نظم

یہ تحریر 96 مرتبہ دیکھی گئی

کمی ہے مجھ میں بہت قوت
ارادی کی
کمی ہے مجھ میں بہت قوت ارادی کی
یہ بات کس نے کہی کب کہی نہیں معلوم
نہ جانے کب سے یہ احساس دل دکھاتا ہے
نہ جانے کب سے یہ احساس جگمگاتا ہے
یہ مجھ میں کون چھپا ہے جو میرا ہو نہ سکا
جسے میں غیر سمجھتا ہوں میری ذات نہ ہو
جسے میں اپنا سمجھتا ہوں میرا غیر نہ ہو
یہ ہونے اور نہ ہونے کا سلسلہ کیا ہے
یہ مجھ میں کون چھپا ہے کہ جس کے ہونے سے
قرار دل کو ہے حاصل نہ بے قراری ہے
مگر یہ جنگ مسلسل ہے اور جاری ہے
دھواں سا اٹھتا ہے لیکن کہیں دھواں تو نہیں
سنا تو تھا کہ دھواں لوٹ کر نہیں آتا
یہ کیسی شے ہے جو پھرتی ہے اب نگاہوں میں
دھواں کو دھند بھی کہتے ہیں
اور نہیں کہتے
دھوئیں میں شکل جو پھرتی ہے
وہ دھواں تو نہیں
اک ایسی شکل جو دل سے ذرا مشابہ ہے
وہ ایک فیصلہ عجلت میں ہو گیا تھا کبھی
وہ فیصلہ جسے ہونا تھا سرخرو اک دن
وہ دن تو آ بھی چکا رات کی سیاہی میں
کمی ہے مجھ میں بہت قوت ارادی کی
میں مانتا ہوں مگر تم کو کون سمجھائے
ہے ایک اور بھی قوت جو خامشی کی ہے
ہے ایک اور بھی طاقت
جو چھپ کے بیٹھی ہے
سخن کی آخری صف میں
سخن کی شدت میں

جو قوتیں مجھے حاصل ہیں
ان کے بارے میں
جو کچھ کہوں بھی تو پھر خامشی در آئے گی

یہ بات کس نے کہی کب کہی نہیں معلوم
نہ کوئی غیر ہے میرا نہ کوئی اپنا ہے
جو کچھ کہوں تو وہ کچھ اور بولنا چاہے
کہیں چلوں تو وہ صدیوں کا فاصلہ چاہے
یہ مجھ میں کون چھپا ہے جو میرے ہونے سے
کبھی تو خوش ہے بہت اور کبھی ہے خوف زدہ
مگر اسی سے مسلسل ہے گفتگو جاری
یہ میری ذات کا ہے غیر یا کے ذات مری
یہ کیا ضرور کہ اس کو بھلا سا نام بھی دیں
یہ لفظ غیر بھی کتنا عجیب لگتا ہے
غیاب جس کو سمجھتے ہیں کوئی غیر نہ ہو
یہ فلسفہ ہے کوئی یا کوئی کہانی ہے
یہ اس کے اور مرے ہونے کی نشانی ہے

سرور الہدی
26 مئی 2024
دہلی