ہے بساطِ حرف بچھی ہوئی

یہ تحریر 300 مرتبہ دیکھی گئی

قاعدے سے تو مجھے اس کتاب پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا انتساب میرے نام ہے اور میرے شعری مجموعے “نظمیں” (2001ء) کا ایک طویل جائزہ بھی کتاب میں موجود ہے۔ میں انتساب اور جائزے کو نظرانداز کرکے آگے بڑھتا ہوں۔ کتاب میں بہت سی کام کی باتیں ہیں۔ بعض شاعروں کے کلام کی تحسین ہے اور کئی خاکے ہیں۔ یہ تمام پہلو مجموعی طور پر متاثر کن ہیں۔
غلام حسین ساجد نے ابتدا ہی میں اقرار کر لیا ہے کہ وہ سکہ بند نقاد نہیں۔ شکر ہے کہ اس پر سکہ بند نقاد کا لیبل چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ اس ترکیب سے کچھ مدرسانہ سی ہیک آتی ہے جیسے یا تو طالب علموں سے خطاب کیا جا رہا ہو یا کارگزاری سے کوئی اکیڈمک ترقی مقصود ہو۔ ویسے بھی کتاب میں جن شاعروں یا ادبی شخصیات کا ذکر ہے ان کا کسی نصاب سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
ساجد کی شاعری اور نثر پڑھتے ہوئے یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو سہولت سے مجتمع اور بیان کرنے پر قادر ہے۔ علاوہ ازیں معاملات کو ایک نئے زاویے سے دیکھ سکتا ہے۔ چناں چہ تحریر میں ہم تازگی اور کشادگی سے دوچار ہوتے ہیں۔
عبدالرشید نے بہت نظمیں لکھی ہیں لیکن غالباً کسی نے اس کی مساعی کو پرکھنے کی زحمت نہیں کی؛ اور جتنا میں اس سے واقف تھا اسی کو سامنے رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ اس نے خود کو منوانے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ ساجد نے عبدالرشید کی نظموں کے باطن پر روشنی ڈالنے کے لیے جو چند صفحے لکھے ہیں انھیں اچھا اور مختصر تعارف کہا جا سکتا ہے۔ عبدالرشید کی نظموں میں آپ بیتی میں مبتلا رہنے اور آپ بیتی کی ابتلا سے آزاد ہونے کی جو کشمکش ہے اس نے نظموں کو سجایا بھی ہے اور وحشت سے ہم کنار بھی کیا ہے۔
سعادت سعید کی شاعری اور نثر کا بھی بظاہر اس طرح مطالعہ نہیں کیا گیا جس کی وہ مستحق ہے۔ یہ شاعری جیسی بھی ہے، جتنی بھی ہے، کسی سمجھوتے کی قائل نہین۔ اسی ان بن سے نظموں میں وقار پیدا ہوا ہے اور تہ داری۔ مزاجاً جھکاؤ بائیں بازو کی طرف سہی لیکن نظموں کی لفظیات اور امیجری انھیں ایک اور سطح پر پہنچا دیتی ہے۔ اپنی شعری روایتوں سے آگاہی بھی سعادت سعید کے کلام کو توانائی بخشتی ہے۔ ساجد نے سعادت سعید پر جو چند صفحے لکھے ہیں وہ قابلِ قدر ہیں۔
ساجد نے نجیب احمد کے کلام پر بھی نظر ڈالی ہے۔ غزل تو نجیب احمد اچھی کہتے تھے لیکن ان کی نظم “فالتو سامان” میں نئے دور کا ظالمانہ رویہ جس طرح کشید ہو کر آ گیا ہے اس کا جواب نہیں۔
بعض ایسے شاعروں پر بھی ساجد نے اظہارِ خیال کیا ہے جن کی غزل یا نظم تو شاید کبھی رسالوں میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ہو لیکن کوئی مجموعہ دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ ان پر ساجد نے جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر اپنی بے خبری پر افسوس ہوا۔ ان شاعروں میں صبا اکرام، اشرف جاوید، زاہد مسعود، شاہد ماکلی، احمد ساقی، احمد خیال، سائل نظامی اور آفتاب جاوید شامل ہیں۔ ساجد کی تحریروں کے ذریعے ان سے کچھ نہ کچھ متعارف ہوا اور یہ خیال بھی آیا کہ ساجد اپنے ہم عصروں پر کتنی نظر رکھتا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ ہر لکھنے والے کو، بساط بھر، ان تحریروں سے آشنا ہونا چاہیے جو اس کے معاصرین کے زورِ قلم کا نتیجہ ہوں۔
ان شعرا کا ذکر تو کر چکا جنھیں بالاستیعاب نہیں پڑھ سکا۔ ساجد نے بعض اور شاعروں کے کام کو پرکھا اور جانچا ہے جن کے مجموعے یا کوئی نہ کوئی مجموعہ میری نظر سے گزر چکے ہیں، مثلاً نسرین انجم بھٹی، صابر ظفر، ابرار احمد، ضیا الحسن، حمیدہ شاہین اور فہیم شناس کاظمی۔ ان کے بارے میں ساجد نے جو کچھ کہا ہے اس سے کسی حد تک متفق ہوں۔ اگر وہ ان پر قدرے تفصیل سے لکھتا تو شاید مجھ پر ان کے فن کے اور پہلو بھی منشکف ہو جاتے۔
کتاب میں چند خاکے بھی ہیں جو کچھ اس ذیل میں منیرنیازی، ابن حنیف، انیس ناگی اور خان فضل الرحمٰن کے بارے میں میں کہا گیا ہے وہ خاصا دلچسپ ہے۔ اگر ساجد منیر نیازی کی شاعری اور شخصیت کے سحر میں اسیر رہا ہے تو کوئی تعجب نہیں۔ خود مجھے بھی منیرنیازی سے عجب طرح کا لگاؤ تھا کہ میرے نزدیک وہ خالص شاعر کی ایک ناقابل فراموش مثال تھا۔ ابن حنیف پر شاید کوئی اور ساجد کی طرح نہ لکھ سکے۔ پرانی تہذیبوں کے بارے میں ابن حنیف کا مطالعہ وسیع تھا۔ لیکن ان کی تصنیفات میں جو جھول تھا وہ ساجد کو فوراً نظر آ گیا۔ وہ حاصلِ مطالعہ کی تلخیص کرنے کے فن سے ناآشنا تھے۔ طولِ کلام نے ان کی کتابوں کو غیردلچسپ بنا دیا ہے۔ انیس ناگی بڑی صلاحیت کے مالک تھے لیکن عجلت پسندی اور اپنے لکھے پر دوبارہ نظر ڈالنے سے اجتناب نے ان کے بہت سے کام کو وقیع نہیں رہنے دیا۔ اگر وہ دھیرج سے کام لیتے تو ان کا شمار اردو کے چند سربر آوردہ ناول نگاروں میں ہوتا۔ ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے۔ ناگی بعض ایسے عہدوں پر فائز رہے جہاں لاکھوں کی یافت کے امکانات تھے۔ انھوں نے کبھی بددیانتی کا ثبوت نہیں دیا۔
خان فضل الرحمٰن کا خاکہ بھی دل پذیر ہے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ “میرے کرداروں کو بری عادتوں کی لت ہے۔ میں لاکھ انھیں راہِ راست پر لانا چاہتا ہوں مگر وہ میری ایک نہیں سنتے۔” ان کا یہ دعویٰ شاید ہی درست ہو۔ وہ خود اس قماش کے کرداروں سے کسی طرح کی یگانگت محسوس کرتے تھے۔ ساجد نے “آفت کا ٹکڑا” کے بقیہ دو غیرمطبوعہ حصے خان صاحب سے لے کر پڑھے تھے اور انھیں نا پسند کیا تھا۔ یہاں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ ساجد کو علم نہیں کہ یہ دونوں حصے بہت پہلے لکھے جا چکے تھے لیکن ایک روز ان کی نااہلیہ نے انھیں کسی ردی فروش کو بیچ دیا۔ خان صاحب نے بعد میں انھیں ڈھونڈنے کی بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ بالآخر دونوں حصے انھوں نے دوبارہ لکھے لیکن پہلے والا لطف پیدا نہ ہو سکا۔ آخری برسوں میں انھوں نے انگریزی میں بھی ناول لکھا تھا۔ معلوم نہیں کہ اس کا مسودہ محفوظ ہے یا ضائع ہو چکا۔ مجموعے کے آخری مضمون “میرا تصنیفی سفر” کو اجمالی آپ بیتی کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ سفر ابھی جاری ہے۔ لیکن اس کی ابتدائی منازل کا ذکر خاصا پُرلطف ہے۔ ساجد نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ “میں نے کبھی اپنے تاثراتی مضامین کو سنجیدہ نہیں کیا۔” مشکل ہے کہ قارئین اس منکسرانہ رائے سے اتفاق کریں۔ چلیے، سنجیدگی نہ سہی، شگفتگی اور ہم دلی تو ہے۔
کتابیں اور یادیں از غلام حسین ساجد
ناشر: کتاب ورثہ، لاہور

صفحات: 272؛ چھ سو روپیے