنے والوں نے لکھی ہیں۔جنگ سے انسانی معاشرے پر جو قیامت گزری اس سے متعلق یادیں بھی موجود ہیں۔ان یادوں میں اشتراک کا پہلو بہت مشکل سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔جنگ کے دنوں کی یادیں الگ الگ طرح سے تحریر کو زمانی اور لازمانی بنا دیتی ہیں۔
زمینی اور ذہنی سطح پر لڑی جانے والی جنگ کبھی ساتھ ساتھ چلتی ہے تو کبھی اکیلی ہو جاتی ہے۔اس جنگ میں وہ زمین بھی شامل ہو جاتی ہے جس کی انسانی اور اخلاقی قدر پر رشک کیا جا سکتا ہے۔زمین فطری طور پر انسانی اور اخلاقی ہوتی ہے۔ اسے پامال کیا جاتا ہے۔میر نے بہت پہلے کہا تھا۔
بوئے آدم ہی ہے تمام زمیں
پاؤں کو ہم سنبھال رکھتے ہیں
میر کے ذہن میں کسی جنگ کا خیال تھا یا انہوں نے یہ سوچا تھا کہ فطری طور پر زمین آدم کی خوشبو سے مامور ہے بلکہ زمین کو آدم ہی کہنا چاہیے۔جب کبھی زمین پر لڑی جانے والی جنگ کا ذکر آتا ہے تو میر کے اس شعر کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔کتنا بڑا شعر ہے،اور کتنا اجنبی سا ہے۔پاؤں کو زمین پر سنبھال کر رکھنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔جنگ جو ذہن میں جاری ہے اس کے بارے میں کوئی بھی تحقیق کتنی معتبر ہو سکتی ہے۔زمین اور ذہن دونوں دو علاقے کا نام ہے۔قطع زمین کی ترکیب تو وضع کر لی گئی لیکن قطع ذہن کی ترکیب ابھی وضع ہونا باقی ہے۔کیا عجب کہ وہ وجود میں آ بھی گئی ہو اور اسے باریابی کا موقع نہ ملا ہو۔زمینی جنگ ابتدا سے قبل ذہن میں بھی موجود ہوتی ہے۔ معلوم نہیں کہ زمینی جنگ کا خاکہ تیار کرتے ہوئے ذہن کس کرب سے گزرتا ہوگا۔کہا جاتا ہے کہ جنگ کی پہلی منزل ذہن ہے جو جنگ کا خاکہ تیار کرتے ہوئے غیر جذباتی رویہ اختیار کرتا ہے۔ذہن جنگ کا خاکہ اس وقت بھی تیار کرتا ہے جب اسے زمینی سطح پر لڑنا نہیں ہوتا۔ سنا ہے کہ بزدل اور کمزور لوگ میدان جنگ سے بھاگ جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ نجات کی راہ تو صرف ذہنی سطح پر جنگ کو جاری رکھنا ہے۔ کوئی ایسی سائنس بھی آئے جو جنگجو ذہن کو بہتر طور پر دنیا کے سامنے لا سکے اور یہ بتا سکے کہ جنگ کا منصوبہ بنانے والا ذہن کب کس طرح سوچتا ہے۔جنگ سے وابستہ ذہن کس طرح ذہنی سطح پر ایک علاقہ آباد کر لیتا ہے۔یہ چھوٹا سا علاقہ کتنا بڑا بن جاتا ہے۔

ذہن اور زمین دونوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ
ذہن اور زمین دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت
قربت اور فاصلے کی سیاست
جنگ اور ذہن
جنگ اور زمین
زمین کے سینے کا چاک چاک ہو جانا
اور دیکھتے دیکھتے دامن کا دریدہ ہو جانا
جنگ ذہن میں جاری ہے یا زمین پر
اس نے کہا تھا یا میں نے سوچا تھا
جنگ کی کہانی جنگ کے دنوں کی روداد
زمین کا لال ہو جانا
کسی اور علاقے میں دل کا سخت ہو جانا
معلوم نہیں جنگ کے بارے میں یہ چند سطریں کب اور کس طرح ذہن کے نہاں خانے میں اتر آئیں۔

میں سوچتا تھا بلکہ سوچتا ہوں کہ جنگ کے علاوہ کسی موضوع پر کوئی کتاب نہیں پڑھوں گا۔میں اپنے اس فیصلے پر قائم ہوں لیکن فیصلہ کسی کتاب کے سامنے آتے ہی کچھ کمزور سا ہو جاتا ہے اور پھر یہ ہوتا ہے کہ اس کتاب میں جنگ کی کوئی لہر یا جنگ سے متعلق کوئی فقرہ تلاش کرنے لگتا ہوں یا وہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ ادھر کئی ایسی کتابیں مطالعے میں آئیں جن کا موضوع جنگ ہے۔یہ کتابیں تاریخ اشاعت کے اعتبار سے بہت پرانی ہو چکی ہیں اور وہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی طرف لے جانا چاہتی ہیں۔انہی کتابوں میں کہیں لکھا تھا کہ
“کوئی بھی جنگ پرانی نہیں ہوتی”
جنگ کے بارے میں کسی ورق یا فقرہ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سر انگشت سے کچھ قطرات خوں ٹپک رہے ہیں۔اشرف علی خان فغاں نے اپنی شعریات کی روشنی میں ایک شعر کہا تھا۔
سر انگشت سے قطرات خوں اب تک ٹپکتے ہیں
کف پاپر تری رنگ حنا یا خون بسمل ہے

“تو قطرات خوں زمانی فاصلے کے باوجود پرانے کاغذات سے ٹپک رہے ہیں۔
جنگ زمین پر جاری تھی اور اس نے سوچا تھا کہ ذہن میں جاری ہے
اس نے ٹھیک ہی سوچا تھا”۔
یوں دیکھیں تو جنگ کے بارے میں کوئی بھی رائے اسی وقت معتبر ہو سکتی ہے جب جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہو۔جنگ کے درمیان جو حکمتیں اختیار کی گئیں ان کے بارے میں ہمارا علم اگر زیادہ بھی ہو جائے تو اس سے کیا ہوتا ہے۔زندگیاں واپس نہیں آتیں ۔
اگر جنگ کی تاریخ نہیں لکھی جاتی تو کیا ہوتا ہے۔جو تاریخ لکھی گئی اس سے ہمارا رشتہ کیسا اور کس نوعیت کا ہے۔جنگ کی تاریخ لکھتے لکھتے جو انگلیاں تھک چکی ہیں انہیں دیکھنے اور چومنے کی خواہش۔اذہان تھک چکے ہیں لیکن جنگ کا سلسلہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔جنگ کی تاریخ میں وہ آوازیں بھی پوشیدہ ہیں یا ہو سکتی ہیں جو کبھی سنی نہیں جا سکیں ۔جنگ کی تاریخ کو پڑھتے ہوئے اب کسی کا دل بھی تو نہیں دھڑکتا۔
٫٫جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں؛
جنگ کی تاریخ لکھنے کی شرطیں
جنگ کی تاریخ کو پڑھنے کے آداب
جنگ کی تاریخ کہیں لفظ کی تاریخ نے بن جائے

ذہن کب سے جنگ اور لفظ کی تاریخ میں الجھا ہوا ہے
جنگ جاری رہتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔جنگ کے درمیان کا ہر لمحہ اتنا غیر اخلاقی اور غیر انسانی ہے کہ اس کی مذمت کے لیے ابھی تک لفظ ایجاد نہیں ہو سکا ۔
سوچتا ہوں کہ صرف جنگ کے بارے میں سوچا جائے اور پڑھا جائے۔وہ اس لیے کہ ایک آسودہ اور اپنے حال پر قانع زندگی کچھ شرمندہ ہو سکے کہ دنیا میں کیسا شور و شر مچا ہوا ہے اور ہم کس ذہن سے ادب کے بارے میں ، زبان کے بارے میں بلکہ زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
جنگ جو ذہن میں جاری ہے اس کی اور بھی کئی صورتیں ہیں جو انسانی زندگی کو قوت پہنچاتی ہیں۔یہ وہ جنگ ہے جو ایک ٹھہرے ہوئے معاشرے سے ناراضگی کے سبب ہے۔ذہن کتنا فعال ہو سکتا ہے کہ وہ اذہان کو نئے انداز سے سوچنے پر آمادہ کر سکے۔معلوم نہیں کیوں ایسا ذہن دھیرے دھیرے اجنبی ہوتا جا رہا ہے یا خود ہی کنارہ کش۔ جس ذہن سے ہمارا سابقہ ہے وہ نہ جاگ رہا ہے اور نہ سو رہا ہے۔ ہم ایک ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جو تاریخ میں پہلے بھی رونما ہوئی ہوگی۔مگر یہ صورت حال تو بہت ڈراتی ہے۔ڈر ٹھہرے ہوئے ذہن سے ہے اس ذہن سے نہیں جس میں ایک جنگ جاری ہے۔جنگ کی اس صورت سے بھی ڈر لگتا ہے کہ صبح سے شام تک اس میں صرف اپنی ہی ذات کا رن پڑ رہا ہو۔
“جنگ کی تاریخ کبھی پرانی نہیں ہوتی۔
جنگ زمین پر جاری ہے یا ذہن میں
کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔
دھوپ آج بھی تیز بہت تھی
کہیں کمرے میں ٹھنڈی ہواؤں نے وجود کو کٹنا آسودہ کر دیا تھا۔
ٹھنڈی ہواؤں کو گرم ہواؤں سے کتنی نفرت ہے
جنگ ٹھنڈی ہواؤں کے درمیان کہاں لڑی جا سکتی ہے

زمینی اور ذہنی سطح پر ایک ساتھ اگر جنگ جاری ہو تو اسے سنبھالنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔لیکن ان کے لیے جنہیں جنگ کی حکمت کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقیات کا بھی علم اور احساس ہے۔دشمن کوئی خود ہی بن جائے تو کیا کیا جائے۔اپنی ہی ذات کو دشمن سمجھنے اور بنانے کی روایت اس دشمن اور دشمنی سے تو بہتر ہے جو زندگیوں کو رسوا کرے۔یہ اور بات ہے کہ اپنی ذات کا زیاں بھی صرف اپنی ذات کا زیاں تو نہیں ۔یہ کس نے کہا تھا اور کیوں کہا تھا
اے دل ہزار نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کازیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
جنگ کی تاریخ زیاں کی تاریخ ہے
جنگ کی تاریخ جس زبان میں لکھی جاتی ہے وہ زبان کچھ اور بھی کہتی ہے۔
جنگ کی تاریخ میں لفظ کی تاریخ پوشیدہ ہے
یا لفظ کی تاریخ میں جنگ کی تاریخ پوشیدہ ہے
جنگ کی تاریخ کی زبان کتنی سفاکانہ اور بے دردارانہ ہے۔شاید نہیں یہ تو ہمارا احساس ہے
لفظ جنگ کی تاریخ سے گریزاں رہتا ہے
وہ نہیں چاہتا کہ اس کی تاریخ لہو لہان ہو جائے
میں شاید بھٹک گیا ہوں۔خطرہ تو تھا کہ بھٹک جاؤں گا جنگ سے متعلق کتابوں کو پڑھنے کا تجربہ کس قدر مختلف ہے۔افسانے اور شاعری کی کتابیں کتنی دور ہوتی جا رہی ہیں۔خود انہیں لگتا ہے کہ اب ان کی دنیا سمٹنے لگی ہے۔جنگ کا زمانہ اور جنگ کی ہوائیں۔
نگاہ کہاں تک جا سکتی ہے نگاہ کہاں تک جائے گی اور نگاہ کو کہاں تک نہیں جانا چاہیے۔
تاریخ اور جنگ کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ نگاہ کس قدر کوتاہ ہے اور خشک بھی۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا جنگ کی تاریخ جو زبانی تاریخ سے بنی ہے اس کی طاقت کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔علم وادب کی دنیا میں جو معرکے ہوئے انہی سے ہمارا ذہن آشنا ہے۔

سرور الہدٰی
5 مئی، 2024