پینتیسویں کہانی:دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تُو: دیال سنگھ کالج کی حسین یادیں: ...

خطے بر ہستیٔ عالم کشیدیم از مژہ بستن ز خود رفتیم و ہم باخویشتن بُردیم ...

چونتیسویں کہانی:نیل کےساحل سے لےکرجامعۂ ازہر تلک: الاؤٹھنڈےہیں لوگوں نےجاگنا چھوڑاکہانی ساتھ ہےلیکن کسےسنائیں گے ...

یا علی گردنوں پر چل رہے ہیں روز خنجر یاعلی ہر طرف اِس شہر میں ...

جہانِ آب و گِل میں تھک کے چُور ہو گئی ہے رات۔ چراغ اور لفظ ...

ادھی عمر ، تے وَل ٹُرن دا سِکھدے سِکھدے لنگھ جاندی ہَے ادھی ہور ٹُرن ...

تینتیسویں کہانی: ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما: مسعود خرقہ پوش : آپ نے ...