جندر

یہ تحریر 923 مرتبہ دیکھی گئی

“زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے سیاہ رنگ ؛جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جزب کرلیتا ہے مجھے زندگی کے رنگوں کا شعور بعد میں ہوا اور موت کے رنگ کا پہلے “

اختر رضا سلیمی ہے میرا پہلا تعارف بطور ناول نگار ہوا جب ان کا ناول”جاگے ہیں خواب میں” میری نظر سے گزرا۔ اس کے بعد “جندر” ہاتھ لگا تو کئی دن میں اس کے سحر سے نہ نکل پایا ۔ بنیادے طور پر وہ شاعر ہیں ۔موجودہ دور کے شعرا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں مگر جب بھی ان کا نام کہیں لیا جاتا ہے تو “جندر”لاشعور سے شعور کی سطح پر قابض ہوجاتا ہے اور وہ ناول نگار کے روپ میں ہی ملتے ہیں۔۔

اس ناول میں اختر رضا سلیمی اپنے کرداروں کی چونگ ڈالتے ہیں اور ہمارے سامنے تہزیب و ثقافت، انسانی نفسیات،بیتے ادوار،معاشرت اور وقت کے ساتھ بدلتی فکر  پس کر سامنے آتی ہیں۔ داستانوی رنگ لیے اس ناول کا آغاز موت و حیات کے وصل سے چند لمحے پہلے پر ہوتا ہے ۔ ولی خان جو کہ ناول کا مرکزی کردار ہے جندر کی کوک میں اپنی موت کو سامنے دیکھتا ہے اور یہ سوال اسکے ذہن میں پنپتا ہے

“میرے بعد یہاں آنے والا پہلا شخص کون ہوگا؟”

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ موت کیا ہے ؟ حیات بعداز موت کیا ہے؟ یہ سوال ابتدا سےانسان کو درپیش ہیں ۔ہر دور کے اہلِ عقل و دانش ان کے جواب کی تلاش میں سرگرداں رہتےہیں اور بہت سے فلسفیوں کے نزدیک تصور خدا اور موت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔

“ خدا نے موت کو خلق کیا یا موت نے خدا کو”

ولی خان بھی اپنی موت کےبعد کیا ہوگا ؟ کی گتھی سلجھانے میں نظر آتا ہے اور پھر ماضی ایک فلم کی صورت اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔

ناول کی کہانی پر جانے سے پہلے ہمیں Delinking philosophy from Coloniality کو سمجھنا ہوگا ۔ انگریز جب برصغیر پر قابض ہوئے تو انہوں نے اپنے اقتدارکو مستحکم کرنے کے لیے کچھ حربے استعمال کیے ۔ انہوں نے مقامی لوگوں کی جڑیں کاٹیں ۔لوگوں  کا ان کی سرزمین سے ،تہزیب و ثقافت سے، علم و ادب سے ناتا توڑا اور ایسی شے سے انھیں جوڑ دیا جس سے وہ نا آشنا تھے ۔ اسکےنتیجے میں ہماری آنے والی نسل افراتفری کا شکار رہی ان میں تنہائی،وجودیت اور اسی طرح کے دیگر مسائل جنم لیے ۔ اس ناول میں وقت کے ساتھ جو سوچ کی دھارا کا بدلنا اور دونسلوں کے درمیان  خلا ،اسی بیچ کے اثرات ہیں جوانگریزوں نے یہاں بوئے ۔ہر مستعمر جس بھی خطے پر قابض ہوتا ہے وہ یہی لائحہ عمل اپناتا ہے ۔

“جندر میں چونگ ڈالے ولی خان اس کی سریلی آواز کے سائے میں سو جاتا ہے اور جب سریلی گونج کوک میں بدلتی ہے تو وہ اسےبیدار کردیتی ہے”

سریلی گونج کا کوک میں بدلنا  تہزیب کے بدلاؤ کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔ سریلی آواز وہ تہزیب ہے جس کا علمبردار ولی خان ہے جس میں لوگ مل کر کام کرتے  ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے اور انہیں اپنی اصل سے اپنی زمین سے اپنی تہزیب سے محبت تھی

“فصلوں ؛خاص کر گندم کی کٹائی اور گاہی کے دنوں میں وہ لوگ بھی جو شہر میں نوکری یا کاروبار کررہے ہوتے راتوں رات گاؤں آجاتے اور صبح سویرے درانتیاں اٹھائے لتیریوں میں شمولیت کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔ سب مل جل کر ایک دوسرے کی فصل کاٹتے”

۔ گونج کا کوک میں بدلنا نئی تہزیب ہے جس میں ولی خان کا بیٹا راحیل جو ایک افسر ہےاپنے بیوی بچوں کے ساتھ شہر میں رہتا ہے ۔۔اور سال میں دو بار گاؤں ملنے آجاتا ہے ۔۔اسے اپنی اصلیت کا اظہار کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے کہ وہ جندروئی کا بیٹا ہے۔۔راحیل کا اپنے باپ کی موت جلد آنے میں بڑا اہم کردار ہے

“سات سال پلہے جب میرا بیٹا راحیل گاؤں کی مسجدکے خادم کو بجلی سے چلنے والی آٹا مشین لگانے کے لیے مالی معاونت فراہم کررہا تھا تو اس کے سان گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ ایک تہزیب کے انہدام میں حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کی موت کا بھی سامان کررہا ہے “

۔۔۔۔کوک ولی خان کو بیدار کر رہی ہے کہ اگر وہ وقت کے ساتھ نہیں چلے گا تو پرانی تہزیب کے ساتھ وہ بھی دفن ہوجائے گا ۔۔

ولی خان کی پچھلی تین پشتیں اس پیشے سے منسلک ہیں۔یہ جندر ان کی پہچان ہے ۔۔

ندی جوڑیاں میں واقع جندر کو   اس کے دادا محمد خان اور ان کے بھائی احمد خان نے بادشاہ سے شرط جیتنے کے تحفے میں تعمیر کیا تھا ۔ جندر کی بنیاد کی کہانی سناتے ہوئے اختر رضا سلیمی کمال محارت سے طبقاتی تفریق جو  اور اس کی کوکھ سے جنم لیتی اقدار پر روشنی ڈالی ہے ۔

“ راجہ کو غصہ پاٹ واپس لے جانے کے حوالے سے

سنائی جانے والی کہانی پر نہیں تھا کیونکہ اس سمیت سب کو یہ کہانی جھوٹی لگی تھی اسے غصہ ان کے گردن اکڑ کر بات کرنے پر تھا”

بیتے دور کا ذکر کرتے ہوئے سلیمی صاحب نے خوبصورتی سے ولی خان کی دادی اور ماں کے کرداروں کے ذریعے گھریلو زندگی کا منظر کھینچا ہے ۔۔۔ اس میں عورتوں کا آپس میں تعلق ( ساس بہو) اور بیوی کا اپنے شوہر سے تعلق کی مضبوطی کو  عمدہ انداز میں بیان کیا ہے ۔۔ کہ کس طرح عورت حساس ہوتی ہے اور شوہر میں   چھوٹی

سی  تبدیلی کو بھی جلد محسوس کرلیتی ہے

ولی خان کا باپ اسکی ماں سے بہت پیار کرتا تھا اور جب ان کی ہاں کئی سال بچے کی پیداہش نہ ہوئی تو ولی خان کی دادی نے گھر میں دوسری شادی کی بات چھیڑی ۔۔۔۔ ولی خان کا باپ کہتا ہے کہ

“ اس کی (تمہاری دادی)تان میری شادی پر ہی ٹوٹتی تھی اور تمہاری ماں اس کا جواب میری آنکھوں میں تلاش کرتی اگرچہ ہر باراسے نفی ہی میں جواب ملتا لیکن میری ماں کا اصرار حد سے بڑھنے لگا تو تمھاری ماں کے دل میں ایک خوف سا بیٹھ گیا تھا کہ اب اس پر سوتن لاکر ہی چھوڑے گی اس خوف نےاس کے شاداب چہرے پر پیلاہٹ بکھیرنا شروع کردی”

مگر ولی خان کے باپ نے دوسری شادی نہ کی اور اپنی بیوی کی ڈھال بنا رہا ۔اور آخری سانس تک ایک دوسرے کا لباس رہے ۔۔

ان میاں بیوی کے رشتے کے ذریعے سے محبت کے مختلف پہلووں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔۔۔۔جیسے کہ ایک جگہ ولی خان بتاتا ہے کہ اسکے باپ نےکہا

“تمھیں شاید بات بری لگے مگر سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تمھارے پیدا ہونے سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ اماں میری شادی پر اصرار نہیں کرے گی اور تمھاری ماں کو سوتن کا دکھ نہیں سہنا پڑے گا ۔۔”

اختر رضا سلیمی نے  اس میں اپنے کرداروں بابا جمال ،ولی خان اور حاجرہ جو کہ بعد میں ولی خان کے نکاح میں آئی اردو ادب کے دو بڑے ناولوں پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اداس نسلیں کو آگ کے دریا پر زیادہ مضبوط کہانی اور ربط کی بدولت ترجیح دی ۔۔

دیکھا جائے تو پورے ناول پر اداسی اور تنہائی کے ڈیرے ہیں

 ۔تنہائی ازل سے انسان کی ساتھی رہی ہے ۔۔ جب کوئی بھی سہارا دینے والا نہیں ہوتا تو تنہائی سہارا دیتی ہے ۔۔ جس کا بیچ اپنے پیاروں کی کوکھ میں پھلتا پھولتا ہے  ۔۔جب وہ لوٹ جاتے ہیں تو تنہائی جنم لیتی ہے  ۔۔ جس میں ان کی یادیں ،بیتے لمحے زندگی کو روا رکھتے ہیں جیسے ولی خان کا باپ اسکی ماں کی موت کے بعد تنہائی یادوں کے سہارے کاٹتا ہے  ۔

الغرض جندر کی سریلی آواز  زندگی کے خوشگوار پل بھی ہیں  ۔۔۔ وہ پل جن میں چاہے مالی لحاظ سے تنگدستی ہی کیوں نہ ہو پر آپ کا محبوب آپ کے پیارے آپ کے ساتھ ہوں تو وہ زندگی کے خوشگوار پل ہیں ۔۔ اور آواز کا کوک میں بدل جانا محبوب کا بچھڑ جانا ہے زندگی کا بنجر ہوجانا ہے چاہے وہ تہزیب کی صورت کو ہو ،بیوی کی ماں باپ کی ، اولاد کی یا کسی یار کی صورت ۔۔