گل تھیں جو شمعیں انہیں تو نے منور کر دیا

یہ تحریر 122 مرتبہ دیکھی گئی

حکیم الامت ڈاکٹر مولانا سید قلب صادق کی نذر

گل تھیں جو شمعیں انہیں تو نے منور کر دیا
راہ کی تاریکیوں کو روشنی سے بھر دیا
جہل کے سب معرکوں کو فتح کرنے کے لیے
عقل کی تیغیں عطا کیں عِلم کا خنجر دیا
اس طرح اپنے خزانے کب لٹاتا ہے کوئی
سارے خالی دامنوں کو موتیوں سے بھر دیا
بولنا مشکل تھا، مشکل دیکھنا، تو نے مگر
لب کو گویائی عطا کی آنکھ کو منظر دیا
تو اٹھا تو سب کے ہاتھوں میں کتابیں آ گئیں
جوش کیسا حرف خوانی کا دلوں میں بھر دیا
مجمع روشن دلاں کو، شر سے بچنے کے لیے
جس سے ہو بس خیر کی تبلیغ وہ منبر دیا
سر سے پا تک اب تری ملت ستارہ پوش ہے
زیبِ تن کرنے کو تو نے جامہء اختر دیا
تیرگی کے مورچوں پر جنگ کرنے کے لیے
ماہتابوں کا علم خورشید کا لشکر دیا
تا نہ پہنچیں صبح کے صحنوں میں یہ تاریکیاں
شعلہء ظلمت پہ اپنا ہاتھ تو نے دھر دیا
خوں طلب تھی نورگاہِ شوق کی شمشیر جب
ایک ہی تھا میری صف میں جس نے اپنا سر دیا
خشک موسم میں بھی گل آثار شاخیں ہو گئیں
تو نے کیا کارِ نمو گلشن میں ایسا کر دیا
حرف سے تیرے ہنر کی عظمتیں روشن ہوئیں
اور ہنر نے ہم تہی دستوں کو گنجِ زر دیا
توڑنے آئے تھے جب پتھر ہمارے آئینے
شکل میں تیری خدا نے ہم کو شیشہ کر دیا
سر ہوئیں جب منزلیں تو سب کے سب کہنے لگے
کیا ہماری قوم کو اللہ نے رہبر دیا
روشنی تھی سو فلک پر اس کے رہنے کے لئے
خالقِ ارض و سما نے خانہء خاور دیا