وہ اور میں

یہ تحریر 107 مرتبہ دیکھی گئی

وہ: پرندوں کی آوازوں میں ادب کے مختلف اسالیب پوشیدہ ہیں۔معلوم نہیں کہ پرندے اپنی زبان میں کیا کہتے ہیں. پرندوں پر جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ بہت ہی دلچسپ ہیں۔ کئی ناول وجود میں آئے ۔شاعری میں بھی پرندوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔میں اسی سوال کی طرف لوٹتا ہوں کہ اگر ادب کے مختلف اسالیب ہیں تو تنقید کے بھی کئی اسالیب ہو سکتے ہیں.

میں: مجھے آ پکےسوال کا اس دن بھی خیال تھا۔ دن دھیرے دھیرے شام سے قریب ہو رہا تھا . جے این یو کی شام یوں بھی بہت مختلف دکھائی دیتی ہے ۔ درختوں اور پتھروں کے درمیان ہلکی تیز روشنی شام کو کچھ زیادہ روشن کرنے کے بجائے اپنے دامن میں دن کے اجالے کو چھپا لیتی ہے۔لیکن یہ منظر دیکھنے سے زیادہ محسوس کرنے کا ہے۔میں چاہتا تھا کہ شام کے بھیگنے سے پہلے گفتگو مکمل ہو جائے لیکن کیا کوئی گفتگو مکمل ہو سکتی ہے اور وہ گفتگو جس میں یادیں شامل ہو جائیں۔ شام کے بھیگنے کا منظر دھییرے دھیرے شفق کی لالی کے ساتھ نمایاں ہو رہا تھا ۔ یہ بھی دیکھیے کہ اس دن کو گزرے کتنے دن ہو گئے مگر وہ کچھ اس طرح گزرا ہے جیسے کے موجود ہو ۔میں ذہنی طور پر اس وقت سے باہر ہونا چاہتا ہوں تاکہ آ پکے اس سوال کا جواب دے سکوں ۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ وہاں دھند کی کوئی چادر سی تھی جس سے باہر ہونا ممکن نہیں تھا ۔اور وہ گفتگو کے ساتھ پھیلتی چلی جاتی تھی۔ وہاں ذہن کی اس ساخت کا خیال نہیں آیا جس کے بارے میں کچھ پڑھتے اور غور کرتے ہوئے کئی کتنے دن بیت گئے۔معلوم نہیں تھا کہ جس فضا میں ذہن کی ساخت تشکیل پاتی ہے وہاں بیٹھ کر اسے کوئی نام دینا مشکل ہے ۔یہی وہ ساخت ہے ،جو ادب کی تفہیم کے عمل کو دھندلا دیتی ہے ۔ذہن کی اس ساخت کا مطالعہ بھی دھند کی زد میں آ جاتا ہے ۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ذہن کی وہ ساخت جو کسی دھند کی زد میں ہے وہ اپنے حال پر قانع اور اور علاقے میں کتنی مطمئن اور آسودہ رہی ہے۔اسے اس بات کی فکر نہیں کہ کسی منظر کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ایک وہ زاویہ اور انداز بھی ہے جسے شفاف دنیا کا تجربہ کہا جا سکتا ہے۔لیکن مشکل یہی ہے کہ ذہن کی یہ ساخت پرندے کی آواز کے ساتھ کسی اور طرح سے رشتہ قائم کرلیتی ہے۔ذہن کی اس ساخت کو سمجھنا کتنا دشوار ہے یہ اپنی جگہ سے ہٹتی ہی نہیں۔ شدید احساس کی دنیا کا کوئی رشتہ ذہن کی ساخت سے ہے یا نہیں احساس کی شدت سے بڑی طاقت اور کیا ہو سکتی ہے ۔ذہن کی ساخت کبھی موسیقی کے ساتھ خود کو توانا محسوس کرتی ہے ۔ اسے موسیقی میں خاموشی اور تنہائی کا پہلی مرتبہ سراغ ملا تھا۔موسیقی بھی اپنے ساتھ احساس کی شدت کو لاتی ہے ۔ لیکن موسیقی کا بھی ایک سے زیادہ اسلوب ہے ۔ اس نے مصوری کو کبھی سب کچھ جانا اور سمجھا اور اس سے حقیقت کی نئی تعریف دریافت کی۔ کبھی اس نے باہر کے شور سے اندر کے شور کا جائزہ لیا اور کبھی اس نے اندر کے شور کو باہر کے شور سے الگ سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کی۔ذہن کی یہ ساخت سائنس کی ساخت نہیں ہو سکتی۔اس ساخت کو ساختیات سے کیا نسبت ہے، کبھی اس پر غور بھی کیا تو ساخت نے منع کر دیا ہر ساخت کی کوئی ساختیات ہوتی ہے لیکن ذہن کی ساخت کی شاید کوئی ساختیات نہیں۔ساختیات نے فکر و خیال کی دنیا کو متزلزل کر دیا تھا۔یہ نتیجہ تھا اس غرور کے انجام کا جس نے کبھی مصنف کی شکل میں تو کبھی کسی اور مقتدرہ کی صورت میں اپنی خدائی کا اعلان کیا ۔ساختیات نے خاموشی کے ساتھ متن سے اٹھنے والی لہروں کو زبان کی ساخت اور کلچر سے وابستہ کر دیا ۔لکھنے والا ایک وسیلہ ہے۔ زبان کی ساخت ہی سب کچھ ہے جو فطری طور پر اور اپنے طور پر فعال ہے ۔غرور کا انجام ایک نہ ایک دن تو اسی طرح کا ہوا کرتا ہے۔ذہن کی ساخت کا کوئی غرور ہے یا نہیں کہنا مشکل ہے۔اسے تو خاموشی کے ساتھ اپنی ساخت پر ناز کرنا ہے۔آپ کے سوال کا ایک رشتہ ذہن کی اس ساخت سے بھی ہے۔کیا اسے اسلوب کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے ؟ کیا ساخت کے اظہار کی جو زبان ہوگی وہ اسکی اپنی زبان ہوگی جسے دوسری ساخت کی زبان سے الگ کیا جا سکے، یا الگ دیکھا جا سکے۔مجھے ایک عرصے سے ذہن کی ساخت نے پریشان کر رکھا ہے اب مجھے یاد نہیں کہ ذہن کی ساخت کا پہلی مرتبہ کب احساس ہوا تھا۔ک کوئی کتاب تھی یا کوئی گفتگو جس نے ذہن کے ایک نامعلوم علاقے سے روشناس کرایا ۔یعنی ذہن کی بھی کوئی ساخت ہوتی ہے جو ادب کے کسی موضوع پر سوچتے اور غور کرتے ہوئے اپنے سیاق کو نظر انداز نہیں کرتی۔سنا ہے یا سنا تھا کہ ذہن کی ساخت کبھی کبھی ذہن کو جامد کر دیتی ہے اور فکر و خیال کی سطح پر تازہ ہوائیں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں ۔لیکن وقت کے ساتھ یہ تجربہ بھی ہوا کہ ذہن کی ساخت ایک طرح کی نہیں ہوتی۔کسی تخلیق کار کے ذہن کی ساخت نقاد کے ذہن کی ساخت سے مختلف ہوتی ہے اور لازماً ایک حساس قاری کا ذہن نقاد اور تخلیق کار کے ذہن سے کچھ الگ ہوتا ہے۔کھبی تخلیق کار کا ذہن اور ذہن کی ساخت نقاد کے ذہن کا پتہ دیتی ہے، اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی حساس قاری ایک ہی وقت میں نقاد و تخلیق کار سے اپنے ذہن کی ساخت کو قریب محسوس کرتا ہے۔یہ بات بھی اہم ہےکہ تخلیق کا رشتہ کس صنف سے ہے اور اس صنف کا تاریخی اور تہذیبی سیاق کیا ہے۔ ذہن کی ساخت جمود کی سطح تک آجائے تو اسے محرومی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ایسے میں ادب کا کوئی نیا اسلوب یا پرانے اسلوب میں زندگی کے آثار اسے مضحکہ خیز معلوم ہوں گے۔ایک بات کہنے کی کوشش میں کتنی دشواری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دشواری سوال میں نہیں بلکہ سوال کے جواب میں ہے۔ گو کہ سوال کا جواب بھی آسان ہو سکتا ہے. مجھے آئی اے رچرڈس کی کتاب principles of literary criticism کا خیال آتا ہے۔جس میں میموری کے تعلق سے کئی اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔رچرڈ نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ کوئی ایسی ذہنی سرگرمی نہیں جس میں یادداشت کا عمل دخل نہ ہو۔ان کا خیال ہے کہ یہ بات تصویروں کے تعلق سے زیادہ بہتر طور پر سمجھی جا سکتی ہے اس لیے کہ ہم اس حقیقت سے زیادہ واقف ہیں۔ساتھ کے تعلق سے نفسیات زیادہ حساس رہی ہے۔انہوں نے اس نکتے کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ہر قسم کی حس سے متعلق کوئی تصویر ہو سکتی ہے۔ریچرڈس نے اپنے دوسرے attitudes کے آغاز میں یادداشت کے تعلق سے اس نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ یادداشت صرف احساس اور جذبے تک محدود نہیں ہے وہ تمام قسم کے فعال رویوں میں یکساں طور پر دخیل ہے۔
یادداشت کا مستقبل کیا ہوگا کسے معلوم ہے پھر بھی یاداشت کا حال مستقبل کی طرف کچھ نہ کچھ اشارہ ضرور کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یادداشت کا کوئی مستقبل نہیں ہے تو اس کا مطلب اور کیا ہو سکتا ہے کہ گزرتا ہوا وقت اپنے طور پر یادداشت کے ساتھ معاملہ کرے گا اور عین ممکن ہے کہ یہ معاملہ سفاکانہ ہو۔وقت اپنی رفتار کےساتھ نہ جانےکیا کچھ لےجاتا ہے۔جو چھوٹ جاتا ہے شاید اسی کا نام یادداشت ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ وقت اپنے ساتھ لے گیا ہے اس میں کوئی حصہ یادداشت کا بھی ہو۔وقت کے ساتھ یادداشت بھی پہلے جیسی نہیں رہتی اس کا مزاج یوں تو بدلتا نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ وہ وقت ہی کیا جو یادداشت کو کچھ نہ کچھ تبدیل نہ کر دے یادداشت کی تبدیلی یا یادداشت میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ انسان ماضی کو اور حال کو کچھ غیر جذباتی انداز میں دیکھنے لگتا ہے اور وقت ہی اس رمز کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جذباتیت سے زندگی کبھی کبھی بلکہ اکثر اوقات مشکل ہو جاتی ہے۔یادداشت کا کوئی ماضی ہوتا ہے۔اگر کوئی ماضی نہ ہوتا تو یادداشت بھی کہاں ہوتی۔ یادداشت کا جو حال ہے وہ زیادہ اہم ہے اس شخص کے لیے جس کی یادداشت ہے ۔ماضی صرف یادداشت کا ہی نہیں بلکہ اشیاء اور تصورات کا بھی ہے۔کوئی بھی شے اور تصور ایک ہی طرف سے اپنے ہونے کا ثبوت نہیں دیتی ہم جس شے کو دیکھنے کے بعد اس کے اس کی طرح ہونے اور قائم رہنے کا دعوی کرتے ہیں یہ دراصل ایک طرح کا التماس ہے۔ہماری یادداشت کی تعمیر اور تشکیل میں اشیاء اور تصورات کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔آئ یے رچرڈس کی بات مان لیں تو یادداشت سے زندگی کا کوئی بھی عمل خالی نہیں ہے۔حال کے بارے میں سوچنا اور لکھنا دراصل ماضی میں چلا جانا ہے۔یہ ایک ایسی منطق ہے جس کی کوئی منطق نہیں۔یادداشت کو کھرچ کر پھینکنے والے لوگوں کی تاریخ بھی موجود ہے۔پچھلی ملاقات میں ہم لوگ درختوں کے درمیان تھے۔ پرندوں کی آوازیں یادوں کا جشن ہیں یا اس کا نوحہ ہیں۔اس دن تو پرندوں کی آوازوں کے ساتھ نوحے اور دکھ کا خیال کم کم آیا یا نہیں آیا تھا۔
پرندوں کی آوازیں جب ایک ساتھ سنائی دیتی ہیں تو پھر کسی اور شور کا خیال نہیں آتا ۔اسے بے ہنگم شور کہنا اچھا نہیں لگتا۔آوازوں کے شور کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ شام کا ہے جب پرندے گھر کی طرف لوٹ جاتے ہیں یا انہیں تھوڑی دیر کے لیے کہیں رک کر اپنی قوتوں کو یکجا کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مجھے نہیں معلوم کہ پرندوں کی زندگی میں ماندگی کا کوئی اور وقفہ بھی اس طرح آتا ہوگا۔کچھ پرندوں کا مقدر شام میں بھی آوارگی ہے ۔جنگل میں اگر کبھی شام ہو جائے تو وہ شام دوسری شاموں سے بہت مختلف ہوتی ہے۔پرندوں کی شامیں ہمیشہ ایک جیسی تو نہیں ہوتی ہوں گی۔گھنے جنگل میں یا گھنے درختوں کے درمیان پرندے دن میں بھی کچھ اس طرح چہچہاتے ہیں کہ جیسے شام ہو گئی ہو۔کبھی ان آوازوں کو سن کر یہ خیال آتا ہے کہ کیا عجب! یہ ایک دوسرے کو دن بھر کی کارگزاریاں بتا رہی ہوں ۔یہ آوازیں سب مل کر شاید کسی ایک آواز میں تبدیل ہو جاتی ہوں گی۔یا پھر انہیں اس بات کا دکھ ہوگا کہ جنگلوں اور درختوں کو کاٹنے والے ان کی زبان کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔پرندوں کی ہجرت بھی انسانی زندگی کا ایک تجربہ ہے۔پرندے کسی خاص موسم میں سرحدوں کو عبور کر لیتے ہیں اور ان کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں۔پرندوں نے جغرافیہ کا ایک اپنا مفہوم متعین کیا ہے اور ہجرت کا بھی۔کچھ پرندے مختلف ملکوں اور شہروں میں اپنے وطن کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہیں ان کے رنگوں اور بناوٹ کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔شاید بناوٹ سے کہیں زیادہ رنگ ہی ان کی پہچان ہے۔لیکن عجیب قصہ ہے کہ کچھ پرندوں کو چھوڑ دیں تو تمام پرندوں کی آوازیں ایک ہی طرح سے اپنی نغمگیت اور موسیقیت کا اعلان کرتی ہیں۔ناصر کاظمی نے فاختہ کو سرنگوں دیکھا اور دکھایا تھا اور پھول کو پھول سے جدا۔یادیں انسانوں کی طرح پرندوں کی بھی ہوتی ہوں گی ۔ان کا آشیانہ بدلتے وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے یا بدل جاتا ہوگا۔ آشیانہ ہی دراصل یادوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ تہذیبی زندگی میں ہجرت کا عمل اور احساس مقام کی تبدیلی ہی سے شروع ہوتا ہے اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب ہجرت انسانی ذہن کا ایک مستقل عنوان بن جاتی ہے اور پھر آشیانہ میں بیٹھ کر بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی سفر میں ہے۔یادیں کبھی اپنی فراوانی کی وجہ سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے درمیان کشمکش اور کشاکش کی کیفیت یہ بتاتی ہے کہ ایک وہ وقت بھی ہے جو داخلی طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔اسی لیے یادداشت کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں عابد سہیل نے اپنی خود نوشت کا نام “جو یاد رہا ” بے وجہ تو نہیں رکھا تھا. یادداشت کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔Joan Walsh Anglund کی نظموں کا ایک مجموعہ A slice of snow ہے۔یہ چھوٹی اور مختصر نظمیں اتنی مختصر ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔یادداشت کے بارے میں صفحہ 35 پر یہ الفاظ ہیں
Memory
has many hollows….
Let me hide
In one
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم تمام عمر یادداشت میں فطری طور پر پائے جانے والے سوراخ اور گڑھے کو بھرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اس طرح کسی ایک جگہ پر اسے چھپانا چاہتے ہیں۔پرندوں کو شاید زیادہ بہتر طور پر ان حقائق کا علم ہوگا۔

سرور الہدیٰ
جامعہ کی ایک شام
18/03/2024