اشتیاق احمد کی دو کتابیں

یہ تحریر 247 مرتبہ دیکھی گئی

اشتیاق احمد یوں تو ادبیاتِ اُردو کے استاد ہیں مگر اُن پروفیسروں  میں شامل نہیں جو تاحیات درسی کتب سے نکاحے رہتے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بیگماتی انداز سے نبھانے میں جٹے رہتے ہیں۔ اشتیاق احمد نے تحقیق و تدوین کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مطالعے میں دوسروں کو شریک کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ اُن کے انتخاب کردہ مضامین کے کئی مجموعے سامنے آچکے ہیں جن میں علامت نگاری، علامت کے مباحث، جدیدیت کا تنقیدی تناظر، کلچر……منتخب تنقیدی مضامین، فیض احمد فیض کی شاعری منتخب مقالہ جات وغیرہم شامل ہیں۔

اس وقت میرے پیشِ نظراُن کی دو کتابیں ”محمد حسن عسکری، عہد آفریں نقاد” اور ”محمد حسن عسکری اور معاصر تنقید“ ہیں یہ دونوں کتابیں بالترتیب 2005ء اور 2008ء میں مرتب کی گئی ہیں۔ پہلی کتاب میں مضامین کی تعداد20 ہے جب کہ دوسری کتاب میں 25 مضامین اور ایک مکالمہ (جو حسن عسکری صاحب کی شخصیت اور فن کے متعلق شمس الرحمن فاروقی کی گفتگو پر مشتمل ہے) شامل کیے گئے ہیں۔

محمد حسن عسکری کی شخصیت اُن کی زندگی میں اور وفات کے بعد اُردو ادب لکھنے اور پڑھنے والوں کے زیرِ بحث رہی ہے اور ہنوز اُن کے فن اور ان کی شخصیت پر بات ہو رہی ہے۔ یہ فخر کم ادباء  کے حصے میں آیا ہو گا کہ اُن کی فکر اور کام کو اتنی پذیرائی مل جائے کہ قریب ہر دھائی میں اُسے از سر نو سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش کی جائے۔

محمد حسن عسکری کی فنی شخصیت کی گوناں گوں جہات اُن کے وسیع مطالعہ کی عکاس ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں وہ اپنی سوچ اور فکر کی از سر نو تعمیر کرتے جاتے تھے۔ اسی لیے ہمیں دوسروں سے اختلاف کے ساتھ ساتھ محمد حسن عسکری خود سے برسرِ پیکار بھی نظر آتے ہیں۔ اور ایسا اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کوئی کرداری سطح پر اپنی مضبوط شخصیت اسطوار کر چکتا ہے۔ ہمیں کئی مقامات پر اِس  اختلاف کرنے کی بھنبھناہٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی زندگی میں بھی اُن کے مخالفین و معترضین نے اُن کی اس خصوصیت کو نشانے پر رکھا اور آج بھی اس حوالے سے گفتگو چلتی رہتی ہے۔ ایک بات جو اس سب کے باوجود اہم ہے وہ یہ کہ اُن کے معترضین اور معترفین اُن کی تنقیدی صلاحیت اور تخلیقی وارفتگی کے قایل ہی نہیں بہت حد تک اُن کی پیروی کو بھی مائل ہیں۔ 

محمد حسن عسکری صاحب کو سب سے زیادہ گزند دو گروہوں نے پہنچائی ہے اور وہ گروہان اُن کے اندھے مخالف اور نادان مقلد ہیں۔ ترقی پسندوں نے خود سے اُن کی خواہ مخواہ کی مخالفت کا ”الہامی معاہدہ“ طے کر رکھا ہے کہ محمد حسن عسکری مذہبی ہیں اور اپنی فہم و فکر کو ایک خاص حد پر لا کر پابند کر دیتے ہیں۔ جب کہ ترقی پسندوں کے مخالف ادیبوں کی ایک بڑی تعداد اُنہیں اپنا ایسا مرشد اور گُرُو خیال کرتی ہے۔ جس سے بس روحانی رشتہ برقرار رہنا چاہیے اور بے دلیل ترقی پسندوں کو برا گِرا کہتے رہنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ کہتے ہیں: ایک عالم کے دوست اور دشمن بے شمار تھے۔ یعنی مقبولیت غیر معمولی تھی۔ ایک پڑھالکھا بندہ بستی میں مقیم تھا اُس کے پاس  اُن عالم صاحب کا مخالف آتا یا حمایتی تو وہ اُس کی بری اچھی ساری باتیں سن کر ایک سوال کرتا کہ جن صاحب کو آپ اتنا برا بھلا کہہ رہے ہو اُن کی کسی ایک کتاب کا نام بتا دو جو تم نے پڑھ رکھی ہے یہی سوال وہ اُن کی تعریف کرنے والوں سے بھی کرتا۔ دونوں خاموش ہو جاتے۔ یعنی بے پڑھے ہی سن سنا کر بس  رائے قائم کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اکثریت نے عسکری صاحب کا بس نام سن رکھا ہے وہ بھی ادبی محفلوں میں۔ اُن کی کتابیں پڑھنا تو درکنار کسی سے کتاب کا نام ہی پوچھ لیا جائے تو خاموش ہو جاتے ہیں، البتہ جو اُنہیں پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ خواہ کسی مکتبۂ فکر سے متعلق ہوں اُن کے ہاں عسکری صاحب کی قدرو قیمت کم نہیں۔ 

زیرِ تبصرہ دونوں کتابوں میں عسکری صاحب کے حوالے سے سقہ ناقدین اور اُدباء کے مقالے اکٹھے کیے گئے ہیں۔ اُن میں کلیم الدین احمد کا وہ مشہورِ زمانہ مقالہ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے محمد حسن عسکری کے حوالے سے بڑی تلخ و ترش باتیں کی ہیں۔ جس کے جواب میں جانے کتنے مقالے لکھے گئے اور کہا گیا کہ اُن تک صرف ”جھلکیاں“ کے زیرِ عنوان لکھی گئیں تحریریں پہنچی تھیں اور اُسی پر اُنھوں نے رائے قائم کر لی۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ کلیم الدین احمد جیسا کڑا اور کڑوا نقاد بھی عسکری صاحب کو اپنی کتاب کا حصہ بنائے بغیر نہ رہ سکا یہ بذاتِ خود عسکری صاحب کی علمی و ادبی اہمیت کا اعتراف ہے۔ کتابوں میں زیادہ تر مضامین اہم لکھنے والوں کے شامل ہیں چند اسماء ؛ کلیم الدین احمد، ڈاکٹر سجاد باقر رضوی، مظفر علی سید، شمیم حنفی، شمس الرحمن فاروقی، سراج منیر،   سلیم احمد، ڈاکٹر تحسین فراقی، مبین مرزا اور آصف فرخی کے درج کیے دیتا ہوں۔

تمام مضامین اگرچہ یکساں وقعت کے تو نہیں کہے جا سکتے۔ مگر بیشتر پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاص کر جن اصحاب کا ذکر اوپر کیا گیا۔ شہزاد منظر کے تقریباً دس مضامین جو کہ عسکری صاحب کے فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہیں، دوسری کتاب ”محمد حسن عسکری اور معاصر تنقید“ کا حصہ ہیں۔ بعض باتوں کی دہرائی سے بچ پانا ممکن نہیں تھا۔ مگر مضامین کا مجموعی انتخاب اس بات کا متقاضی ہے کہ مرتب کی اس کوشش کی تعریف کی جائے۔ وہ احباب جو محمد حسن عسکری کے فن کے حوالے سے جاننا اور پڑھنا چاہتے ہیں اُنہیں یہ دونوں کتابیں ضرور اپنے بک ریک میں سجا لینی چاہیں۔ محقق حضرات کو تو اِن کی قدر وقیمت بتانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ دونوں کتابیں کسی دستاویز سے کم نہیں۔ 

بیت الحکمت لاہور نے انہیں شائع کیا ہے جب کہ دونوں کتابیں کتاب سرائے لاہور اور فضلی بک سپر مارکیٹ کراچی سے دستیاب ہیں۔ 

آخر میں تحقیق پسند احباب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دونوں کتابوں میں مضامین محمد حسن عسکری صاحب کے فن کے حوالے سے انتخاب کیے گئے ہیں۔ اُن کی شخصیت کے حوالے سے کوئی مضمون ان دونوں کتابوں میں شامل نہیں۔ اس لیے یہ میدان ابھی خالی ہے اُن کی شخصی خوبیوں اور خامیوں کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے اگر کوئی صاحب یا مذکورہ بالا کتابوں کے مرتب اس جانب توجہ کریں تو یہ کام بھی کم وقعت اور اہمیت نہیں رکھتا ہے۔