یہ کس کا خواب تماشا ہے، شمیم حنفی کے کالموں کا مجموعہ!

یہ تحریر 317 مرتبہ دیکھی گئی

                کالم نویسی ایک چمٹ جانے والا عارضہ ہے۔ اگر روزگار کا دارومدار ہی کالم نویسی پر ہو تو اس میں اور سریش میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ جو لوگ حقیقی معنی میں فکشن نگار یا شاعر ہیں یہ اصناف ان پر جابرانہ انداز میں مسلط نہیں ہو سکتیں۔ لیکن کالم نویس کی جان بخشی ممکن نہیں۔ چاہے کہنے کو بعض اوقات کچھ نہ ہو لیکن کالم تو گھسیٹنا پڑتا ہے یا یوں کہیے کہ کالم آپ کو گھسیٹتا پھرتا ہے۔ “گلیوں میں کالموں نے گھسیٹا کیا مجھے۔” ہوائے روزگار ظالم ہوتی ہے۔

شمیم حنفی اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ ان کا روزگار کالم نویسی سے وابستہ نہ تھا۔ جب جی چاہا کالم لکھے، جب جی نہ چاہا نہ لکھے۔ چنانچہ ان کے کالموں کے مجموعے میں تقریباً آدھے کالم 1980ء سے 1983ء تک کے ہیں۔ باقی 2002ء سے 2004ء تک کے متفرق برسوں میں لکھے گئے۔

بطور ادبی نقاد شمیم حنفی تعارف کے محتاج نہیں۔ بہرحال جو باقاعدگی سے کالم لکھے گا وہ خود کو ادب تک محدد نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے ان کالموں میں بھارت ہی نہیں دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی مسائل پر بھی تشویش سے نظر ڈالی گئی ہے۔ تشویش کے لفظ کا استعمال دیدہ دانستہ ہے۔ پاکستان ہو یا بھارت یا باقی دنیا، ہر طرف فضا میں ایسی اذیت پسندی یا لذتِ آزار پھیلی ہوئی ہے کہ تشویش میں مبتلا رہنا زندگی کا اسی طرح لازمہ بن گیا ہے جس طرح کھانا پینا اور سانس لینا۔

شمیم حنفی کا تعلق تعلیم و تعلم کے شعبے سے ہے اور اس کی خوبیوں اور خرابیوں سے کسی اندر کے آدمی کی طرح واقف ہیں۔ تعلیم کو ہم نے جس طرح کھیل یا لوٹ مار کا ذریعہ بنا دیا ہے بھارت بھی ہم سے پیچھے نہیں بلکہ کالموں میں درج بعض فرمودات حیرت زدہ کرنے والے ہیں۔ مثلاً پروین توگڑیا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا وجود ہمارے بہت سے مسئلوں اور پریشانیوں کا سبب ہے۔ اس یونیورسٹی کو بند کر دینا چاہیے۔ جے پرکاش نراین نے ایک مرتبہ تجویز پیش کی کہ پانچ سال کے لیے یونیورسٹیوں کو بند کر دینا چاہیے۔ جب سیاست دان اور دانشور اس طرح کی باتیں کریں تو تعلیمی اداروں کے سدھرنے کا کیا امکان رہ جاتا ہے۔

شمیم حنفی علی گڑھ میں بھی رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی خراب حالت پر بجا طور پر پریشانی ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : “بظاہر دیکھا جائے تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے امراض اور المیے بھی وہی ہیں جن سے ملک کی دوسری یونیورسٹیاں دو چار ہیں۔ نااہل اساتذہ، بدشوق طالب علم، کاہل اور تن آسان انتظامیہ۔ اساتذہ پیسے کمانے کے لیے ایسے دھندے کرتے ہیں جو کسی بھی طرح سے ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔” یہ مارچ 81ء کی تحریر۔ خدا کے فضل سے ہماری یونیورسٹیوں کا بھی یہی حال ہے۔ شاید ابتر ہی ہو۔ کم از کم اس معاملے میں ہم بھارت کی برابری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ شاید سرحد پار ایسی حالت شروع سے نہ تھی۔ محمد شمیم جیراج پوری (وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی) نے لکھا ہے: “1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں ہم لوگوں یا اس وقت کے دوسرے ریسرچ اسکالروں نے اپنی ریسرچ میں جس قدر دلچسپی دکھائی تھی اور جس محنت سے کام کرتے تھے اب مجموعی طور پر اس کا فقدان ہے۔ حالات اور واقعات کے مشاہدے کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ راتوں رات دولت مند بننے کی خواہش اور ہوس تعلیمی و تخلیقی زندگی پر حاوی آ گئی ہے۔ ان بدلتی ہوئی ترجیحات کی ہم کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔” قصہ مختصر، ان کالموں سے تعلیم کے بارے میں ہمارے رویوں کی کوئی اچھی تصویر سامنے نہیں آتی۔

ایک اور کالم میں لکھتے ہیں کہ ایک روز ایک تعلیم یافتہ دوست نے کہا: “قرآن اردو ہی میں تو ہے۔” ایک مرتبہ سفر کے دوران میں ایک شائستہ اجنبی سے گفتگو کرتے ہوئے علی گڑھ کا ذکر آیا تو بولے۔ “وہاں کی یونیورسٹی میں عربی اردو کے علاوہ بھی کچھ پڑھایا جاتا ہے۔” یہ تو خیر جہالت کی مثالیں ہیں۔ ایک بات عبرت کے لیے بھی درج کر دی جائے۔ ایک سال اچھی بری بہت سی کتابوں کے ساتھ اترپردیش اردو اکیڈمی نے قرۃ العین حیدر کے ناول “آخر شب کے ہم سفر” کو بھی انعام دیا۔ دو ہزار روپیے کا اور یہ بھی کہا کہ اس مرتبہ کوئی کتاب تین ہزار روپیے کے انعام کی مستحق نہیں سمجھی گئی۔

بھارت میں اردو کو مسائل درپیش ہیں۔ ان کے بارے میں شمیم حنفی کے کئی کالم فکر انگیز ہیں۔ کبھی سوچا تھا کہ جب انگریز چلا جائے گا تو انگریزی کا زور بھی ٹوٹ جائے گا لیکن پاکستان ہو یا بھارت ہر طرف انگریزی عفریت کی طرح حکومتوں، دفتروں، تعلیمی اداروں اور ذہنوں پر مسلط ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی پر کبھی زوال آیا تو وہ امریکہ کے زوال سے منسلک ہوگا۔ یہ بھی شاید خوش فہمی ہے۔ زبانوں کی طاقت صرف ادب میں ہی نہیں علم میں بھی پنہاں ہوتی ہے۔ اربوں کی گرانٹیں عطا کرنے سے، سرکاری زبان بنا دینے سے، نہ تو بڑے شاعر اور فکشن نگار پیدا ہو سکتے ہیں اور نہ عالم۔ ہاں، بعض ادیب ان گرانٹوں کی بدولت متمول ہو جائیں تو الگ بات ہے۔ اردو کے مسائل صرف اسی صورت میں حل ہوں گے جب اردو کے بہی خواہوں کا مزاج بدلے گا۔

ان کالموں میں فلسطینیوں کے مصائب، عراق کی تباہی، امریکہ کی چیرہ دستیوں، پاکستان اور بھارت میں سر اٹھانے والے انتہاپسند مذہبی عناصر کا ذکر بھی ہے، روز مرہ کی باتیں بھی ہیں۔ اس کی سب سے اچھی مثال “ڈی ایل 7710” ہے جس میں ایک وضع دار، اپنا اور اوروں کا خیال رکھنے والے آٹو رکشا ڈرائیور کی روداد ہے۔ کالم نویسی کے دوران میں جو دوست یا پڑھنے والے اس جہان سے رخصت ہوئے ان کی شخصیت اور کام کا جائزہ بھی موجود ہے۔ مثلاً مولانا عرشی، جوش، فراق، جگر، سلیم احمد، جیلانی کامران، جون ایلیا۔ غرض ہر کالم ایک کھڑکی ہے جس میں سے کبھی دور تک کا منظر دیکھا جا سکتا ہے، کبھی نظر آس پاس کے کسی تماشے میں الجھ جاتی ہے۔ نثر سلیقے کی ہے۔ شمیم حنفی فالتو الفاظ استعمال کرنے کے قائل نہیں۔ ویسے بھی کالم میں لچھے دار خطابت پردازی کی گنجائش کہاں ہوتی ہے۔ ایک معاملے میں مجموعہ پاکستانی کتابوں کی ٹکر کا ہے یعنی پروف کی غلطیاں خاصی ہیں۔ یہ جملہ ملاحظہ ہو: “ان کی صحبت برسوں سے خراب تھی۔” سب سے بری گت جارج آرویل کی بنی ہے جس کا نام ایک جگہ “چارج آروی” چھپا ہے، جیسے بہار کے علاقے آرہ کے کسی مزاحیہ شاعر کا تخلص ہو۔ لفظوں اور ناموں پر اتنا لاٹھی چارج زیادتی ہے۔ یہ کس کا خواب تماشا ہے (شمیم حنفی کے کالم)، ناشر عرشیہ پبلی کیشنز، دلی۔ صفحات 405۔ چار سو روپیے