۔۔۔۔۔جنگل اداس ہے

یہ تحریر 363 مرتبہ دیکھی گئی

منیر نیازی کا دل ریل کی سیٹی بجتے ہی لہو سے بھر گیا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ زاہد ڈار کی رحلت کی خبر سنتے ہی لاہور کا دل ایک لمحے کے لیےدھڑکنا ہی بھول گیا ہوگا۔۔۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو زندگی اپنی شرطوں پہ گزارتے ہیں۔ مجھے جب اس سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو زاہد ڈار صاحب سے دو سال قبل ہونے والی مختصر ملاقات یاد آئی۔ میں اس دن واقعی ڈر گیا تھا مجھے وہ بہت کمزور نظر آئے۔ باہر چوکیدار کی کرسی پر بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے۔لیکن مجھے ڈر ان کی بڑھی ہوئی داڑھی سے لگا۔کئی دن شیو سےمحروم چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ تازہ شیو کرنے والا زاہد ڈار اب شاید تھک چکا ہے۔لیکن کتاب سے محبت پھر بھی اسے کشاں کشاں ریڈنگز تک لے آئی تھی۔آخر بڑی بڑی عرفان کھوجتی آنکھوں والا زاہد ڈار اپنی ڈار سے بچھڑ گیا۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ناصر کاظمی جیسے داستان گو کے یہ سب دوست اس قدر خاموش طبع کیوں ہیں۔۔۔گمبھیرتا اوڑھے ہوئے درختوں اور تھل کے خاموش اداس ٹیلوں جیسے لوگ۔۔۔انتظار حسین،محمد سلیم الرحمان، احمد مشتاق، زاہد ڈار، انور شعور جیسے لوگ، جن کی جوانی میں ان کے ہونے سے لاہور کی تمام ادبی محافل، مباحث، رسائل اور دلوں میں ہنگامے تھے۔ لیکن پچھلے کئی عشروں سے وہ خاموش ہیں۔۔اسی خاموشی میں کئی ناصر کاظمی کے ہاں چلے گئے اور کچھ اس گمبھیرتا کو اوڑھے ہوئے ابھی موجود ہیں۔
لاہور زمانہ طالب علمی میں محمد سلیم الرحمان اور زاہد ڈار کی زیارت تو ہو گئی تھی۔ سلیم سہیل کے ساتھ محمد سلیم الرحمان کے گھر بھی ایک دو بار جانا ہوا اور ان کی صحبت میں کچھ دن ادب سے پچھلی نشستوں پر بیٹھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔یہ سعادت تو نصیب ہوگئی لیکن میں پچھلے دس بارہ سال سے احمد مشتاق صاحب کی آواز سننا چاہتا تھا۔کئی بار ان کا نمبر لیا فون ملایا اور کاٹ دیا کہ کیا کہوں گا “میں آپ کا قاری ہوں ؟؟؟ آپ کا پرستار ہوں ؟؟” کس قدر بودی توجیہہ ہے۔مجھے لگتا تھا میں اس درویش کا مراقبہ نہ توڑ دوں۔۔۔کہیں اس کے سلسلہ ء خیال کو منقطع کرنے کا جرم نہ کر بیٹھوں۔ لیکن ڈار صاحب کی رحلت کا پرسہ یا تو محمد سلیم الرحمان صاحب کو دیا جا سکتا تھا یا احمد مشتاق کو۔ چناں چہ راقم نے کئی بار کال ملانے اور کاٹ دینے کی کوشش کے بعد احمد مشتاق کو کال کی۔انھوں نے خود کال اٹھائی۔جب ان سے زاہد ڈار کی رحلت کا ذکر کیا تو آہ بھر کر بولے “ہاں وہ بھی چلا گیا۔کئی سال سے صحت اچھی نہیں تھی۔” پھر ان کی گوشہ نشینی پہ بات ہوئی تو بولے “لوگ اب کورنٹین ہوتے ہیں میں کئی دہائیوں سے کورنٹین ہوں۔” مجھے احمد مشتاق کا ایک شعر یاد آگیا جو مشتاق احمد نے ان کے لیے لکھے گئے مضامین کی کتاب کے عنوان کا بھی حصہ ہے۔
پریوں کی تلاش میں گیا تھا
لوٹا نہیں آدمی ہمارا
احمد مشتاق ہمارا آدمی تھا۔وہ لوٹا تو نہیں لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ اس نے ہم سے اپنے کام کے ذریعے اور اپنے دوستوں کے ذریعے رابطہ بحال رکھا۔اس بات کی بھی مسرت ہوئی کہ اتنی دور بیٹھا آدمی اپنے دوستوں کی صحت وسلامتی سے آگاہ ہے۔ ناصر کاظمی ، انتظار حسین ، زاہد ڈار اور ان کی آوارہ گردی اور رات رات بھر سڑکوں پر پھرنے کا رومانس یاد کرایا تو بولے ” ہم سے پہلے بھی کئی لوگ ان سڑکوں پر چلتے تھے اور آئندہ بھی چلتے رہیں گے۔جب تک سڑکیں ہیں لوگ ان پر چلتے رہیں گے۔۔۔۔”
زاہد ڈار کتاب کا آدمی تھا اس لیے اچھی کتاب کی طرح حافظے کا حصہ رہے گا اور لاہور کے اجتماعی حافظے کا حصہ یہ تمام دوست رہیں گے۔ لاہور ان کے بغیر بھی زندہ رہے گا لیکن لاہور کا رومانس اور ٹرانس ان دوستوں کے ذکر کا محتاج رہے گا۔۔۔۔۔
کیا لوگ تھے کہ جو غم جاناں پہ مر مٹے
اے روزگار کیوں تری گردش نہ تھم گئی۔۔۔

شاہد بلال کی دیگر تحریریں