گونج کو انت نہیں

یہ تحریر 102 مرتبہ دیکھی گئی

درد کے نام بہت
درد بے نام بھی ہے
زخم کے رنگ بہت
زخم بے رنگ بھی ہے
باغ میں پھُول بھی ہیں
باغ میں دُھوپ نہیں

٭

آنکھ میں دھول بھی ہے
آنکھ میں پھُول بھی تھے
کوئلیں کوک چکیں
راستے سوئے نہیں
شہر ویران بہت

٭

آنکھ حیران بہت
آنکھ سے آنکھ ملی
آنکھ نے کچھ نہ کہا
آنکھ نے کچھ نہ سنا
دید کی بات نہ کی

٭

جیت جو مات نہ کی
جیت کر مات رہی
خامشی کوہِ گراں
گونج کو انت نہیں
سسکیاں، باگھ، دمہ
بھیڑیے روئے بہت!