کہانی در کہانی (از ڈاکٹر مظفر عباس)

یہ تحریر 165 مرتبہ دیکھی گئی

ردو ادب میں بعض کتابیں محض مطالعہ نہیں ہوتیں بلکہ فکری مکالمہ بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر مظفر عباس کی تازہ تصنیف “کہانی در کہانی” بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ یہ کتاب بیک وقت مضامین، خود نوشت تحریروں اور افسانوی بیانیے پر مشتمل ایک ایسا ادبی مرقع ہے جس میں مصنف کی علمی بصیرت، ذاتی تجربات اور تخلیقی قوت ایک دوسرے میں گھل مل کر قاری کے سامنے زندگی کے کئی رنگ وا کر دیتی ہے۔

“کہانی در کہانی” کسی ایک صنف کی پابند نہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اس میں شامل مضامین فکر و دانش کے دریچے کھولتے ہیں، خود نوشت تحریریں مصنف کے باطن اور زندگی کے نشیب و فراز سے روشناس کراتی ہیں، جبکہ کہانیاں انسانی جذبات، معاشرتی رویّوں اور وقت کی سچائیوں کو علامتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یوں یہ کتاب قاری کو صرف پڑھنے کا تجربہ نہیں دیتی بلکہ سوچنے، ٹھہرنے اور خود سے سوال کرنے کا حوصلہ بھی بخشتی ہے۔

کتاب کا عنوان “کہانی در کہانی” بذاتِ خود ایک گہری علامت ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی خود ایک مسلسل کہانی ہے، اور ہر کہانی کے اندر بے شمار اور کہانیاں سانس لیتی ہیں۔ ڈاکٹر مظفر عباس نے اسی تصور کو بنیاد بنا کر اپنے مشاہدات، یادوں اور تخلیقی تجربات کو لفظوں کا جامہ پہنایا ہے۔

کتاب میں شامل مضامین محض معلوماتی نہیں بلکہ فکری سطح پر قاری کو جھنجھوڑتے ہیں۔ ڈاکٹر مظفر عباس کا علمی پس منظر اور وسیع مطالعہ ہر سطر سے جھلکتا ہے۔ وہ ادب، معاشرہ، انسان اور وقت کے باہمی تعلق کو نہایت متوازن اور شائستہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے مضامین میں نہ خطابت کا شور ہے اور نہ ہی تصنع کا بوجھ، بلکہ ایک سنجیدہ، مہذب اور مدلل گفتگو ہے جو قاری کو خاموشی سے قائل کر لیتی ہے۔

یہ مضامین اس بات کا ثبوت ہیں کہ مصنف ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ سماجی شعور کی تعمیر کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ سوال بھی اٹھاتے ہیں اور قاری کو سوچنے کے لیے چھوڑ بھی دیتے ہیں، جو ایک بڑے قلم کار کی پہچان ہے۔

کتاب کا ایک نہایت دل کش پہلو اس میں شامل خود نوشت تحریریں ہیں۔ یہاں ڈاکٹر مظفر عباس ایک مصنف نہیں بلکہ ایک انسان کی صورت سامنے آتے ہیں۔ ان تحریروں میں یادوں کی خوشبو، تجربات کی تلخی، کامیابیوں کی مسکراہٹ اور وقت کے گزرنے کا ہلکا سا ملال موجود ہے۔

یہ خود نوشت تحریریں نہ تو خود نمائی کا شکار ہیں اور نہ ہی جذباتی مبالغے کا۔ بلکہ ان میں سادگی، خلوص اور سچائی کی وہ روشنی ہے جو قاری کے دل تک اتر جاتی ہے۔ مصنف اپنی ذات کے ذریعے دراصل اجتماعی انسانی تجربے کو بیان کرتے ہیں، اور یہی ان تحریروں کو آفاقی بنا دیتا ہے۔

“کہانی در کہانی” میں شامل افسانے اس کتاب کی روح معلوم ہوتے ہیں۔ یہ کہانیاں محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی تضادات اور وقت کے بدلتے ہوئے رنگوں کی علامتی عکاسی ہیں۔ ڈاکٹر مظفر عباس کا افسانوی اسلوب دھیمے بہاؤ کا حامل ہے، جہاں ہر جملہ قاری کو اگلی سطر تک لے جانے کی قوت رکھتا ہے۔

ان کہانیوں کے کردار عام انسان ہیں، مگر ان کے دکھ، خواب اور سوال غیر معمولی معنویت رکھتے ہیں۔ کہیں خاموش احتجاج ہے، کہیں اندرونی مکالمہ، اور کہیں تلخ حقیقت کو نرم علامت میں لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ یہی خوبی ان کہانیوں کو دیرپا اثر عطا کرتی ہے۔

ڈاکٹر مظفر عباس کی زبان سادہ، شستہ اور ادبی نزاکت سے بھرپور ہے۔ وہ نہ مشکل الفاظ کے سہارے قاری کو مرعوب کرتے ہیں اور نہ ہی سطحی انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب قاری کو ساتھ لے کر چلتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کا ہر حصہ رواں محسوس ہوتا ہے۔ جملوں کی ساخت، الفاظ کا انتخاب اور خیال کی ترسیل—سب کچھ ایک پختہ قلم کار کی گواہی دیتا ہے۔

“کہانی در کہانی” اردو ادب میں ایک خوش آئند اضافہ ہے، خاص طور پر ان قارئین کے لیے جو ادب میں محض کہانی نہیں بلکہ فکر، شعور اور زندگی کی بازگشت تلاش کرتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ادب کا اصل مقصد انسان کو انسان سے جوڑنا ہے—چاہے وہ مضمون کے ذریعے ہو، خود نوشت کے آئینے میں یا افسانے کی علامت میں۔

مختصر یہ کہ “کہانی در کہانی” ایک ہمہ جہت، سنجیدہ اور بامقصد کتاب ہے جو ڈاکٹر مظفر عباس کے فکری و تخلیقی سفر کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے قابلِ مطالعہ ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی ایک بہترین انتخاب ہے جو زندگی، انسان اور سماج کو ادب کی آنکھ سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تصنیف قاری کو دیر تک اپنے ساتھ رکھتی ہے—بالکل ایک اچھی کہانی کی طرح، جو ختم ہو کر بھی دل و ذہن میں جاری رہتی ہے۔ مصنف نے اسماعیل میرٹھی کی پن چکی کا بڑا سہارا لیا ہے اور اس سلسلے میں ان کی تحریوں کا بانکپن قاری کے آئینۂ ادراک کی سر زمین پر رنگ و نور کی کہکشاں بنا دیتاہے ۔ راقم کی شخصیت کا آپ نے ورقِ اربعہ پر احاطہ کیا ہے ۔ اسماعیل میرٹھی کی پن چکی یا اپنے قاضی صاحب