ایک عورت ہزار دیوانے

یہ تحریر 390 مرتبہ دیکھی گئی

“ایک عورت ہزار دیوانے” کرشن چندر کا ایک دل کش اور حقیقت پر مبنی ناول ہے۔ ناول کے تانے بانے کافی حد تک حقیقت اور تاریخ سے جا ملتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار لاچی ہے، جو نہایت حسین، خوب رو، پراعتماد اور بہادر لڑکی ہے۔ بدقسمتی سے ماحول، قدرت اور اتفاق نے لاچی کو بھکارن بنایا ہے۔ “لاچی اگر بھکارن نہ ہوتی تو سیب کا پیڑ ہوتی، ہمالہ کی کنواری برف میں ڈھکی ہوئی چوٹی ہوتی یا زیر آب سمندر کی ریف میں مستور کورل کا گلابی محل ہوتی۔”
لاچی کا تعلق ایک خانہ بدوش قبیلے سے ہے اور اس کے باپ کا نام رگی ہے۔ رگی صبح و شام چرس، بھنگ اور شراب نوشی میں مدہوش اور مامن سے خوف زدہ رہتا ہے۔ رگی چاہتا ہے کہ لاچی کی کمائی مسلسل اس کو ملتی رہے، مگر مامن نے لاچی کو دمارو کے ہاتھوں مہنگے داموں بیچ دیا ہے۔ رگی بہت پہلے اپنی بیوی کو جوا کھیلنے میں مامن کے ہاتھوں ہار گیا ہے۔ اب مامن دراصل لاچی اور اس کی ماں کا مختار کل ہے۔ مامن لاچی کی آزادی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ لاچی کی زندگی میں جتنے بھی نشیب و فراز آئے، اس کا ذمہ دار صرف مامن ہے۔
لاچی کا قبیلہ ریلوے اسٹیشن کے قریب خیموں میں آباد ہے۔ گداگری اس قبیلے کا ظاہری ذریعہ معاش ہے، جب کہ سورج چڑھنے کے بعد آس پاس کے مقامی صنعت کار، اشرافیہ، حاجی اور سرمایہ دار بھی ان کی معیشت میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈال دیتے ہیں۔ دن کے وقت اس تہذیب کے نماٸندے دکان داری، صنعت کاری، محنت و مزدوری اور ملازمت کرکے پیسہ کماتے ہیں، جب کہ رات کے وقت یہی لوگ ریلوے اسٹیشن کے ساتھ سرکنڈوں کے پیچھے خیموں کی آبادکاری پر اپنی دن بھر کی کماٸی بے دھڑک خرچ کرتے ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور حمیدا، سبزی فروش مادھو، سردار دمارد، اسٹیشن ماسٹر رسک لال، صنعت کار چمن بھائی، کاروباری شخصیت حاجی عبدالسلام، جیل سپرنٹنڈنٹ خوب چند وغیرہ اس تہذیب کے چند مشہور نمائندے ہیں جو سب پہلے لاچی کے عاشق پھر خریدار اور آخر میں جانی دشمن بن جاتے ہیں۔
صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے اور یوں وقت گزرتا جاتا ہے۔ ایک دن اچانک اس تہذیب کے نمائندے اس وقت رسوا ہوجاتے ہیں جب لاچی ان کے ساتھ دھندا کرنے اور جسم بیچنے سے انکار کرتی ہے۔ لاچی خیمے کے بجائے گھر اور گاہک کے بجائے سچا پیار یعنی شوہر کی تلاش میں ہے، مگر وہ دمارد سردار کی ساڑھے تین سو روپیہ مقروض ہے۔ دمارد نے یہ رقم مامن کو لاچی کے خریدنے کے لیے پیشگی ادا کی تھی۔ لاچی نے ہر ممکن کوشش کی کہ دمارد کا قرضہ ادا کرسکیں، مگر ناکام رہی۔ ایک دن دمارد نے لاچی کو زبردستی دلھن بنانے کی تقریب بناٸی، جس میں لاچی نے دمارد کو خنجر سے قتل کیا۔ اس پاداش میں لاچی کو تین سال جیل ہوٸی۔
لاچی دراصل بلوچی کے بیٹے گل سے شادی کرکے گھر سجانا چاہتی تھی، مگر بلوچی نے یہ جان کر گل کو گھر ہی سے نکال دیا۔ جیل میں لاچی کو جسم بیچنے پر بار بار مجبور کیا گیا مگر وہ نہ مانی۔ دوسری طرف لاچی نے جیل میں اس متعفن تہذیب اور اس کے نمائندوں کی قلعی بھی کھول دی۔ اپنی عزت بچانے کی خاطر اس تہذیب کے نمائندوں نے ریلوے اسٹیشن کے ساتھ سرکنڈوں کے پیچھے لاچی کے بھکاری قبیلے کو عذاب الہی، قحط، جرائم اور دیگر تمام برائیوں کی وجہ قرار دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خفیہ رضامندی سے رات کو نذر آتش کردیا۔ لاچی کا قبیلہ ختم ہوا، مگر لاچی ابھی تک گل سے شادی کرنے پر بضد تھی۔
جیل میں کئی سال گزارنے کے بعد لاچی کو چیچک ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس کی بصارت اور حسن دونوں ختم ہوگئے تھے۔ اب ہر کوئی لاچی سے نفرت کرتا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے لاچی کو جیل سے رہا کر دیا تھا۔ اندھی اور بدصورت لاچی جیل سے باہر جوں ہی بیچ سڑک پر آٸی تو حمیدا ٹیکسی ڈرائیور، مادھو دکان دار، صنعت کار چمن بھائی، کاروباری شخصیت حاجی عبد السلام وغیرہ نے لاچی پر پتھروں کی بارش کردی۔ وہ زخموں سے چور چور تھی۔
دوسری جانب گل کو یقین تھا کہ اب لاچی کی سزا ختم ہونے کو ہے۔ آج گل نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے۔ گل جیل میں لاچی سے ملنے کے لیے کسی سواری کی تلاش میں تھا کہ اچانک باہر سڑک پر چند لوگ ایک اندھی بھکارن کو پتھروں سے مار رہا ہے۔ گل نے اجنبی بھکارن کو ہجوم سے بچا کر اسپتال منتقل کیا۔ واپسی پر لاچی نے گل کو روکا اور ساری روداد سنائی۔ گل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ لاچی چیچک زدہ، بدصورت اور اندھی کیسے ہوسکتی ہے۔ دونوں خوب روئے۔
چند دنوں کے بعد لاچی اور گل بغل گیر تھے۔ لاچی کو گل مل گیا تھا، مگر گل کو کیا ملا تھا؟ ….. اندھی اور چیچک زدہ لاچی۔ گل کو اب بھی ایک اور لاچی کی تلاش تھی ….. حسین اور خوب صورت لاچی۔ یوں گل اپنی خیالی لاچی کی تلاش میں نکلا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
اگلے دن اندھی اور چیچک زدہ لاچی دوبارہ سڑکوں پر بھیک مانگ رہی تھی۔ صرف بھیک، کیوں کہ زندگی بہت مختصر ہے، جوانی اس کی نصف ہے اور حسن اس کی چوتھائی …. لاچی ماقبل آخر دونوں نعمتوں سے محروم ہوچکی تھی اور رفتہ رفتہ زندگی سے بھی محروم ہونے جارہی تھی۔
آخر میں ناول کے کرداروں کی تطبیق معاصر ملکی حالات پر بھی کی جاسکتی ہے۔ یعنی لاچی کو پاکستان، رگی کو ملکی سیاست دان، مامن کو اسٹیبلشمنٹ، دمارد کو آئ ایم ایف، گل کو عوام، جیل کو عالمی پابندیاں، حمیدا ڈرائیور، حاجی عبد السلام، چمن بھائی، مادھو، رسک لال اور اسٹیشن ماسٹر کو عالمی استحصالی قوتیں اور اندھا پن اور چیچک کو معاشی، سماجی اور سیاسی دیوالیہ پن سمجھیں اور تحریر کو دوبارہ پڑھیں۔