گزری ہوئی دنیا سے

یہ تحریر 301 مرتبہ دیکھی گئی

محمود الحسن سے دوستی اور عقیدت کی مشترک بات انتظار حسین صاحب کی بے طرح محبت ہے انتظار صاحب کا ذکرِ خیر جس کی بھی زبان سے ادا ہو وہ من کو بہت بھاتا ہے لیکن محمود الحسن کی بات ہی اور ہے کئ سال ان کو انتظار صاحب کا قرب رہا جس کی خوبصورت یادیں انہوں نے کتاب کی صورت میں عقیدت مندانِ انتظار حسین تک پہنچا دیا جس نے بھی مطالعہ کیا وہ محمود الحسن سے محبت کا علم لے کر نکلا ۔ناچیز کی خواہش تھی انتظار حسین صاحب سے ملاقات کی لیکن پوری نہ ہوسکی پھر بھی ان کی یادیں باتیں ہم ان کی کتابوں کے ذریعے تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کتابیں ہی ان سے ملنے کی آخری صورت ہیں۔
محمود الحسن نہایت خاموش اور علمی انسان ہیں جو اختلاف بھی رکھتے ہیں تو مکمّل ادب کے ساتھ بقول ان کے جب ادب سے وابستگی کا دم بھرتے ہیں پھر اس کو عمل کے ذریعے جاری رکھنا بھی ادب کی خدمت ہے ۔محمود الحسن کی کئ باتیں جو ناچیز کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اچھی کتاب اور اچھے لوگوں سے ملاقات کروانے میں نہایت جلدی کرتے ہیں ۔ دوسری اہم ترین بات ان کی راقم کو پسند ہے وہ ہمیشہ لکھنے کے لیے ایسا موضوع پکڑتے ہیں جس کی ادبی معنویت و اہمیت دائمی ہوتی ہے اور وہ پڑھنے والوں کے دلوں کو جانتے ہیں کہ وہ کیا پسند کریں گے جس کی وجہ سے ان کی ادب دوستی و ادبی زندگی ہمارے لیے مزید اچھے اچھے موضوعات کی طرف جانے میں آسانی لاتی ہے۔ خاکسار خود پر نازاں ہے کہ محمود الحسن صاحب نے اپنی لائبریری میں سے کیا کیا شاہکار عنایت فرمائے ہیں۔


اب ان کی تیسری کتاب ’ گزری ہوئی دنیا سے ‘ شائع ہوئی ہے کتاب کیا ہے ایک خزانہ عہد رفتہ ہے جو سینکڑوں کتابوں کی یادگار ہے اور کئ قدآور لوگوں کی یادوں سے مزین ہے ۔کتاب سے آپ ایک ہی وقت میں کئ ادبی اصناف کا مزا کشید کرسکتے ہیں. پہلا ذائقہ تو خاکہ نگاری کا ملتا ہے دوسرا خودنوشت کا تیسرا افسانوں اور چوتھا نجی خطوط کی صورت میں۔ اس ایک کتاب میں کئ کتابوں کا ذائقہ ہے جو مطالعہ کرنے والے اپنی اپنی ترجیحات کے حوالے سے چکھ سکتے ہیں۔
شمیم حنفی جیسی بلند قامت اور تہذیب پرور شخصیت کا دیباچہ اور سلیم الرحمٰن صاحب جیسے میٹھے اور من بھاتے انسان کے کا لکھا فلیپ ہے۔ پہلا مضمون محمد کاظم جیسے دانشور اور اپنے کام سے مخلص انسان کے زندگی نامہ کو مصنف نے نہایت دلرُبا انداز میں لکھا ہے اور کیا ہی عمدہ و شُستہ نثری کمالات سے پُر یادیں ہیں ۔ ڈاکٹر خورشید رضوی ہمارے زمانہ کے جید عالم با عمل ہیں ان کی اپنے استادِ محترم صوفی محمد ضیاء الحق سے متعلق باتیں پڑھنے والوں کے لیے ایک خزانہ ہیں۔ تقسیم کے زمانہ میں انتظار حسین کے بچھڑے دوست ریوتی کی دوستی کا قصۂ دلگیر ایک اہم ترین مضمون ہے۔ سبط حسن اور انتظار حسین کے متعلق مضمون میں ہمیں اختلاف رکھتے ہوئے تعلق کو کیسے قائم رکھا جاتا ہے اس کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ آگے نہایت اچھا مضمون ناصر کاظمی کی انارکلی میں گزرے خاندان کے ساتھ مشکل وقت کی کہانی ہے۔ میرا پسندیدہ ایک مضمون کنج گلی کی مکین ممتاز فکشن نگار الطاف فاطمہ سے متعلق یادوں کی ایک لڑی ہے جس میں نیر مسعود کا ذکر خیر ہے۔ انیس اشفاق کی الطاف فاطمہ سے ملاقات کا تذکرہ بھی ہے۔ نیر مسعود کا الطاف فاطمہ کے نام خط خاصے کی چیز ہے۔غلام عباس نے واشنگٹن ارونگ کی کتاب کا ’الحمرا کے افسانے‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا جس سے اثر لینے والے قدآور ادبی ناموں کی اس کتاب سے متعلق آراء نے ہمیں خوب متاثر کیا ہے۔
اے حمید کی امرتسر کی یادیں کا ایک منفرد پہلو محمود الحسن نے ہمارے سامنے رکھا ہے ۔شیخ صلاح الدین نے کس طرح سلیم صاحب کی لاہور میں راہنمائی کی ،اس کی مکمّل دستاویز ہمیں یہاں مل جاتی ہے ۔منٹو اور صفیہ کی شادی کا قصہ پڑھنے کے لائق ہے۔ منیر نیازی اور ان کے دوست احباب کی یادیں ،’جنگ اور امن‘ کے ترجمے کی کہانی۔ ’سرمایہ اردو‘ کتاب کی ادبی اہمیت کے متعلق معلومات اور آصف فرخی مرحوم کی انتظار حسین سے عقیدت کا اظہاربھی اس کتاب کے ذریعے سے ہمارے سامنے آتا ہے۔ناشر : قوسین لاہور