یاسمین حمید کی شاعری کا انتخاب ۔ ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے

یہ تحریر 2659 مرتبہ دیکھی گئی

یاسمین حمید ہمارے عہد کی خاموش طبع شاعر ہیں۔ نہ کوئی شور، نہ ہاؤ ہُو، نہ ڈھنڈورا، نہ نمائش، پھر بھی جو اُن کی شاعری پڑھتا ہے، داد دیے بغیر نہیں رہتا۔ اُن کا کلام خاموشی اور دھیمے پن سےیوں ہماری سماعت سے ٹکراتا ہے کہ سُبک رَو اور ٹھنڈی ہوا کے تازہ جھونکے کے سے سُرور کی کیفیّت طاری ہو جاتی ہے۔ پڑھتے پڑھتے قاری محویّت کے عالم میں اَن دیکھی دُنیاؤں میں کھو جاتا ہے، اُسے لگتا ہے جیسے وہ سفر کے دوران کسی دل آویز منظر کو دیکھ کر اور بے خود ہو کراینی سواری سے نیچے اُتر آیا ہے اور منظر کا دل آویز سحر اُسے کسی اَور ہی دُنیا میں لے گیا ہے، یا آہستہ آہستہ اُسے یوں اپنی گرفت میں لے رہا ہے جیسے کسی پُر سکون جھیل کا سُبک رَو پانی پاؤں سے اتکھیلیاں کرتا، ٹھنڈک اور سکون کے نئے محسوسات کو جگاتا کسی اَن دیکھے نگر کا پتا دیتا نظر آرہا ہے۔
کتابی صورت میں یاسمین حمید کی اسی شاعری کا انتخاب میرے پیشِ نظر ہے۔ “ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے (انتخاب)” کے عنوان سے یہ کتاب کراچی سے اکادمی بازیافت نےجولائی 2018ء میں شائع کی ہے۔ یاسمین حمید کی شاعری کا یہ انتخاب رضی مجتبٰی نے کیا ہے۔ اُن کا پیش لفظ بھی “کچھ اس انتخاب کے بارے میں” کے عنوان سے شاملِ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ نجیبہ عارف کا “یاسمین حمید کی شاعری” کا تفصیلی تنقیدی مطالعہ اور خود یاسمین حمید کا دیباچہ “چند باتیں” بھی انتخابِ کلام سے قبل کتاب میں موجود ہے۔ انتخاب کنندہ نے یاسمین حمید کی شاعری کا یہ انتخاب اُن کی کُلّیاتِ شعری “دوسری زندگی” سے کیا ہے۔ اس میں اُنھوں نے شاعر کی نظمیں، غزلیں اور نثری نظمیں اسی ترتیب سے علاحدہ علاحدہ حصّوں میں شامل کی ہیں۔
اس کتاب میں یاسمین حمید کی شاعری کے بارے میں جن ماہرینِ فن کے خیالات شامل ہیں، اُن میں سے بیش تر نے یہ لکّھا ہے کہ یاسمین حمید کی شاعری کا آہنگ تو نسائی ہی لگتا ہے لیکن اس میں انفرادیّت یہ ہے کہ یہ رنگ اُس عورت سے مخصوص نہیں جیسے ہمارے ہاں کی دیگر خواتین شاعروں میں ملتا ہے۔ یاسمین حمید کے ہاں عورت کے دُکھ وہی ہیں لیکن اُن کے ہاں عورت اپنے احساسات کے ساتھ کوٹھڑی میں بند نہیں، نہ ہی وہ اپنی ذات کی پنہائیوں میں گُم رہتی ہے، بل کہ وہ خود کو اس کائنات کا ایک لاازمی جُزو جانتے ہوئے انسانوں کی طرح سوچتی اور انسانوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ طوالت کی گنجائش نہیں، نمونے کے طور پر محض دو مختصر نمونے ملاحظہ کیجیے:
غبارِ بے یقینی نے مجھے روکا ہوا ہے زمیں سے پُھوٹ کر باہر نکلنا چاہتی ہوں
نمودِ صُبح سے پہلے کا لمحہ دیکھنے کو اندھیری رات کے پیکر میں ڈھلنا چاہتی ہوں (صفحہ 299)
قدموں سے ریت کو جھاڑتی جاؤ !
رات کو دن سے پہلے سمجھو !
دن کے بعد نہ سمجھو !
پہاڑی راستے کو میدانی راستے پر ترجیح دو !
اُس کی طوالت آنکھ کی حدود میں نہیں آتی (صفحہ 412)
راے نگاروں نے یاسمین حمید کی جس دوسری شعری خصوصیّت کو خاص طور پر واضح کیا ہے وہ اُن کے ہاں ماورائی منظر کشی ہے۔ یاسمین حمیدنے اپنی شاعری میں تمثیل کی صنف کو کام یابی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اُن کے ہاں ماورائی تمثیل نگاری کے نمونے جس کثرت سے ملتے ہیں، اتنے اُردو شاعری میں کسی کے ہاں کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ خصوصیّت کے ساتھ جدید تر اُردو شاعری میں ماورائی اور تمثیلی منظر کشی میں اُن کا ثانی ملنا مُشکل لگتا ہے۔ اُن کے ہاں اس رنگ کے نمونے ورق ورق بکھرے ہوئے ہیں لیکن تنگیِ داماں کے پیشِ نظر یہاں بھی محض دو مختصر مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے:
ادھورے سر پھرے کردار
اپنی داستانوں کے کُھلے اوراق پر
بکھرے ہوئے کردار
قندیلیں اُٹھائے
نعرہ زن
آتش فشاں سینوں میں پلتے خواب لے کر چل رہے ہیں
اور کہانی ختم ہونے کو نہیں آتی ” (“سلسلہ در سلسلہ”، صفحہ 80)

وہ کنارے پہ چلتے چلتے
پانی پہ دوڑنے لگی،
پار تو اُتر آئی
مگر پیروں کو خشک نہ رکھ سکی
اور ایک پاؤں تو دریا ہی میں رہ گیا
وہ خار دار تار سے بچتی بچاتی
اپنے گھر پہنچی
مگر جسم کا لہو کہیں پیچھے گِرا آئی
یاسمین حمید نے کتاب میں شامل اپنے دیباچے میں تفصیل کے ساتھ تخلیقی عمل میں وقتِ موجود یا معاصریّت، آفاقیّت اور شعری فضا کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔یہ مباحث اگرچہ پرانے ہیں لیکن یہ بات اس حوالے سے اہم ہے کہ ہر تخلیق کار اپنے انفرادی تخلیقی عمل کو کچھ ایسے محسوس کرتا ہے جیسے دوسرا کوئی (تخلیق کار یا غیر تخلیق کار) محسوس نہیں کر سکتا۔ ماہرینِ فن نے اسے انفرادی تخلیقی تجربہ کہا ہے اور اس کی افادیّت پر مُہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔ یاسمین حمید نے اپنا تخلیقی تجربہ خیالات کی صورت میں تفصیل کے ساتھ بیان کاا ہے، جب کہ اُن کی شاعری اُن کے اس بیان کی ہم نوا بن کر ہمیں ایسا بہت کچھ سجھانے کی کوشش کرتی ہے جو لکھنے والا اپنی پوری قوّتِ تحریر کے باوجود سو فی صد لکھنے پر قادر نہیں۔ اس سے ایک بات تو یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ شاعر تخلیق کے دُکھ سے نہ صرف آگاہ ہے، بل کہ اُس سے بارہا گُزر چکا ہے۔ تبھی تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے:
نہ جانے کس دُعا سے بند ٹُوٹا کُھلا رستہ کُھلا دریا کا پانی
کسی گوشے میں آنسو کا ٹپکنا یہی تخلیق کی پہلی نشانی (صفحہ 376)
کتاب کے فلیپ پر محمد سلیم الرّحمٰن، شمس الرّحمٰن فاروقی، ڈاکٹر وزیر آغا، احمد ندیم قاسمی، ممتاز مفتی، شہزاد احمد اور خالدہ حسین کی یاسمین حمید کی شاعری کے بارے میں مختصر رائیں بھی شامل ہیں۔ یہ سب اُردو کے معتبر اور صاحبِ راے ماہرینِ فن ہیں۔ ان کی رائیں سرسری اور روایتی فلیپ سازی سے ہٹ کر شاعر کے صحیح رنگِ سخن کو واضح کرتی ہیں۔انھیں یاسمین حمید کی شاعری نے متاثر کیا ہے۔ یاسمین حمید کی شاعری پر ان صفِ اوّل کے سخن شناسوں کے راے اور خود شاعر کا کلام روایتی ستائشِ باہمی کے اس دورِ حق ناشناسی میں ایک واقعی شاعر کے کمالِ فن کا صحیح اعتراف ہے۔ یہ اعتراف اَدب کے سنجیدہ قاری کو یاسمین حمید کی شاعری پڑھنے پر متوجّہ کرتا ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، یہ کتاب معیاری اَدبی کتابیں شائع کرنے والے ادارے اکادمی بازیافت (اُردو بازار) کراچی نے شائع کی ہے۔ اس اشاعتی ادارے کے روحِ رواں مُبین مرزا خود بھی تخلیق کار ہیں۔ جتنی نفاست اُن کی شخصیّت میں پائی جاتی ہے، ویسی ہی نفاست سے وہ اَدبی کتابیں چھاپ کر اُن کی وقعت اور قدر و قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اُنھوں نے یہ کتاب بھی اپنی روایت کے مطابق بڑی نفاست کے ساتھ چھاپی ہے۔ دبیز اور سفید کاغذ پر روشن چھپائی، مضبوط جلد بندی اور جاذب نظر سرِ ورق نے کتاب کی ظاہری زیبائش میں چار چاند لگا دیے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ جتنا دل نشیں کلامِ شاعر ہے، اُسی قدر کتاب کی پیش کش بھی دل کش ہے۔ 424 صفحات کی اس کتاب کی قیمت 1200 روپے ہے۔