بلراج مین را کے گھر مشکن مین را کے ساتھ

یہ تحریر 141 مرتبہ دیکھی گئی

اتوار کی صبح بلراج مین را کا فون آ جاتا تھا کہ میں بک بازار آ رہا ہوں یا نہیں آ رہا ہوں۔اج صبح مشکن مین را کا فون آیا وقت بھی وہی تھا ۔ اسی درمیان شمیم حنفی صاحب کافون آجاتا۔بیٹے کی آواز باپ کی آواز بھی بن جاتی ہے۔مجھے بک بازار تو جانا ہی تھا ۔بات یہ طے پائی کے بک بازار سے نکل کر روھنی آؤنگا ۔اتوار کی صبح بلکہ اتوار کا دن اپنے ساتھ کتنی رسمساہٹ لاتا ہے ۔ آ نکھیں کھلتے کھلتے کھلتی ہیں ۔طلوع صبح کے ارماں کو منیر نیازی نے زبان دی۔
آنکھیں کھلیں تو دھوپ چمکتی ہوئی ملی
میرےطلوع صبحِ کے ارماں کہاں گئے
اتوار کی صبح بلراج مین را کے لیے کچھہ خاص ہوا کرتی تھی ۔انہں انتظار رہتا تھا ۔میرے لیے اتوار کی صبح کچھ اسی طرح آ تی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اتوار کے دن کا پہلا حصہ اپنی رسمساہٹ کے ساتھ کب کا رخصت ہو چکا ۔بلراج مین را کی صبح کتنی روشن تھی ۔شب بیداری کی نشانیاں کوئی کتنا چھبا سکتا ہے ۔دیر رات تک کتابیں بھی شاید سو جاتی ہیں ۔بلراج مین را کو خلیل الرحمٰن اعظمی کا شعر کتنا پسند تھا۔
جب نیند آ گئی ہو صدائے جرس کو بھی
اپنی خطا یہی ہے کہ کیوں جاگتا ہوں میں
رات کے پچھلے پہر کی رسمساہٹ صبح سے مل کر جس آ سودگی کو ساتھ لاتی ہے اس کی حفاظت میں کتنی راتیں اور صبحیں بے نور ہو گئی ہیں ۔بلراج مین را کے اتوار کی صبح نے کتنی صبحوں کو اپنے ساتھ کر لیا تھا ۔


مجھے بک بازار کی راہ بلراج مین را صاحب نے دکھائی تھی ۔ان دنوں جے این سے آتا تھا ۔ایم اے کے بعد ایم فل پی ایچ ڈی کی طرف آ تے ہوئے بلراج مین را کا مل جاتا اتوار کی صبح کو رفتہ رفتہ روشن ہونا تھا ۔جے این یو کی صبحیں فطری طور پر رسمساہٹ کے ساتھ تھیں ۔اس رسمساہٹ میں گزری ہوئی راتوں کے مطالعے کی وہ غنودگی شامل تھی جس نے بیداری کا نیا مفہوم سمجھایا ۔
آ ج روھنی جاتے ہوئے اتنے خیالات نے آ گھیرا کے کوئی ترتیب باقی نہیں رہی ۔خیالات کے ساتھ دل بھی ڈوبنے لگا ۔تین سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا ۔راہ وہی تھی آ س پاس کی دنیا بھی وہی ،بس مکانوں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے ۔گھر کے سامنے کے پارک میں بچے اسی طرح کھیلتے نظر آے۔بلراج مین را کو اس پارک میں کبھی نہیں دیکھا ۔مشکن نے بتایا کہ پاپا کو پارک سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔گھر کیے سامنے کا پارک زمین پر سوکھے ،گرے پتوں کے ساتھ کچھ کہتا تھا ۔بلراج مین را سے مجھے پوچھنا چاہیے تھا کے زمین پر ان گرے ،سوکھے پتوں کے بارے میں آ پ کیا سوچتے ہیں ۔؟
مین را روھنی منتقل ہو نے سے پہلے مال روڈ پر رہتے تھے ۔میں پہلی بار ان سے وہیں ملا تھا ۔ان کی ٔکہانیوں میں مآل روڑ کا زکر بھی آ یا ہے ۔کناٹ پلیس سے بس مال دوڑ کی طرف جاتی تھی ۔”ابھی سگرٹ سلگا بھی نہ تھا ک بس آ ن دھمکی ۔”مین را کی کہانی کا یہ جملہ آ ج پھر یاد آ یا ۔ماڈل ٹاؤن سے کوئی بس روہنی آ تی ہوگی۔
بلراج مین را مکان کی پہلی منزل پر رہتے تھے ۔آج مجھے پہلی منزل پر جانے میں تھوڑا وقت لگا ۔گراونڈ فلور پر ابھی کچھ وقت گزرا تھا کہ مشکن مین را نے کہا آ پ فرسٹ فلور پر جائیںگے ۔اسی فرست فلور پر مین را سے ملاقات ہوتی تھی ۔وقت تیڑ تر گزرااور شام سر اوپر آ گئی ۔
25 فروری2024
نئی دہلی