یاد آتی ہیں پرانی باتیں

یہ تحریر 588 مرتبہ دیکھی گئی

محمد عثمان جامعی کے دستاویزی ناول کے مطالعے کے بعد ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی کا خاکوں اور یادوں کا مجموعہ پڑھ کر حیرانی ہوئی۔ دونوں کتابوں کا پس منظر کراچی ہے۔ دونوں حقائق پر مبنی ہیں۔ جامعی صاحب کی کتاب میں شہر لہو میں نہایا ہوا نظر اتا ہے اور سجاد صاحب کے مجموعے میں تشدد اور خوں ریزی کا شائبہ تک نہیں۔ جو حیرانی ہے شاید بے وجہ ہے۔ زندگی کبھی ایک ڈھرے پر نہیں چلتی۔ ہنگاموں سے بھرپور شہر میں جا بجا امن اور آشتی کے جزیرے بھی ہوتے ہیں۔ امن کا ڈھنڈورا نہیں پٹتا۔ آشتی سے اخباروں اور ٹی وی چینلوں کی سرخیاں نہیں بنتیں۔ ہم معمول کی زندگی سے صرفِ نظر کرکے اس طرف دوڑے جاتے ہیں جہاں کوئی غیرمعمولی واقعہ پیش آ رہا ہو۔ ہم تماش بین بن کر رہ گئے ہیں۔ ورنہ اگر چشمِ بینا ہو تو سامنے کی باتیں بھی جاذبیت کی حامل ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی پٹھان ہیں۔ ان کے والد کیمبل پور (اٹک) کے رہنے والے تھے۔ تعلیم معمولی تھی۔ چھٹی جماعت تک پڑھا تھا۔ 1940ء کے آس پاس، روزگار کی تلاش میں، کراچی چلے آئے۔ پہلے پولیس میں بھرتی ہوئے۔ یہ کام پسند نہیں آیا کہ پولیس ظلم اور تشدد کی عادی تھی۔ پھر کراچی پورٹ ٹرسٹ سے وابستہ ہوئے ،اور چالیس سال ملازمت کرکے ریٹائر ہوئے۔
ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی کا نام ایسا ہے کہ پٹھانوں میں شاذ ہی رکھا جاتا ہوگا۔ علاوہ ازیں، درست شین قاف کے ساتھ بہت اچھی اردو بولتے ہیں۔ پابندی سے پانچ وقت کی نماز پڑھنے کے باوجود شدت پسند مسلمان نہیں ہیں۔ ظاہری شکل صورت اور اردو پر عبور کے باعث، بقول خود، “لوگ اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں۔”
یہ بات کہ وہ اردو اچھی جانتے ہیں ان کی کتاب سے ثابت ہے۔ سیدھے سادے انداز میں لکھی گئی کتاب میں انھوں نے جو کچھ کہا ہے وہ اتنا دل چسپ ہے کہ زبان کی سادگی کی طرف خیال نہیں جاتا۔ شاید انھیں ادیب ہونے کا دعویٰ بھی نہیں۔ سچ یہ ہے کہ کتاب آصف فرخی کے کہنے پر قلم بند کی گئی تھی۔ اس کا دیباچہ بھی آصف فرخی ہی نے لکھنا تھا۔ افسوس کہ وہ اچانک ہی ہم سب کو داغِ مفارقت دے گئے۔ دیباچہ اب ڈاکٹر شیر شاہ سید نے لکھا ہے۔ شیر شاہ سید، جو افسانہ نگار بھی ہیں، کہتے ہیں: “اس کتاب کا دیباچہ آصف صاحب ہی کو لکھنا چاہیے تھا۔ وہ سجاد کو ایک مدت سے جانتے تھے۔ سجاد ان کے ساتھ کئی برس تک یونی سیف میں کام کرتے رہے تھے۔” کیا کیا جائے۔ ہم سوچتے کچھ ہیں، قدرت کو کچھ اور منظور ہوتا ہے۔
کتاب میں سب سے دل پذیر خاکہ والدہ کا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اتنی سمجھ داری کا مظاہرہ کم خواتین کرتی ہیں۔ تعلیم سے نابلد مگر تعلیم کی اتنی دل دادہ کہ اس سلسلے میں کسی سمجھوتے کی قائل نہیں تھیں۔ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود، ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرکے، اپنے دو بیٹوں کی شادی کے موقع پر بھی سسرالیوں سے اس بات کی ضمانت لی کہ ان کی پڑھی لکھی بیٹیوں کو گھر میں نہیں بٹھایا جائے گا۔ اتنی ہمت اور عقل تو عورتوں میں کیا مردوں میں بھی کم کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس تحریر کو اردو میں لکھے گئے اچھے خاکوں کے زمرے میں رکھنا چاہیے۔
والد کا خاکہ اگرچہ مختصر ہے لیکن خواندنی ہے۔ نانا نانی کا احوال بھی ہے جو انھیں کے ساتھ رہتے تھے۔ پتا نہیں کیسے گزر بسر کرتے ہوں گے۔ مکان کیا تھا، دو کمرں پر مشتمل کوارٹر تھا اور جو کیماڑی میں پورٹ ٹرسٹ کی طرف سے ملا ہوا تھا۔ دل میں جگہ ہو تو پھر کوئی مکان تنگ نہیں معلوم ہوتا۔ نانا تبلیغ کے لیے بنگال گئے تھے۔ وہاں انھوں نے شادی کر لی۔ خاندان کے لوگ نانی کو ہنگالن دادی کہتے تھے۔
سب سے بڑے بھائی، نثار نے خاندان کو مشکلات سے نکالنے میں بڑھ کر کردار ادا کیا۔ کتاب میں خاندان کے بعض اور افراد کی تصویر کشی بھی عمدگی سے کی گئی ہے، جیسے خورشید ماموں، جنھیں مجذوب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، اور منا بھائی جان۔
گھر والوں کے علاوہ تہوار علی خاں کے خاکے پر افسانے کا گمان ہوتا ہے۔ قد بہت لمبا تھا۔ اس لیے محلے میں ٹاور صاحب کے نام سے مشہور ہوئے۔ حیدرآباد دکن کے رہنے والے تھے۔ تقسیم کے بعد، اپنے خاندان سے بچھڑ کر، جانے کیسے کیماڑی آ پہنچے، کراچی پورٹ ٹرسٹ میں بطور انسپکٹر ملازم ہو گئے۔ انسپکٹر ہونے کی حیثیت سے وہ افسروں کے لیے مخصوص بنگلوں میں رہ سکتے تھے لیکن کیماڑی کے غریب محلے میں رہنے کو ترجیح دی۔
سجاد لکھتےہیں کہ “ہم کیماڑی کے جس محلے میں رہتے تھے وہ غریبوں کی ایک پس ماندہ بستی تھی۔ ایسے محلوں میں سماجی اقدار نہ جانے کیوں اتنی مضبوط ہوتی تھیں کہ بھوک اور افلاس ان میں دراڑ نہیں ڈال سکتے تھے۔ “تفرقہ ہمیشہ دولت کی غیرمساوی تقسیم سے جنم لیتا ہے۔ جس زمانے کا احوال رقم کیا ہے وہ ستر اور اسی کی دہائیوں سے تعلق رکھتا ہے۔ محلے میں کون کون تھا، کیا کیا تھا، بچوں کے کیا مشاغل تھے، جینے کا طرز کیا تھا، یہ سب خوش اسلوبی سے ادا ہو گیا ہے۔ یہ شکوہ ضرور ہے کہ نئے دور میں پہلی سی مساوات اور ہم دردی نہیں رہی اور امن چین تو تقریباً غائب ہی ہو چکا ہے۔
سجاد صاحب نے اپنے اساتذہ کو بھی محبت سے یاد کیا ہے۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ انھیں اچھے استاد ملے۔ اب تو تعلیمی نظام بگڑ چکا ہے اور اساتذہ کو پڑھانے یا شاگردوں پر توجہ دینے میں دلچسپی نہیں رہی۔ سکول میں ایک حسین استانی پر دل و جان سے فدا ہونے کا قصہ بھی خوب ہے۔ یہ عشق ایسا تھا جس کا زبان سے کبھی اظہار نہ ہو سکا۔
ایک روایت سچ مچ معمے سے کم نہیں۔ سجاد صاحب کو والدہ نے بتایا کہ مافوق الفطرت مخلوق میں سے ایک عورت تمھارے والد کی بہن بنی ہوئی تھی اور ضرورت کے وقت مدد بھی کر دیتی تھی۔ اس نے کسی زنجیر کا ٹکڑا والد صاحب کو دے رکھا تھا کہ جب کوئی ضرورت ہو تو اسے زمین پر مارو، میں آ جاؤں گی۔ ہم انسانوں کے خمیر میں بے اعتباری گندھی ہوئی ہے۔ والد نے ایک دن، بلاضرورت، آزمانے کی غرض سے زنجیر کو زمیں پر پٹخا۔ وہ عورت آ گئی اور پوچھنے لگی کہ کیا کام ہے۔ والد نے کہا کہ میں صرف آزمانا چاہتا تھا کہ زنجیر زمین پر مارنے سے تم آجاؤ گی۔ یہ سن کر وہ عورت ناراض ہو گئی اور پھر کبھی نہ آئی۔ اس قصے پر شاید پڑھنے والوں کو یقین نہ آئے۔ راقم بھی حیرت زدہ ہے۔
سجاد صاحب کو لکھنے کا سلیقہ آتا ہے۔ بقول شیر شاہ سید “انھوں نے اپنے خاندان، گھر کے افراد، محلے کے لوگوں، محلے میں کام کرنے والوں اور دوستوں کو جس طرح سے دیکھا ہے اس طرح لفظوں میں ان کی فلم بنا کر پیش کر دی ہے۔ ان کی کردار نگاری میں بے پناہ بے ساختگی ہے۔” امید رکھنی چاہے کہ وہ آصف فرخی پر بھی کتاب لکھیں گے کہ آصف کے ساتھ انھوں نے ایک عرصہ گزارا ہے اور یہ امید بھی کہ ان کی اگلی کتاب بھی اتنی ہی دل چسپ ہوگی۔
جس محلے میں تھا ہمارا گھر از ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی
ناشر: کوہی گوٹھ پبلی کیشنز، کوہی گوٹھ ایمن اسپتال، دیہہ لانڈھی، کراچی
صفحات: 165؛ پانچ سو روپیے