ہجر کی نظم

یہ تحریر 183 مرتبہ دیکھی گئی

کالے بادلوں کے ماتھے سے ٹھنڈٰی شام
قطرہ قطرہ جب میرے آتشیں سینے پہ گِری
تو جنگل میں کوسوں کوسوں آگ لگی
اورسمندروں نے اپنا قبلہ رخ بدل لیا
ایسے میں تسکینِ دل کے واسطے
پیاس نے تخئیل کا پیالہ بنایا
اور نظموں میں جزبے، جزبوں میں نظمیں بھرنے لگی
پیاسے جزبے کی خواہش زدہ نظمیں
تیرا نام لے کے، خدا کی دھرتی سے، مِٹی کے صدقے،
تیرا ساتھ مانگیں، تیرا ہاتھ مانگیں
تْو جو دھرتی کا مہاویر ہے
ناری کے جیون میں راہگیر ہے
یہ جانت ہے دنیا، یہ مانت ہے منطق
مگر پھر بھی ہر چند
پیاسے جزبے کی خواہش زدہ نظمیں
تیرا نام لے کے، خدا کی دھرتی سے، مِٹی کے صدقے،
تیرا ساتھ مانگیں، تیرا ہاتھ مانگیں!