سوچ لیں اور اداس ہو جائیں

یہ تحریر 143 مرتبہ دیکھی گئی

آج کی صبح بھی دہلی کی کئی صبحوں کی طرح دھند سے بھری ہے۔صبح جب روشن نہ ہو تو وہ کسی اور وقت کا پتہ دیتی ہے۔یہ دھند کہاں سے آتی ہے اور کہاں کو جاتی ہے اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے، اور جو معلوم ہے وہ بھی کسی نامعلوم شے کا پتہ دیتی ہے۔ اب دن چڑھنے لگا ہے یا اٹھنے لگا ہے۔ دن بھی کہاں ہو پاتا ہے کہ رات آ جاتی ہے۔ دھند سے بھرا موسم ہلکی ہوا اور ہلکی بارش کے ساتھ کتنی اداسی کو ساتھ لاتا ہے۔ اداسی میں سرشاری موجود ہوتی ہے یا سرشاری بنیادی طور پر اداسی کا دوسرا نام ہے۔ بالاخر ہمیں اداس ہو جانا ہے یا اداسی کو وقتی طور پر کوئی اچھا سا نام دینا ہے۔ ویرانے کو کوئی اچھا سا نام دینا ویرانی کے ساتھ نا انصافی تو نہیں ہے۔ سارا مسئلہ تو نام دینے کا ہے۔ اس وقت نام ہی ہماری تہذیبی زندگی کی علامت بن گیا ہے۔ نام میں کیا رکھا ہے؟ یہ بات کس نے کہی تھی؟ بات سچ تھی مگر آج وہ سچائی کسی اور طرح سے غور کرنے کا بہانہ تلاش کر رہی ہے اور وہ بھی دھند کی زد میں ہے۔ایک موسم جو دن کا ہے وہی رات کا موسم بن جاتا ہے۔یا معلوم ہوتا ہے اداسی کہاں سے آتی ہے۔ آتی ہے بھی یا نہیں جہاں سے آتی ہے۔ اپنے ساتھ کیا لاتی ہے۔ ایک موسم جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ آج کا دن سرشاری کا ہے یا اداسی کا۔یوں ہی کچھ خیال سا آیا اور خیال نہ جانے کتنے خیالات کو دستک دینے لگتا ہے۔ خیالات ارتعاشات بن جاتے ہیں لیکن ایسا اکثر نہیں ہوتا۔ ہلکی ہلکی بوندیں دھند کو کم کرتی ہیں اور موسم کچھ بھیگ سا جاتا ہے۔ ایک موسم جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔اس موسم کے بارے میں میں نے جتنا پڑھا ہے یا سوچا ہے یا محسوس کیا ہے اس میں شمیم حنفی کی گفتگو کا بہت اہم حصہ ہے۔ شمیم حنفی نے شہر کے بارے میں اور فرد کے بارے میں جتنا پڑھا سوچا اور محسوس کیا تھا وہ ہماری علمی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ انہوں نے شہر کے بارے میں کتنے ہی تخیلاتی اور تخلیقی جملے خلق کیے۔ یہ جملے مجھے اشعار کی طرح یاد ہیں۔ انہی جملوں کو پڑھتے اور سنتے ہوئے مجھے شہروں اور لوگوں کی پہچان کا کچھ سراغ ملا۔ یہ حصول یابی ایک ایسے شہر میں ہوئی جس کا موسم بہت جلد بدل جاتا ہے۔ جب گرمی کا موسم رخصت ہو رہا ہوتا اور سردی کے موسم کی آمد آمد ہوتی تو شمیم حنفی صاحب کہتے کہ سرور موسم بدل رہا ہے۔ یہ جملہ کتنے موسموں کا پتہ دیتا تھا۔ زندگی کے بدلتے رویے زندگی کی بدلتی قدریں نہ جانے کیا کچھ یہ ایک جملہ اپنے دامن میں سمیٹ لیتا تھا۔

آج جب گھر سے نکلا تو خیال آیا کہ شمیم حنفی صاحب نے کب یہ جملہ کہا تھا؟اور بدلتے موسم کے ساتھ ہمیشہ ایک نئی جہت کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ کئی ہفتے ہو گئے شمیم صاحب کے گھر جانا نہیں ہوا۔ میرے گھر سے فاصلہ بھی کچھ زیادہ نہیں ہے۔پیدل چلوں تو 10 سے 15 منٹ میں پہنچ جاؤں گا۔ لیکن اس کے لیے قدموں کی رفتار کچھ تیز کرنی ہوگی۔ ان کے گھر جاتے ہوئے کبھی میرے قدم تیز ہو جاتے ہیں تو کبھی سست۔ خیالات کا اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں اتا اور جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ بھی اکثر اوقات خیال کی دنیا سے کہیں دور علاقے میں جا بستا ہے۔ خیال کی دنیا خود ہی ایک ایسا علاقہ ہے جس کے بعد شاید کسی اور دنیا کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ ایک خیال ہی تو ہے جو بے چین رکھتا ہے۔ تو آج قدم شمیم حنفی صاحب کی گھر کی طرف کو اٹھنے لگے۔ میں نے بہت کم فون کر کے انہیں بتایا ہے کہ میں گھر ا ٓرہا ہوں لیکن آج صبا شمیم حنفی صاحبہ کو فون کر کے یہ اطلاع دی کہ گھر آنا چاہتا ہوں۔ان کا بھی وہی جواب ہوتا ہے کہ سرور تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں،آ جاؤ۔تو دہلی کا موسم کتنی تیزی کے ساتھ کسی اور موسم سے جا ملتا ہے۔ موسم کی یہ تبدیلی طبیعت کی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔طبیعت بدل جاتی ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ طبیعت کے بدلنے میں بھی کتنا وقت لگتا ہے۔طبیعت بدلتی نہیں ہے اور جتنی اور جیسی بدلتی ہے وہ ہمارے مطلب کی نہیں ہوتی۔ ایک کاروباری طبیعت ادبی اور تہذیبی زندگی کو کس قدر رسوا اور خراب کرتی ہے۔ دہلی کا موسم تبدیل ہو گیا ہے یا تبدیل ہونے والا ہے۔ یا وہ تو بہت پہلے تبدیل ہو چکا تھا مجھے اب اس کی تبدیلی کا احساس ہوا ہے۔ یہ سارے جملے شمیم حنفی کے گھر کی طرف اٹھتے ہوئے قدموں کے ساتھ کہیں ذہن میں خلق ہوتے رہے تھے۔ یا وہ بہت پہلے خلق ہو چکے تھے۔ اب انہیں یہ ٹوٹی پھوٹی زبان ملی ہے۔ ان کے بارے میں ایک کتاب لکھنے کے باوجود نہ جانے کتنے جملے کتاب سے باہر رہ گئے۔ جو باہر رہ گئے وہ پہلے کہاں تھے اور اب جو ہیں وہ شاید وہ نہیں ہیں جو پہلے ہو سکتے تھے۔ شمیم حنفی صاحب کا خیال تنقیدی جملوں کے ساتھ بھی آتا ہے مگر یہ تنقیدی جملے صرف تنقیدی جملے نہیں ہیں۔ ان میں ایک ایسی دنیا بھی بستی ہے جس کا رشتہ اداسی کی تہذیب اور اداسی کی شعریات سے ہے۔ اس میں کچھ پھول ہیں اور ان پھولوں کے رنگ الگ الگ ہیں۔ ان رنگوں میں اداسی بھی بستی ہے۔ انہیں دیکھنا صرف آنکھوں کو روشن کرنا اور ٹھنڈک پہنچانا نہیں اور یہ بھی نہیں کہ زندگی بظاہر کتنی خوبصورت ہے۔ شمیم حنفی کی نگاہ زرد پھولوں اور سرخ گلابوں کے ساتھ کیسا مکالمہ کرتی تھی۔اب یہ مکالمہ کہاں ہوتا ہے۔پھولوں کو اور دہلی کے پھولوں کو کب سے اس نگاہ کا انتظار ہے اور اس مکالمے کا بھی جو ان رنگوں کو کچھ اور بنا دیتا تھا۔ کبھی ان رنگوں کو بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایک رنگ کے اندر کوئی اور رنگ بھی ہوتا ہے اور اسے اس کی خبر نہیں ہوتی۔ پھولوں کو دیکھ کر خوش ہونے والے کتنے خوبصورت لوگ ہیں اور خوش نصیب بھی۔ شمیم حنفی صاحب کی نگاہ پھولوں کو اس کی بے ثباتی کے ساتھ دیکھتی تھی۔ اور یہی وہ بات ہے جو اداس بھی کرتی تھی۔ میں نے کچھ یہی صورت پرندوں کی آوازوں کے ساتھ بھی دیکھی ہے۔پرندے کی اواز نگاہ کو بلند کر دیتی اور پھولوں کا رنگ نگاہ کو جھکا دیتا تھا۔ اٹھتی اور زمین پر اتی ہوئی نگاہ بلکہ زمین سے تھوڑی بلند نگاہ زندگی کا کیسا حسن بکھیرتی تھی۔ اس نئے گھر میں بہت سے پھول اور پودے ہیں۔ کچھ پرانے گھر سے آئے ہیں اور کچھ نئے بھی ہوں گے۔ میں یہ تمیز نہیں کر پاتا کہ ان میں نئے کون ہیں اور پرانے کون سے ہیں۔ یہ سب اب ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں یا میں ان کے درمیان فرق کرنے سے قاصر ہوں۔ شمیم حنفی صاحب زرد پھولوں کے بارے میں زیادہ پرجوش رہتے تھے۔ اب پرندے بھی بہت قریب سے چہچہاتے ہیں۔ پہلے پرندوں اور پھولوں سے کتابوں کا فاصلہ شاید کچھ زیادہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب جو نیا مکان ہے وہ گراؤنڈ فلور پر ہے اور اس کی سطح زمین سے لگی ہوئی ہے۔ بلکہ اسے زمینی سطح کہنا چاہیے۔اب پھول اور پودے کسی اوپر کی منزل پر نہیں ہیں۔انہیں زمین مل گئی ہے اگرچہ وہ پہلے بھی اپنی زمین کے ساتھ تھے مگر اب تو انہیں زمین پر دیکھ کر شمیم حنفی صاحب کی گفتگو یاد اتی ہے۔ گفتگو میں زندگی کے کتنے رخ شامل ہو جاتے تھے۔ لازما ادب بھی خالص ادب معلوم نہیں ہوتا تھا۔کب تہذیب ادب بن جاتی اور کب ادب تہذیب معلوم ہوتا اس کا کوئی ایسا منطقی اصول نہیں تھا۔ جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اب لوگ تنقید کے کام کو بھی گھڑی سازی جیسا کام بنا بیٹھے ہیں۔گرچے ان کی بعض تحریریں تنقیدی اور نظریاتی طور پر اسی باریک بینی اور نکتہ رسی کا نمونہ ہیں پھر بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ادبی گفتگو کا مطلب حسی اور زمینی سطح سے بلند ہو جانا نہیں ہے۔ خواجہ حسن نظامی کی نثر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ خواجہ صاحب کی نثر زمین سے لگ کر چلتی ہے۔
مجھے تھوڑا وقت لگا اور آج کئی ہفتوں کے بعد شمیم حنفی صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ دروازے پر ایک لالٹین بائیں ہاتھ کو دیوار پر لٹکی ہوئی ہے۔ ایسی ہی دو لالٹین میرے وطن میں
بھی ہیں۔ امی کو بجلی ا ٓجانے کے باوجود لالٹین سے دلچسپی تھی۔مجھے یاد ہے کہ برف کی روشنی کے ساتھ امی کی لالٹین بھی کسی کونے میں روشن دکھائی دیتی۔ایک لالٹین تو وہ بھی جس کا ذکر محمد حسین آزاد نے آب حیات میں کیا ہے۔ انھیں شکایت تھی کہ لوگ مغربی لالٹین سے روشنی حاصل نہیں کر رہے ہیں۔یہاں یہ ذکربھی ضروری ہے کہ شمیم حنفی صاحب کی پی۔ایچ۔ڈی محمد حسین آزاد پر تھی۔ گھر کے باہر لٹکی ہوئی اس لالٹین کا رشتہ محمد حسین آزاد کی لالٹین سے بھی قائم ہو جاتا ہے۔ میں نے پچھلے سفر میں ان دو لالٹینوں کو صاف کیا اور انہیں ایک جگہ رکھ کر کافی دیر تک دیکھتا رہا۔میں نے ایک چھوٹی سی نظم بھی ان کے بارے میں لکھی ہے۔ تو یہ لانٹین کب اور کہاں سے آئی میں نے کبھی دریافت نہیں کیا لیکن اس سے میرا ایک ایسا رشتہ ہے جس میں فاصلے کا کوئی دخل نہیں۔ جتنی دیر میں دروازہ کھلتا میں لانٹین کو دیکھتا رہا۔ پھر بھی انٹی سے پوچھا نہیں کہ یہ لانٹین کب سے ہے اور کہاں سے آئی ہے۔ لالٹین کی پوری ہیت کتنی تخلیقی اور حسیاتی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس موضوع پر شمیم صاحب سے گفتگو کا موقع نہیں ملا۔ اب میں گھر کے اندر آگیا ہوں اور دائیں طرف کو نیچے سے اوپر تک کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ سامنے بھی کچھ کتابیں ہیں مگر کتابوں کا بلکہ شمیم صاحب کی پسندیدہ کتابوں کا ذخیرہ اسی دائیں طرف کو ہے۔ان کتابوں کو میں ذاکر باغ میں بھی دیکھ چکا ہوں اور مجھے کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ شمیم صاحب کو یہ بتاتے ہوئے کہ فلاں کتاب فلاں جگہ پر ہے یا اس کتاب سے پہلے اور اس کتاب کے پاس اور کون سی کتاب رکھی ہوئی ہے۔ اور یوں ہوتا تھا کتاب پھر وہیں مل جاتی۔ آج میں نے مختار صدیقی کی نثر کی کلیات کو دوبارہ دیکھا۔ یہ کتاب شمیم صاحب کی پسندیدہ کتابوں میں ہے اس میں صرف ادبی مضامین نہیں ہیں بلکہ موسیقی اور مصوری پر بھی تحریریں ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کوئی دو ہفتے یہ کتاب میرے پاس رہی اور اس کا مطالعہ کر کے جب لوٹایا تو شمیم صاحب نے کچھ گفتگو کی تھی۔ مختار صدیقی کی نثر میں ان کی دلچسپی کا سبب موضوعات کی سطح پر رنگا رنگی ہے اور یہ بھی کہ مختار صدیقی نے عام ڈگر سے ہٹ کر ادب اور زندگی کے بارے میں سوچا ہے۔ اس میں ایک مضمون ذکر میر پر بھی ہے جو اپنی نوعیت کا بہت ہی منفرد مضمون ہے۔ اسی کے پاس ایک کتاب سہیل احمد خان کی رکھی ہوئی ہے۔ یہ کتاب بھی چند ہفتے میرے مطالعے میں رہی۔ اس کا وہ حصہ جو مغربی ادب سے متعلق ہے وہ بطور خاص میرے لیے اہم ہے۔ تھامس مون پر بھی ایک مضمون اس حصے میں موجود ہے اور آج اس کا میں نے عکس بھی موبائل سے اتار لیا ہے۔ صغیر ملال کے ترجمے بھی مجھے اچھے لگتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بہت جلد وہ رخصت ہو گئے۔ ان کا ناول اور ان کی شاعری اور ان کے ترجمے تینوں ان کی غیر معمولی ذہانت کا اور تخلیقیت کا نمونہ ہے۔ میں ان کے ترجمے اکٹھا کر رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بہت ہی ذمہ داری کے ساتھ ترجمے کیے ہیں اور ان کے یہاں ترجمہ نگار کے طور پر مصنف دوم بننے کی کوئی خواہش نظر نہیں اتی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ترجمے میں کہیں کہیں کچھ جملے انہوں نے حذف کر دیے ہیں یا چھوٹ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر صغیر ملال کی صلاحیتوں نے مجھے بہت حوصلہ بخشا ہے۔ شمیم صاحب کی کتابوں کے ذخیرے میں وہ رسالے بھی ہیں جو شاید ہی ہندوستان میں کسی کے پاس ہوں۔لہذا کئی ایسے ترجمے جو مجھے نہیں مل سکتے تھے یا اسانی سے نہیں مل سکتے تھے وہ شمیم صاحب کی ذاتی لائبریری سے حاصل ہو گئے۔آج بھی صغیر ملال کے دو ترجمے مجھے مل گئے۔ یہ سب کچھ میں خاموشی کے ساتھ دیکھتا رہا۔ ان کے عکس لیتا رہا درمیان میں چائے آ گئی۔ صبا شمیم حنفی صاحبہ کچھ پرانی باتیں یاد دلاتی اور وہ باتیں کتابوں کو پڑھنے اور دیکھنے اور ان کے عکس لینے کے عمل کو کچھ زیادہ اہم اور تاریخی بنا دیتیں۔ ایک کرسی جو خالی ہے وہ بدستور خالی ہے کوئی بیٹھ جائے تو بھی اس کا خالی پن کہاں جاتا ہے۔ مجھے اس کرسی پر بیٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔ میں دوسری طرف کو بیٹھ جاتا ہوں۔ آصف فرخی کا رسالہ دنیا زاد ہندوستان میں پابندی کے ساتھ دو ہی شخصیات کے پاس آتا تھا،شمیم حنفی اور شمس الرحمن فاروقی۔ تقریبا تمام شماروں پر لکھا ہے شمیم حنفی صاحب کے لیے اور نیچے اصف فرخی کا دستخط تاریخ کے ساتھ۔ ایک شمارہ ایسا بھی ہے جس میں صرف ترجمے ہیں جس کا عنوان ہے دہشت دہشت دنیا ہے۔ یہ شمارہ مجھے اسلم پرویز صاحب سے ملا تھا۔ اج شمیم حنفی صاحب کے گھر پر اسے دیکھتے ہوئے محسوس ہوا کہ جیسے میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔ 93 میں یہ شمارہ آیا تھا لیکن اج کی دنیا کہاں اس سے مختلف ہے۔ دہشت خوف اور تشدد نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ میرا جی چاہتا تھا اور چاہتا ہے کہ صرف اس شمارے پر ایک گفتگو کا اہتمام کیا جائے۔ آصف فرخی نے کتنے اہم اور مختلف مضامین کو اس نمبر میں ترجمے کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔اس نمبر کو دیکھ کر بلکہ دنیا زاد کے دوسرے شماروں کو دیکھ کر بھی یہ لگتا ہے کہ آصف فرخی کا ذہن کتنا فعال تھا اور فعالیت کتنی مقامی اور کتنی بین الاقوامی تھی۔شمیم صاحب کو دنیا زاد کا کتنا انتظار رہتا۔وہ دنیا زادکو اپنے دور کی جیتی جاگتی زندگی کا نام دیتے تھے۔اس وقت سہہ پہر کے ساڑھے چار کا عمل ہے اور اس وقت کی فضا صبح سے مختلف نہیں ہے۔ ہوا جو پہلے درخت کے پتوں کو ہلا رہی تھی اب اس کی رفتار بہت ہی کم ہو گئی ہے۔ پتوں کو بہت غور سے دیکھنے کے بعد ان کے ہلنے کا احساس ہوتا ہے کہ جیسے آنکھوں میں کوئی شئے دھڑکتے دل کی طرح اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ درخت کتنے خاموش ہیں بلکہ موسم کتنا ساکت اور خوفناک ہے۔ وقت جیسے ٹھہر سا گیا ہو۔ لیکن وقت ہے کہ گزرتا جاتا ہے۔پھر کچھ پتے ہلنے لگے ہیں۔ ہوا نے رخ تبدیل کیا ہے۔ موسم تو بدستور اداسی سے بھرا ہوا ہے۔اتنے کم وقت میں موسم تبدیل ہو سکتا ہے مگر طبیعت تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔
نوک مژہ پہ اس کی ستارہ کبھی کبھی
میرے دھڑکتے دل کی طرح کانپتا تو ہے مظہر امام

سرورالہدیٰ
دہلی کی ایک شام
27نومبر 2023

Md.Sarwarul Hoda
Department of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi 25
+91-9312841255