یوں بھی ہوتا ہے

یہ تحریر 111 مرتبہ دیکھی گئی

سفر کا آغاز تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہی ہوگیا ۔ شاید اس وقت جب اس نے اس تحقیقی کورس ں داخلہ لیا تھا ۔ اس وقت جب اسے ایک نہایت ہی نامور شاعر کے فن پر تحقیقی مقالہ لکھنے کا کام دیا گیا تھا ۔ یا شاید اس سے بھی پہلے مگر اس نے اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے کوئی خاص تیاری نہیں کی تھی ضرورت بھی کیا تھی ۔ اس نے کوچ کے ذریعے آدھی رات کو روانہ ہونا تھا ۔ صبح سویرے وہ منزل پر پہنچ جاتا ۔ کام صرف اتنا تھا کہ شاعر کی بیوہ سے مختصر انٹرویو کرنا تھا ۔ دوپہر یا زیادہ سے زیادہ سہ پہر کو روانہ ہو کر واپس آجاتا ۔
سردیوں کی دھندلی رات میں جب کوچ اپنے سفر پر روانہ ہوئی تو سڑک دھند سے لبریز تھی ۔ کوچ کی طاقت ور روشنیوں کے باوجود زیادہ دور تک دیکھنا ممکن نہیں تھا ۔ اس لیے کوچ آہستہ روی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف چلی تو اس نے حسب عادت کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کیا ۔ لیکن شہر سے نکلتے ہی وہ اپنی کھڑکی سے چند فٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ کہیں کہیں دور روشنی سی جھلملاتی دکھائی پڑتی مگر کبھی گمان گزرتا کہ اس کی نظر کا دھوکا ہے ۔
اس نے آنکھیں بند کرلیں اس کے ذہن کے منظر پر شاعر کی شبیہ ابھری ۔ ایک درد ماندہ فرد جس نے اپنی زندگی کسماپرسی اور گمنامی میں گزار دی مگر جس کی موت کے بعد اس کی شہرت اور شاعرانہ عظمت کا آغاز ہوا اور اب اسے بلاشبہ اپنے عہد کا سب سے اہم شاعر قرار دیا جا رہا تھا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے جو زندگی اس نے گزاری تھی اس کا مداوا ممکن نہ تھا ۔ اس نے اپنے ذہن میں بننے والی شہر کی شبیہ پر اپنی توجہ مرتکز کرنے کی کوشش کی ۔ شاعر کے چہرے پر سب سے نمایاں چند اس کی تیکھی ناک تھی ۔ چھوٹی مگر گہرائی میں اترتی آنکھیں دوسرے نمبر پر آتی تھیں ۔ اس وقت نجانے کیوں یہ شبیہ اس کے ذہن میں واضح نہیں ہو پا رہی تھی ۔ ورنہ اس نے شاعر کی تصویریں اتنی بار دیکھی تھیں کہ اسے چہرے کی ایک تفصیل یاد تھی ۔ ایسے لگتا تھا جیسے باہر کی دھند اس کے ذہن میں غبار کی شکل اختیار کر رہی تھی ۔
ایسے میں ایک بات ذرا ہٹ کر تھی اور وہ اس کے اندر دبا دبا جوش اور جذبہ تھا ایک تو اس نے جب اپنے مقالے کے لیے موضوع کا انتخاب کیا تو یہ اس کی اپنی پسند تھی ۔ آگے چل کر گرچہ اسے بعض اوقات مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اپنے نگران کی تسلی کے لیے کچھ باتیں اپنے مزاج کے خلاف بھی برداشت کرنا پڑیں ۔ مگر اس کے باوجود موضوع کے ساتھ اس کی ذہنی و جذباتی قربت میں کوئی فرق نہ آیا ۔ بلکہ جیسے جیسے وہ شاعر کی شاعری ا ور اس پر ہونے والی تنقید پڑھتا گیا ۔ شاعر کے لیے اس کی محبت اور اپنائیت میں اضافہ ہوتا گیا ۔ شاعر نے حیات و کائنات کے معاملات پر نہایت غور و فکر کے بعد انھیں نہایت سادگی اور سہولت سے بیان کردیا تھا ۔ شاعری میں فکری الجھنیں تو تھیں اور کہیں کہیں شاعر کے استعارے بھی تفہیم میں حائل تھے مگر شاعری کو سمجھنے کی تگ و دو وہی تو وہ اصل بات تھی جو مسرت بخش تھی ۔
شاعر کے بارے میں ایک بات اسے گومگو میں مبتلا کرتی تھی وہ اس کی ذاتی زندگی اور شاعری کا تضاد تھا ۔ زاہد خشک کی زندگی، مایوسیوں ، بے بسوں اور درماندگی سے پر خوشیوں ، مسرتوں سے دور مگر قناعت کا عمدہ نمونہ ۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ ذاتی زندگی اور شاعرانہ زندگی اس شاعر کے ہاں ٹرین کی دو پٹریوں کے طرح متوازی کیوں چلتی رہیں ۔ ساتھ ساتھ مگر کہیں بھی ایک دوسرے سے ملاپ کے امکان سے محروم ۔ چلتی کوچ میں نیم خوابیدگی کے عالم میں وہ اپنے اندر ایک دبا دباجوش ضرور پاتا تھا ۔ اس شاعر کی بیوی کے روبرو ہونے سے اس شاعر کی نجی زندگی کے بارے میں پوچھنے، کچھ ایسے گوشوں سے پردہ اٹھانے جو ابھی تک نظروں سے اوجھل ہیں ۔
خود اسے شاعر کی نجی زندگی سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں تھی اور وہ اس کرید کے لیے خود کو آمادہ بھی نہیں پاتا تھا ۔ مگر تحقیق کے اپنے معاملات ہیں ۔ نگران کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے اپنے نتاءج ہیں جن سے وہ ہر ممکن بچنا چاہتا تھا ۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نجی محفلوں میں اس بات پر طنز کے نشتر ضرور چلاتا کہ ہمارے بڑے محققین،م جب تک اچھے بھلے تخلیقی موضوع پر یبوست کی نقد نہ بٹھا دیں ۔ سند جاری نہیں ہونے دیتے ۔ رٹے رٹائے حوالے، چند پروفیسروں کی تحریروں سے اقتباس ۔ تنقید کے نام پر گزرے ہوئے نقادوں سے اتفاق کیوں کر اختلاف کی گنجائش کم ہوتی ہے اور اس کے نتاءج دور رس اس نے اپنے ذہن میں آنے والے ان تصورات کو جھٹکنے کی کوشش کی ۔
زندگی بھی انسان سے کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے ۔ ایک طرف دولت اور آسائشوں کے ڈھیر اور دوسری طرف محرومیوں اور غربت کے انبار مگر اصل اہمیت کس بات کی ہے ۔ زندگی میں چمکتی دمکتی آشائیوں کی یا خود میں مگن اپنی دھن میں زندگی جانے کیسے بسر کی ۔ تو اس نے جس شاعر پر کام کا آغاز کیا تھا وہ بھی اپنی دھن میں مگن رہ کر گزارتی ہے تو پھر شہر چھوٹا ہو تو تب کیا اور بڑا ہو تو جب کیا ۔ اس شاعر نے بھی اپنی زندگی ایک چھوٹے سے شہر میں بسر کردی تھی ۔ اس شہر کے درمیان سے ایک نہر گزرتی تھی گرمیوں کی شاموں میں وہ نہر کے کنارے جب اپنی سائیکل پر رواں ہوتا تو اس کو اپنے ساتھ ایک کائنات سفر میں دکھائی دیتی وہ ستاروں کی چال سے کائنات کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا اور ایک بار تاجر پیشہ لوگوں نے جب نہر کے کنارے آگے ہرے بھیرے چھتناور کاٹ دیتے تو اس کا تخلیقی وجدان دکھ اور قرب کی قندیل سے روشن ہوگیا ۔ اسے محسوس ہوا یہ درخت نہیں کٹے بلکہ اس کے ماہ و سال کسی نے زندگی سے کاٹ کر پھینک دیئے ہیں ۔
اس نے اپنی توجہ شاعر کی تصویر پر جمانے کی کوشش کی ۔ اس کی آنکھوں میں دھندلا دھندلا چہرہ ابھرا ۔ چند تصاویر کے علاوہ ایک ٹی وی ریکارڈنگ کی ویڈیو، دھیمی آواز، مکالمہ اتنا آہستہ رو کہ خود کلامی کا گمان گزرتا ۔ اس نے وہ ویڈیو کئی بار دیکھی تھی اور ہر بار اس کا شک پختہ ہوگیا تھا کہ اپنے ٹی وی انٹرویو کے دوران بھی وہ روشنیوں کمروں اور میزبان سے لاتعلق کہیں اپنے آپ میں گم ہے ۔ اپنے اردگرد سے ایسی لا تعلقی اسے حیران کردیتی اور وہ سوچتا کہ زندگی کا چلن ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں تعلق کے ہونے یا نہ ہونے کے درمیان حد واضح نہ ہو ۔
اب معاملہ سفر در سفر رکا تھا ۔ رات کے اندھیرے، سردی کی دھند اور اپنی رفتار میں مگن کوچ اپنے سفر پر رواں تھی ۔ کوچ کے اندر مسافر جاگو میٹی کے کھیل میں مصروف تھے ۔ اس کے ذہن میں کبھی تصورات نہایت تیزی کے ساتھ گزرتے اور کبھی اتنی آہستگی سے کہ اسے گمان ہوتا کہ اس کا ذہن بالکل خالی ہوگیا ہے ۔ تب اسے وہ جملہ اپنی پوری گونج کے ساتھ سنائی دیتا ’’میری زندگی تو برباد کردی حرامی نے ۔ ‘‘
اس نے چونک کر اپنے اردگرد دیکھا ۔ سب مسافر اپنے آپ میں مگن تھے ۔ سردی کے باوجود کوچ کے اندر حدت تھی ۔ سامنے ایل سی ڈی پر کوئی فلم چل رہی تھی ۔ جس کی آواز سونے والے کے آرام میں خلل ڈالتی ۔ کچھ مسافر اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگائے آنکھیں بند کئے اپنی آرزوءوں کے چمن کی سیاحت میں مگن تھے ۔ ایک لمحے کے لیے ایسے محسوس ہوا کہ آوازاس نے ابھی ابھی سنی ہے ۔ پھر گمان گزرا کہ جیسے یہ آواز اس کے اندر سے بلند ہوتی ہے ۔ اس نے اپنی توجہ شاعر کی بیوی سے ہونے والی ملاقات پر مبذول کی ۔
کوچ سے اتر کر اس نے فون پر اس شہر کے ایک اور مشہور لکھنے والے سے رابطہ کیا جو شاعر کے خاندان سے واقف تھا اور یہ تو وہ بتا ہی چکا تھا کہ اس کے سگے عزیزوں میں کوئی بھی اب اس شاعر میں موجود نہیں ۔ کچھ اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور کچھ ملک کے دوسرے شہروں میں جا آباد ہوئے ہیں ۔ اولاد کوئی تھی نہیں بس اس کی بیوی اپنے بھائی کے پاس رہتی ہے ۔ اس لکھنے والے کو شاعر کی بیوی کا پتہ معلوم تھا کہ کیوں کہ شوہر کی پنشن کے حصول میں آنے والی مشکلات کو دور کرنے میں وہ اس کی مدد کیا کرتا تھا ۔ فون پر بتائے ہوئے پتے پر وہ پہنچا تو اس کا استقبال خندہ پیشانی سے کیا گیا اور صبح کے وقت کی مناسبت سے سادہ سا ناشتہ اس کے سامنے رکھ دیا گیا ۔ اس نے بھی بلا تکلف اپنی جسمانی غذا سے انصاف شروع کردیا ۔
ناشتے کے بعد مشہور لکھنے والے نے اپنے بیٹے کو اس کے ساتھ کردیا کیوں کہ خود اسے شہر میں ہونے والی ایک تقریب میں جانا تھا کہ وہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صحافی بھی تھا اور ملک کے ایک ممتا ز اخبار کے مقامی نامہ نگار کے طور پر اہم سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا ۔ اس نے لکھنے والے کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بیٹے کے ساتھ اپنی منزل مراد کی طرف چل پڑا ۔ لڑکی کی عمر بیس سال کے قریب تھی اور لڑکے نے اسے بتایا کہ وہ مقامی کالج میں انگریزی میں ایم اے کر رہا ہے اور اس کا ارادہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کا ہے ۔ ویسے تو وہ کرکٹر بننا چاہتا تھا لیکن باپ کے دباءو میں آکر اپنی تعلیم جاری رکھنے پر مجبور ہے اس نے باتوں باتوں میں یہ بھی بتایا کہ اس نے چند سال پہلے کچھ شاعری کی تھی مگر پھر وجہ شاعری اور شغل شاعری دونوں سے توبہ کرلی ۔
راستہ کچھ زیادہ طویل نہیں تھا اور موٹر سائیکل نے اس سفر کو اور مختصر کردیا تھا ۔ وہ راستے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔ بازار، دوکانیں ، گزرتے لوگ جیسے ہر شہر یا قصبے میں ہوتے ہیں ۔ بہت کچھ ملتا جلتا بس تھوڑا تھوڑا مختلف کہا جاسکے کہ یہ نئی جگہ ہے ۔ موٹر سائیکل بڑی سڑک سے بغلی گلی میں آگئی اور گلی میں دوچار موڑ مڑنے کے بعد ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے کھڑی ہوگی ۔ لڑکے نے آہستہ سے دروازے پر دستک دی ۔ دوسری دستک پر اندر سے کسی نے پوچھا کون ۔ لڑکے نے اپنا نام بتایا ۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی نے دروازہ کھولا ۔ آنے والے کے اندر میں لڑکے کے لیے شناسائی موجود تھی جب کہ اس پر ایک اجنبی سی نگاہ ڈالی دروازہ کھولنے والے نے لڑکے کی طرف دیکھا ۔
یہ بڑے شہر سے آئے ہیں ۔ ابا نے آپ سے بات کی تھی ۔ آپا سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں ۔ چچاجی کے حوالے سے ۔ ’’اندر آجائیں ‘‘ وہ ایک طرف ہٹ گیا اور وہ دونوں دروازے میں لٹکا پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوئے ۔ میزبان نے انھیں دائیں طرف بنے ایک کمرے میں بٹھا دیا ۔ اور خود گھرکے اندر چلا گیا ۔
’’یہ آپا کے بھائی ہیں ‘‘ ۔ ان کے پاس ہی وہ رہتی ہیں ۔ اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کمرے پر نگاہ ڈالی ۔ کمرے میں چند کرسیاں اور ایک میز پڑی تھی ۔ درمیان میں قدرے صاف اور رنگ برنگی دری بچھی تھی ۔ کمرے میں باہر کی جانب کھلنے والی کھڑکی پر سادہ سا پردہ پڑا تھا ۔ اندر کی سمت والی دیوار کے ساتھ ایک پلنگ بچھا تھا ۔ ان کی میزبان کوئی ساٹھ ستر سال کا قدرے فربی مائل سانولی رنگت والا فرد تھا ۔ جس کی قامت اسے اپنے برابر محسوس ہوئی تھی ۔ وہ دونوں کمرے میں بیٹھے انتظار کرتے رہے اس دوران وہ تو اپنے خیالات میں کھویا رہا ۔ مگر لڑکا شاید اسے متاثر کرنے کے لیے اپنے اور اپنے شہر کے سارے میں بولتا جا رہا تھا ۔ جس کے جواب میں وہ کبھی اثبات میں سر ہلاتا اور کبھی ہوں ہاں میں جواب دیتا ۔ رات پھر سفر کرنے سے اس کے ذہن پر ہلکی سی غنودگی اور دھند باقی تھی اور اس نے ایک دو بار ہلکی سی جمائی بھی لی ۔
اب وہ بالکل درست نہیں بتا سکتا کہ کتنا وقت گزرا ۔ شاید دس منٹ یا پندرہ منٹ یا ایک گھنٹہ ۔ دروازے پر آہٹ ہوء ۔ اس نے دیکھا تو ان کا میزبان اندر داخل ہو رہا تھاے ۔ اس کے ہاتھ میں چائے کے عام سے گھروں میں استعمال ہونے والے سادہ سے کپ اور ایک چھوٹی سی پلیٹ میں بسکٹ، ایک تھالی میں سجے تھے۔ اس نے برتن کرسیوں کے سامنے پڑی میز پر رکھ دیئے اور بولا ۔
’’آجاؤ اپنے بچے ہی ہیں ۔ ‘‘
وہ سنبھل کر بیٹھ گیا اور اس نے دروازے پر نگاہ ڈالی ۔ ایک میانے قد کی، قدرے کھلتی رنگت کی سفید بالوں والی کمزور سی عورت کمرے میں داخل ہوئی ۔ اس نے کن رنگوں کا پرنٹ پہن رکھا تھا اب اسے یاد نہیں آرہا تھا اگرچہ اس واقعہ کو چند گھنٹے ہی گزرے تھے ۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس نے آنے والی عورت کو غور سے نہیں دیکھا تھا ۔ اسے ایک رعب سا پورے ماحاول پر چھایا محسوس ہوا تھا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئی تھیں ۔ وہ ورت اس کی کرسی کے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹھ گئی ۔ اسے محسوس ہوا یہ دو آنکھیں کچھ اس کے چہرے پر کچھ ڈھونڈ رہی ہیں ۔
وہ اپنے سامنے دیکھنے کے بجائے خود کو بات کے آغاز کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا اس نے پہلے تو ان کا شکریہ ادا کیا ۔ شاعر کی توصیف میں کچھ شاندار الفا کہیں ۔ اسے اپنی آواز اوپری اوپری ہی محسوس ہوئی اور لگا کہ سامنے والی عورت نے ان الفا کو سنا ان سنا کردیا ہے یا تو وہ یہ بالتیں پہلے بی کئی بار سن چکی تھی یا اس کے کان ان الفا سے شناسا نہیں تھے اور اس کا ذہن ا ن الفا کو اپنے اندر سمونے اور با معنی بنانے کے ہنر سے آشنا نہیں تھا ۔
اس نے بیگ سے چھوٹا ریکارڈ نکال کر چیک کیا اور اسے اپنے سامنے میز پر اس طرح رکھا کہ مائیک کا رخ مخاطب کی طرف رہے ۔ پھر اس نے صاف کاغذ اور قلم نکالا اور تیار ہوگیا چند ابتدائی باتیں ۔ نام، تعلیم، شادی کب ہوئی ۔ بس ہوگئی ۔ کتنا عرصہ تک رہے ۔ چند ماہ یا پتہ نہیں رہے بھی کہ نہیں رہے ۔ عورت نے اس کے سوالوں کا جواب چند الفا یا ہوں ہاں میں دیا ۔ اس دوران اس نے چائے کے چند گھونٹ بھی لیے ۔ ایک دو بسکٹ کھائے اور اپنی پور توجہ اس بات پر لگا دی کہ وہ اس سے کچھ کام کی باتیں معلوم کرسکے ۔ ایسی باتیں جنہیں وہ اپنے مقالے میں درج کرسکے ۔ ایسی باتیں جو ادبی حلقوں میں دھوم مچادیں ۔ مگر لگتا تھا کہ شاید اسے چند رسمی باتوں کے علاوہ کچھ بھی معلوم نہیں ہوگا ۔
جب وہ پہلے سے تیار کئے گئے سوال پوچھ چکا تھا تو اس نے اپنے ذہن میں نئے گونجنے والے سوالوں کو گرفت میں لینا چاہا مگر اسے لگا کہ ذہن پر چھایا اندھیرا اور دھند مزید گہری ہوگئی ہے ۔ اس میں کچھ بھی تازہ اور نیا نہیں ۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال گونجا ۔ اس نے پہلی بار اپنے سامنے بیٹھی عورت پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے اس سے پوچھا کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے شوہر اس ملک کے کتنے بڑے شاعر ہیں ، ان کا کلام کتنا عمدہ ہے اور کیسے کیسے لوگ اب ان پر لکھنا اور ان کے بارے میں اظہار خیال کرنا اپنے لیے باعث صد افتخارسمجھتے ہیں ۔ عورت چپ رہی اسے لگا کہ اس نے اپنا سر ہلایا ہے مگر یہ جنبش اتنی خفیف تھی کہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اس نے اپنے سر کو ہاں میں ہلایا ہے یا نہیں میں تب اس نے قدرے جھنجھلائے ہوئے انداز میں پوچھا کیا آپ ان کی قدر و قیمت سے واقف ہیں ۔
اسے لگا کہ تب اس عورت کے ہونٹوں سے پہلے بار ایک مکمل جملہ ادا ہوا اس کے کانوں نے اس جملے کی سماعت کی ۔ مگر یہ بات وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ اس عورت نے کہا ہو ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خودبخود عورت کے ذہن سے اس کے ذہن میں منتقل ہوگیا ہو ۔ شاید پھر یہ خود اس کے اپنے باطن کی آواز ہو جو اس نے اپنے کانوں سے سنی ہو ۔