ہوُک

یہ تحریر 1544 مرتبہ دیکھی گئی

                آج وہ تیس برس بعد گاؤں کی پگڈنڈی پرچڑھاتھا۔گنے کے کھیتوں کوجاتا راستہ اورکنوئیں کی منڈیراس کے لیے اجنبی تھی۔گاؤں کے وہ گھرجن کی اپلوں سے بھری تین فٹ اونچی دیواریں صحت مند جٹیوں کی چوڑی چھاتیوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں اب وہاں چونے کی تہیں چڑھ گئی تھیں۔چک جھمرہ سے آگے ڈیڑھ ہزارنفوس پر مشتمل ونجواں واالا گاؤں جو کبھی جولاہوں کی کھڈیوں کی کھٹ کھٹ سے گونجتاتھا۔اب انہی جولاہوں کے چرخے اورکھڈیاں ترقی کرگئی تھیں۔فرید بخش کے گھرکاکچا راستہ بھی پکی سڑک میں تبدیل ہو چکاتھا۔لکڑی کے زنجیری دروازے کی جگہ آہنی گیٹ نصب تھا جس کے دائیں جانب انصاری ہاؤس کی تختی لگی تھی اوراس سے اوپرگھنٹی کا بٹن تھا۔جس پر انگلی رکھتے ہی چوں ۔۔چ۔۔۔چ۔۔۔چ ۔۔۔چچ ۔۔۔چچ۔۔۔کی آوازگونجی۔

                اصغرکودہلیزکے اندر پاؤں رکھتے ہی لگاجیسے صحن کی مٹی اڑکر اس کی آنکھوں میں چبھ گئی ہو۔پکے فرش پر بھنبھاتی مکھیاں اورمکھن کی خوشبو نے اس کا ماتھا چوما۔جس کچے صحن اوربرآمدے کو وہ آج سے بیس برس پہلے چھوڑکرگیاتھا اب وہاںپکی دیواریں چن دی گئی تھیں لیکن پیپل کا درخت اسی طرح کھڑا تھا جس کی چھاؤں مزید پھیل چکی تھی۔فرید کی آنکھیں اس چرخے کو ڈھونڈرہی تھیں جس کی گھوں گھوں کا ساز آج بھی اس کے کانوں میں رس گھولتاتھا۔اسے مستطیل چوکھٹے کے بائیں سرے پرتکلے کے کھونٹے یاد آگئے جن کے دائیں سرے پرجڑاچکوا اورستلی سے باہم کسے ہوئے چکوے کے پھٹوں کے کٹے کٹے کنارے تھے۔ستلی پر مال چڑھاکرچکوے اورتکلے میں ربط کیاپیداہوتا۔چرخے کی مٹھاس تکلے میں چرخ اوردم اڑا لگاکردستے کو گھماتے ہی بڑھ جاتی اور روئی کے ریشے باریک سی تاروں میں بدلنے لگتے۔چرخے کے پہیے ایسے گھومتے جیسے پن چکی ہو۔کھلے صحن میں پیپل کی چھاؤں تلے چرخہ اورسامنے پیڑھی پر بیٹھی بختاں جس کے وونوں ہاتھ ہوا میں ایسے موجزن ہوتے جیسے ڈھولچی چھڑی لےکربجانے لگاہو۔پیڑھی پردائیں ٹانگ کی چوکڑی بھرے اوربائیں ٹانگ تکلے کی سائیڈ پر جمائے بیٹھی بختاں کی کمرکاخم کبھی دکھائی نہیں دیا،جو صبح سے شام تک چرخے کے آگے سوت کاتتی رہتی۔آنگن میں پڑا چرخہ اوراس سے اٹھنے والی ہوک دھیمے دھیمے سروں کی طرح اس کے دل پربجتی تھی۔فریدبخش بھی اس چرخے کاتکلہ تھاجسے پیڑھی پربیٹھی بختاں کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ گدگداتی تھی۔

اب اس صحن اوربرآمدے میں کوئی اس کا منتظر نہیں تھا۔ماں تو دس برس پہلے ہی گذرچکی تھی۔باپ اس کےساتھ شہرمیں تھا اورگاؤں کا یہ صحن اس کے دوبھائیوں کوبٹوارے میں مل گیا۔دوبہنیں اپنے گھروں میں شاد آباد تھیں،بے آبادتھاتو بس فرید بخش۔شہرمیں رہتے ہوئے بھی اسے اپنا صحن اورپیپل کی چھاؤں نہیں بھولی تھی۔جس کے گردایک فٹ اونچا سیمنٹ کا تھڑا بن چکاتھااوراب وہاں کوئی چرخہ بھی نہیں تھا۔فریدکوتیس سال بعدپیپل کے نیچے بچھی چارپائی پرلیٹنانصیب ہوا۔گرمی کے موسم کے وہ میلے دن ، دھلی شامیں اورٹھنڈی راتیں فریدکے ذہن پرچابک برسانے لگیں۔

اسے وہ وقت یاد آنے لگاجب اس آنگن میں پوراکنبہ آبادتھا۔اس کے باپ ، تایا اورچچاکے بچوں سے بھراپرا خاندان تب تقسیم نہیں ہواتھا۔اس کا باپ گھرمیں لگی کھڈی پر بنے کھیس اورچادریںگٹھرمیں باندھ کرسائیکل سٹینڈپر رکھتا اورپیدل ہی میلوں سفرکے لیے نکل کھڑا ہوتا۔کبھی یہ مال بکنے میں ہفتہ لگ جاتا اورکبھی تیسرے دن ہی واپسی ہوجاتی۔گاؤں کی بیشترزمین کلرزدہ تھی ایسے میں افلاس کےسے نہ اگتا۔بس تھوڑے کلے تھے جو مقامی لوگوں نے سبزیوں ،گندم اورچاول سے بھررکھے تھے۔یہ کھیتی گاؤں کے لوگوں کے ہی کام آجاتی۔ان دنوں فرید اورخاندان کے لڑکے شہرکے ذائقوں سے ناآشناتھے۔نئی نئی جوانی کے دن اوربھیگتی مسیں ، بدن میں پیداہوتی لہریں اوردروازوں کھڑکیوں سے تانک جھانک کرتی آنکھیں فرید کو بھی لگ گئی تھیں۔تب یہ خبرنہیں تھی کہ سمندرمیں گرداب کیا ہوتاہے۔جس میں اگرایک بارناؤ پھنس جائے تو کبھی کنارہ نہیں ملتا۔فرید کی ناؤ بھی اسی گرداب میں پھنسی۔جس کا نام چاچی بختاں تھا۔چالیس کے درمیانے سن ِ کی چھ فٹ لمبی ، بھرپورجسم کی مالک،بیضوی چہرے اورکھلی رنگت والی چاچی بختاں جس کے چوڑے چوڑے ہاتھ پاؤں فرید کوتنورکے پھٹے پررکھے آٹے کے بڑے بڑے پیڑوں جیسے لگتے۔بختاں کو گرمی بہت لگتی تھی اس نے سردیوں میں سویٹرتودورکبھی چادربھی نہیں لی تھی۔بس باریک سی لیراس کے بھرے ہوئے جسم کو ڈھکے رہتی۔جیسے دہی کے کونڈے کو مکھیوں سے بچانے کے لیے باریک جالی سے ڈھکاجاتاہے۔بختاں کڑاھی میں پڑے اس دودھ کی طرح تھی جوپہلے ابال میں ہی چھلکنے کو تیارہو۔فرید اس کا ذائقہ محسوس کرنے لگاتھا۔

مرغیوں کی طرح کڑکڑکرتی رہتی بختاں کے بالوں میں لگادھنیے کاتیل اورچپڑی ہوئی چوٹی کمرپرایسے بل کھاتی جیسے دریا میں پڑنے والا کٹاؤ۔ناک میں پڑا چھوٹا ساکیل دن کے اجالے میں بھی یوں چمکتاتھاجیسے دھوپ میں ریت کے ذرے یا پھرپانی کی جھجھر۔بختاں کے دنداسہ کیے ہوئے دانت کچے اخروٹ جیسے تھے اورہونٹ سیب کی قاشوں کی طرح متوازی۔فرید کو بختاں گوبھی کا پھول لگتی تھی،ویسی ہی تروتازہ اورتہہ درتہہ لپٹی ہوئی وہ جب بھی چرخے پر بیٹھتی فرید پیپل کے گرد چکرلگانے لگتا۔پیڑھی پر چوکڑی مارے بختاں کی بائیں ٹانگ چرخے کے تکلے کے ساتھ لگی ہوتی جیسے بنا کنڈی کے دروازے کو ڈنڈے کاسہارادے کربندکیاگیاہو۔فرید بخش روزاسے سوچتے سوچتے نجانے کتنی ہی چیزوں کے ساتھ ملانے لگتاتھا۔دل ہی دل میں مزہ لینے کے لیے وہ بختاں کو آنکھیں میچ کرسوچنے لگتاتووہ سوت کاتتے ہوئے کسی ہیروئن جیسی لگتی۔ایسی ہیروئن جو اس نے ٹین ڈبےوالے بکسے کے منی سینمامیں کئی باردیکھی تھی۔فرید دوربین سے بڑے گول گول ابھرے ہوئے خانوں پرہاتھوں کے پیالوں میں آنکھیں ٹکائے کھٹا کھٹ تصویری ناچ دیکھتا۔جس میں ہیروہیروئن ایسے ہی بانہیں پھیلائے ناچتے جیسے بختاں کے ہاتھ دائیں بائیں چرخے پر پونی سنبھالتے تھے۔جب بختاں اسے پکارتی:

                ”فریدے او فریدے!ذرا میرے موڈھے تے دبا۔“

فرید اس صداپر دوڑاچلا آتا ۔اسے بختاں کے چوڑے کاندھوں پراپنے پھسلتے ہوئے ہاتھ ایسے ہی لگتے جیسے وہ پرات میں آٹا گوندھ رہاہو۔جسے مکیاں لگانے سے پہلے سنبھالنا مشکل ہوتاہے اورپھروہ آہستہ آہستہ بختاں کی نس نس پر قابض ہوجاتا۔اسے ایسے دباتاجیسے مکیوں مکیوں میں آٹا گوندھ کر اسے مکھن کردیاجائے۔بختاں کی تھکاوٹ اس لمس کی حدت میں ٹوٹنے لگتی تو اس کے حلق سے چرخے جیسی گھوں گھوں کی آوازیں ابھرتیں۔دبانے کا یہ فن اورذائقہ بس بختاں کے لیے تھا۔ورنہ کبھی باپ کے کاندھے دبانے پڑجاتے یا ماں کی کمر، تو وہ ایسے ہاتھ چلاتا جیسے اناڑی نائی کے ہاتھ میں استرا آگیاہو۔بختاں کو بھی دبوائی کا چسکا پڑگیاتھا۔تھکاوٹ تو ہوتی ہی بان کی چارپائی جیسی ہے جسے جتنا کسو اتنی ہی ڈھیلی پڑتی ہے اورفریدبارش میں بھیگی ہوئی چارپائی کی طرح تھا جو پانی کی مار سہنے کے بعددھوپ لگنے سے اکڑجاتی ہے۔چرخے کی کوک میں بختاں کی آواز کا لوچ دودھ میں گرم گرم جلیبیوں کی طرح رچ جاتا۔گھنے بالوں کی چوٹی تنگ کرتی تو وہ اسے بل دے کرگیندے کے پھول کی طرح گردن پرسجالیتی۔فرید اس کے کاندھے دباتا تو یہ پھول اس کی انگلیوں کی جنبش سے کھل جاتا۔ایسے میں وہ بختاں کے کہنے سے پہلے ہی کنگھی پکڑکراس کی چوٹی سنوارنے لگتا اوربختاںکے سُرہوامیں بکھرجاتے:

                تیرا کی جانا اے بیگانے پتُ دا

                وال وال ہوجانا اے میری گتُ دا

صحن میں بیٹھی گھرکی دوسری عورتیں بختاں کی لے میں تالیوں کا شوربھردیتیں۔ایسے میں فرید کو لگتاجیسے اس کے ہاتھ حقیقتاً بختاں کی گتُ کا بال بال کررہے ہوں۔بختاں بھی من موجی عورت تھی اپنے آپ میں گم صم رہنے والی۔جسے دیکھ کر لگتاجیسے وہ شدید تھکاوٹ میں مبتلاہواوراس کا جوڑ جوڑ کراہ رہا ہو۔بختاں چلتے پھرتے فرید کو گاؤں کے زمیندارکی بھوری آنکھوں والی گھوڑی بھی لگتی تھی،جس کی اٹھان اورقدموں کی اٹھلاہٹ سے دھرتی ہلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔بختاں جیسی جی دارعورت نے سات بچے ایسے جنے جیسے بلی بچے دینے کے بعدتھوڑاسستاکراٹھ کھڑی ہوتی ہے۔پھرفرید کی سمجھ میں نہیں آتاتھاکہ اتنی بہت سی تھکاوٹ اس میں کہاں سے بھرگئی ہے۔فریدکو معلوم تھاکہ اب بختاں کی تھکاوٹ کو اس کی محتاجی ہوگئی تھی۔چاچاکرم بخش تو اس کے باپ کےساتھ ہی کھیس بیچنے نکلتاتھا۔دونوں ہفتہ بھرشہرکی خاک چھانتے رہتے۔تب چاچی کے کمرے کے کواڑخاموش راتوں میں بھی بجتے تھے۔گانوں کی شوقین بختاں اپنے کمرے میں ٹیپ لگالیتی یاپھرنواڑی کے پلنگ پر لیٹی اونچی آوازمیں گاتی:

                سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی ، کیونکرآکھاں چھڈ وے اڑیا

فریدکمرے کی کھڑکی سے ناک لگائے، ایڑھیاں اٹھا اٹھاکراسے دیکھنے کی کوشش میں رہتا۔جیسے ٹاپے کے اندربند مرغیاں سوراخوں میں سے جھانکتی ہیں۔تب بختاں اسے آوازدیتی:

                فریدیا۔۔۔باؤ ذرا پِنیاں تو کٹ دے

فرید چوہے کی تاک میں رہنے والی بلی کی طرح اس کی پنڈلیوں پرجھپٹ پڑ تا۔چرخے کے تکلے پرسوت کی طرح گرہ لگ جاتی۔بختاں کی رانوں پر بیٹھ کر موٹی موٹی پنڈلیاں ہاتھوں تلے مچھلی کی طرح پھسلتیں تو فرید کو لگتاجیسے بختاں بھی مستطیل چوکھٹے کے بائیں سرے پر لگاتکلہ ہو اوروہ اس کی ٹانگوں پر بیٹھا چکوے کے پھٹے کی طرح جس کے کنارے ڈورسے باہم کسے ہوں۔یہ ڈوراس کے اندرسے نکلتی تھی جس پروہ مال چڑھاکرچکوے اورتکلے میں ربط پیداکرتا ۔وہ بختاں کے تکلے میں چرخ اوردم اڑا لگاکردستے کو گھماتاتو اس کا رُواں رُواں باریک سی تاروں میں بدلنے لگتا۔فرید خیالوں ہی خیالوں میں بختاں کاسوت کاتتا رہتا پھر اس کی پونی بنا کر گوٹ میں ڈال لیتا۔ اس دن بھی وہ بختاں کے چرخے میں ٹانگیں پھنسائے چوکڑی مارے بیٹھا تھا۔اس کے ہاتھ پنڈلیوں پر ٹکے تھے جیسے ایک ہاتھ پہیے کی ہتھی پر ہو اور دوسرا تکلے کی پونی پر۔بختاں کا چرخہ گھوں گھوں کرتا توفرید کی ہتھیلیاں گیلی ہوجاتیں۔چرخے کاپہیہ رہٹ کی طرح چلتا رہا۔وہ بیلوں کی طرح جتا رہا اور پانی کے ڈونگے چھپاچھپ گرتے رہے۔ایسے میں چرخے کی آوازرک گئی جیسے سب شانت ہوگیاہو۔تنورکی طرح جلتی بلتی بختاں کی پنڈلیاں ٹھنڈی تھیں جیسے ابھی ابھی اس کی روح قبض کی گئی ہو۔فرید ڈرکے مارے چرخہ چھوڑ کرباہر بھاگا۔

وہ اگلی صبح باپ کے ساتھ ضد کرکے کھیس بیچنے ساتھ نکل پڑا۔دل کا چورگلے میں پھانس بن بیٹھا تھا۔اسے چرخے کی گھوں گھوں یاد آتی تو آنکھوں کے آگے دھواں سا بھرجاتا جیسے مٹی کے چولہے میں پھونکیں مارتے مارتے ماں کی آنکھیں سرخ بھبھوکا ہوجاتیںتھیں۔تین دن بعد فریدکی واپسی ہوئی۔صحن میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے چرخے پر بیٹھی بختاں پر پڑی۔

                ہائے وے چیرے والیا میں کہنی آں

                کرچھتری دی چھاں میں چھاوئیں بہنی آں

 بختاں نے فرید کو نظر بھر کر دیکھا اورپھراپنے دھیان میں مگن گاتی رہی۔جیسے دودھ میں پڑی مکھی نکال کر اس کی جاگ سے دہی بنا لیا جائے ویسے ہی اس رات کے ذکرکو کھٹاس مل گئی۔فرید کے دل میں برے برے خیالات آنے لگے۔شام ہوتے ہی پیپل کی چھاؤں چڑیلوں کی طرح بال کھولے اس کے اعصاب پر سوارہوگئی۔دوراتیں اس نے جاگ کر گزاریں ۔فریدکی ہتھیلیاں پسینے سے ترہوتیں جنہیں وہ اپنی شلوارسے پونچھ لیتا۔تیسری رات وہ صحن میں چارپائی پر دری بچھا رہاتھاکہ چرخے نے اسے آواز دےدی:

                فریدے۔۔۔ذرا میری پنیاں تو کٹ دے۔مرن جوگی درد نئیں جاندی

فریدکے دماغ میں گھوں گھوں ہونے لگی۔وہ بھاری قدموں سے کمرے میں داخل ہوا۔آج صحت مند پنڈلیوں پر اس کی گرفت تکلے کی پکڑ سے زیادہ سخت تھی کیونکہ چرخے سے نکلی پونی اب گوٹ میں داخل ہوچکی تھی۔اسے گھرکے پچھواڑے میں لگی کھڈی یاد آگئی تو لگا جیسے آج رات بختاں اس کھڈی کا تانا ہو اوروہ بانا۔دھاگوں کی بنت نے چرخے کی گھوں گھوں بھلادی۔فریدبختاں کا کھیس بنا کر اوڑھنا چاہتاتھا۔سو ہاتھ میں پکڑا رچھ اس کھڈی پر چلتارہا۔چھک چھک چھک چھک کی صدائیں گھوں گھوں گھوں گھوں کے شورمیں گم ہوگئیں۔بختاں کی تھکاوٹ کے دھاگے چرخے کے تکلے سے نکلے تو کھڈی کی شٹل میں ڈھل گئے۔فرید اس چرخے اورکھڈی کی کھٹا کھٹ سے بوجھل تھااوربختاں کے خراٹے کمرے کاسکوت توڑرہے تھے۔اسے لگا جیسے بختاں پھٹے پر پڑی برف کی سل تھی جسے وہ سوا لے کر چھیلتارہتاتھا۔رات کا سناٹا ختم ہوا توفرید کی نوجوانی کی صبح نے پہلی انگڑائی لی۔

باقی آنےوالی صبحیں بوجھل سے بوجھل ہوتی گئیں۔باپ کی کھڈی ترقی کرگئی تھی۔اب شہرکی بونے اسے سرسام کردیاتھا تو پھر ایسے میں ونجواں والا کیسے اچھا لگتااورآج تیس برس بعد فرید کو چرخے کی گھوں گھوں واپس لے آئی۔پیپل کی چھاؤں میں چارپائی پر لیٹے لیٹے اسے چرخے سے کھڈی تک کا سفریاد آتارہااورآنکھیں بھیگتی رہیں۔

                ”فریدیا۔کی حال آ تیرا۔“

دولرزتے ہوئے ہاتھ اس کے ماتھے تک آئے۔فرید نے تڑپ کرکروٹ بدلی اورچارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔چاچی بختاں کا بھرابھرا جسم اب چوسے ہوئے آم کی طرح پچک گیاتھا۔پوپلا منہ دانتوں سے خالی تھا۔گردن ہوا میں بل کھاتی پتنگ کی طرح لگتاتھا ابھی فرش پر آگرے گی۔فریدنے آنکھیں صاف کیں اورسلام لے کر بختاں سے لپٹ گیا۔اسے تیس سال پہلے بختاں سے چپکنا یاد تھا جیسے برف کے کٹورے سے زبان چپک جاتی ہے اورآج وہ ایسے لپٹاتھاجیسے کوئی بچہ سوتے میں ڈرکر ہمکتاہے تو ماں اسے اپنے ساتھ چمٹالیتی ہے۔بختاں اس کے کاندھے پر تھپکیاں دیتی ٹھنڈی اورشانت تھی۔فرید جب بھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا بختاں دلار سے اس کا ماتھا چوم لیتی۔جیسے وہ جانتی ہو کہ فرید کی زبان ندامت کی ہتھیلیاں جوڑدے گی۔دونوں گھربار اورخاندان کی باتیں کرتے رہے۔تمام بیتے دن یاد کیے گئے سوائے ان راتوں کے جن میں چرخے کی گھوں گھوں تھی۔رات کا کھانا کھا کرگھروالے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔فرید اصرارکرکے پیپل تلے چارپائی ڈال کر لیٹ گیا۔آدھی رات ابھی ستاروں کی چھاؤں میں بیتی تھی کہ بغلی کمرے سے بختاں کی اکھڑی اکھڑی گانے کی آواز آنے لگی:

                سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک ۔۔۔

فرید کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ اسے یا دآنے لگاکہ بختاں کو کھیس بنا کر اوڑھنے کے باوجود وہ آدھی عمرننگا ہی رہا شایدچرخے کے تکلے میں اس کے من کا چور سوت پھنسا چکا تھا۔گانے کی آواز بڑھتی رہی:

                میرے دل وچ اٹھ دی اے ہوک۔۔۔

اورفرید اپنے سرہانے چرخے کی گھوں گھوں سنتارہا۔

************