دہشت گرد کون کون

یہ تحریر 130 مرتبہ دیکھی گئی

ترجمہ: محمد سلیم الرحمٰن


جورج بش نے افغانستان پر بمباری کا آغاز کرتے ہوئے اس دن یہ اعلان بھی کیا: ”اگر کوئی حکومت قانون باہر افراد اور بے گناہوں کو ہلاک کرنے والوں کی سرپرستی کرتی ہے تو وہ بذاتِ خود قانون باہر اور قاتل بن چکی ہے۔ اور وہ اپنے آپ کو معرض خطر میں ڈال کر اس تنہا راستے پر چلے گی۔“ مجھے خوشی ہے کہ بش نے ”کوئی حکومت“ کہا کیوں کہ ایک ایسی حکومت موجود ہے، مگر اسے تاحال دہشت گردی کے سرپرست کے طور پر شناخت نہیں کیا گیا، جسے اس کی فوری توجہ درکار ہے۔
پچھلے پچپن برس سے یہ حکومت دہشت گردوں کی تربیت کا ایک کیمپ چلا رہی ہے۔ ان دہشت گردوں کے ہاتھوں جو لوگ مارے گئے ہیں ان کی تعداد ان افراد سے ہزار گناہ زیادہ ہے جو نیویارک پر حملے، سفارت خانے پر بم حملے اور دوسرے مظالم میں ہلاک ہوئے اور جن کا ذمے دار، بجایا غلط طور پر، القاعدہ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس کیمپ کا نام ویسٹرن ہیمی سفیئر انسٹی ٹیوٹ فور سکیورٹی کو آپریشن (تحفظ کی خاطر مغربی نصف کرے کا ادارہ¿ باہمی تعان) ہے یا Whise کہہ لیجیے۔ یہ کیمپ فورٹ بیننگ، جورجیا (ریاستہائے متحدہ امریکا) میں واقع ہے اور بش حکومت اسے فنڈ فراہم کرتی ہے۔
اس سال جنوری تک دھسک کو سکول آف دی امریکاز یا SOA کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ 1946ءسے اب تک SOA نے ساٹھ ہزار سے زیادہ لاطینی امریکی فوجیوں اور پولیس والوں کو تربیت دی ہے۔ وسطی اور جنوبی امریکا کے سب سے بدنام ازیت پہنچانے والوں، بڑے پیمانے پر قتل کرنے والوں، آمروں اور ریاستی دہشت گردوں میں سے بہت سے اس کیمپ کے سندیافتہ (گریجویٹ) ہیں۔ SOA واچ شو کے پریشر گروپ نے دستاویزات کے جو سیکڑوں صفحات مدون کیے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کیمپ کے سابق سند یافتگان نے لاطینی امریکا کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا ہے۔
اس سال جون میں گواتے مالا سٹی میں کرنل بائرن لیما ایسترادا کو، جو اس سکول میں زیر تربیت رہ چکا تھا، 1998ءمیں بشپ ہو ان ہیرا ردی کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔ قتل کی وجہ یہ تھی کہ ہیراردی نے ایک ایسی رپورٹ لکھنے میں ہاتھ بٹایا تھا جس میں گواتے مالا کی ڈی ٹو نامی تنظیم کے مظالم کا احوال تھا۔ ڈی ٹو ایک فوجی جاسوسی ایجنسی تھی جسے لیما ایسترادا SOA کے دو اور سند یافتہ افراد کی مدد سے چلاتا تھا۔ ڈی ٹو نے ایک بغاوت کو کچلنے کے لیے جاری مہم میں ربط باہمی قائم رکھنے کا فریضہ انجام دیا تھا۔ اس مہم کے نتیجے میں مایا قوم کے آٹھ سو اڑتالیس دیہات کا نام و نشان مٹ گیا۔ ان دیہات میں بسنے والے ہزار ہا ہزار لوگ ہلاک کیے گئے۔
لوکاس گارسیا، ریوس مونت اور …. وکتوریس کی نسل کشی کی مجرم حکومتوں کی کابیناو¿ں کے چالیس فیصد وزیروں نے SOA میں تربیت حاصل کی تھی۔
1993ءمیں ایل سالوا دور کے بارے میں اقوام متحدہ کے حقائق کمیشن نے ان فوجی افسروں کے نام گنوائے جنہوں نے خانہ جنگی کے دوران میں بدترین مظالم ڈھائے تھے۔ ان میں سے دو تہائی نے SOA میں تربیت حاصل کی تھی۔ ان یمں روبیر تو دا بوٹی سون بھی تھا۔ وہ ایل سالوا دور کے قاتل دستوں کا سربراہ تھا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے آرچ بشپ پادریوں کو مار ڈالا تھا، انیس SOA کے سندیافتہ تھے۔ چِلے میں اس سکول کے تربیت یافتہ لوگ اوگتوپنوشے کی خفیہ پولیس اور سیاسی قیدیوں کے تین بڑے کن سن ٹریشن کیمپوں کے بھی نگران تھے۔ ان میں سے ایک نے 1976ءمیں واشنگٹن ڈی سی میں اور لاندو لیتے لیئر اور رونی موفٹ کو قتل کرنے میں اعانت کی تھی۔
ارجن تینا کے آمر روبیرتو ریولو اور لیوپولدو گالتی ایری، پاناما کے مانویل نوری ایگا اور اومار توری ہوس، پیرو کے ہوان ویلاسکو الورادو اور ایکو ارور کے گی یرمو رودری گینر، ان سب نے SOA کی تعلیم و تربیت سے استفادہ کیا۔ اسی طرح فوجی مورو کے پیرو میں گروپو کولینو کے قاتل دستے کا سربراہ بھی SOA کا فیض یافتہ تھا۔ ان پانچ افسروں میں سے چار SOA کے سند یافتہ تھے جنہوں نے ہوندو راس کی بدنام 3-16 بٹالین کی قیادت کی۔ اس بٹالین کو وہاں 1980ءسے 1989ءتک قاتل دستوں پر اختیار حاصل تھا۔ وہ کمانڈر بھی SOA کا تربیت یافتہ تھا جسے 1994ءمیں میکسیکو میں اوکوسنگو قتلِ عام کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔
سکول کے دفاع پر مصر حضرات کہتے ہیں کہ یہ سب تو پرانی تاریخ ہے۔ لیکن SOA کے سند یافتہ اِس ناپاک جنگ میں ملوث ہیں جو آج بھی، ریاستہائے متحدہ امریکا کی معاونت سے، کولومبیا میں جاری ہے۔ 1999ءمیں یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے انسانی حقوق کے بارے میں ایک رپورٹ میں SOA کے دو سندیافتگان کو امن کمشنر الیکس لوپیرا کے قاتل قرار دیا۔
ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ دہشت گردوں کی تربیت کا یہ کیمپ ازخود اپنی اصلاح کر لے گا۔ وہ تو یہ تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں کہ اس کا کوئی ماضی ہے۔ ماضی سے کچھ سیکھنے کی بات تو جانے ہی دیجیے۔ چناں چہ یہ مان کر کہ لاطینی امریکا میں جاری ظلم و ستم کا تعلق اس سکول سے جوڑنے کے شواہد ان شواہد سے زیادہ قوی ہیں جو القاعدہ کو نیویارک پر حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو ہم جورجیا میں فورٹ بیننگ کے ان شرپسندوں کا کیا کریں؟
ہم حکومتوں سے تقاضا کر سکتے ہیں کہ وہ بھرپور سفارتی دباو¿ ڈالیں اور مانگ کریں کہ سکول کے کمانڈروں کو بطور مجرم ان کے حوالے کیا جائے تا کہ ان پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا سکے۔ متبادل حل کے طور پر ہم یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ حکومتیں ریاستہائے متحدہ امریکا پر دھاوا بول دیں۔ اس کی فوجی تنصیبات، شہروں اور ہوائی اڈوں پر بم برسائیں اور اُمید رکھیں کہ اس طرح غیر منتخب شدہ حکومت کا تختہ الٹ کر اس کی جگہ نئی انتظامیہ لے آئیں جس کی دیکھ بھال اقوام متحدہ کرے۔ اگر یہ تجویز امریکی عوام میں غیر مقبول ثابت ہو تو ہم پلاسٹک تھیلوں میں، جن پر افغان پرچم ثبت ہو، نان اور سکھایا ہوا گوشت کا چٹپٹا سالن گرا کر، ان کا دل و دماغ جیت سکتے ہیں۔ اس عمل میں اور اس جنگ میں، جو اب افغانستان میں لڑی جا رہی ہے، اخلاقی اعتبار سے کوئی فرق تو ہو گا نہیں۔
( یہ مضمون 2001 میں ”گارڈئین“ میں شائع ہوا تھا)

٭٭٭