گئے زمانے کو ہم حال سے ملاتے رہے

یہ تحریر 234 مرتبہ دیکھی گئی

“قدیم آوازوں کی کٹنگ پیسٹنگ” ان افسانوں پر مشتمل ہے جو “تسطیر” نامی ادبی مجلے میں نصیر احمد ناصر کی ادارت میں شائع ہوئے۔ یہ پتا نہیں چلتا کہ آیا یہ انتخاب ہے یا اس میں وہ تمام افسانے شامل ہیں جو وقتاً فوقتاً مذکورہ رسالے میں چھپتے رہے۔ اگر یہ انتخاب ہے تو بیالیس افسانوں کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرتب نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مجموعے میں عبداللہ حسین، خالدہ حسین اور بانو قدسیہ کا ایک ایک افسانہ شامل ہے۔ ان افسانوں کو ان تینوں کے فن کا نمائندہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان کے بارے میں کچھ لکھنا بے کار ہے۔

بہتر ہے کہ ان افسانہ نگاروں کی کاوشوں پر نظر ڈالی جائے جن کے زیادہ افسانے کتاب میں جگہ پانے میں کامیاب رہے ہیں۔ سلیم اختر کے افسانوں میں پرانی اساطیر کو ایک نئے یا کم از کم جدید ادب سے متاثر منظرنامے میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ زبان بھی قدیم اور جدید نثر کا آمیزہ ہے اور اس کا تصنع افسانوں کو کمزور کرتا ہے۔ اگر ان افسانوں کو مشرف عالم ذوقی کے افسانے “قدیم آوازوں کی کٹنگ پیسٹنگ” کے مقابلے میں رکھا جائے تو ان کی ناتوانی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ذوقی پرانے اور نئے زخموں، اندیشوں اور خلجانوں کو گڈمڈ کرنے میں کامیاب ہیں اور ہمارے سامنے کی ابتلائیں آسانی سے افسانے میں تحلیل ہوتی نظر آتی ہیں۔ یہ حضوری ہے جو ذوقی کے افسانے میں زور پیدا کرتی ہے۔ سلیم اختر نے ادبیت کا سہارا زیادہ لیا ہے اور ماضی کو نئے حال میں حاضر کرنے اور نئی پوشاک پہنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

رشید امجد کے پانچ افسانے ہیں اور سبھی مختصر ہیں۔ ان کا کوئی طویل افسانہ یاد بھی نہیں آتا۔ ممکن ہے کبھی لکھے ہوں۔ بہرحال یہ اختصار پسندی بے جا نہیں۔ اگر افسانہ نگار محسوس کرے کہ جو کچھ کہنا مقصود ہے وہ سہولت سے چند صفحوں میں ادا ہو جائے گا تو افسانے کو غبارے کی طرح پُھلا کر پندرہ بیس صفحوں تک طول دینے کا تردد کس لیے! رشید امجد کے یہ افسانے بے یقینیوں کے بارے میں ہیں جو مرکزی کرداروں کو اپنی شناخت، اپنی حیثیت اور گرد و پیش کی سیمیائی کیفیت کے صحیح یا غلط ہونے پر لاحق ہیں۔ بیانیے میں کفایت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

محمد منشا یاد کے افسانے “ایک بھری ہوئی کہانی” میں دکھایا گیا ہے کہ پرانی، سادہ اور فطری ماحول میں رچی بسی کہانیاں موجودہ خباثت آمیز زمانے میں لکھنی تقریباً ناممکن ہو چکی ہیں۔ زاہدہ حنا کے افسانے “تتلیاں ڈھونڈنے والی” میں ایک عورت کا قصہ ہے جسے پھانسی دی جانے والی ہے۔ اس کا بچہ اس کے پاس ہے جسے یہ کہہ کر بہلاتی ہے کہ وہ تتلیاں ڈھونڈنے جا رہی ہے۔ یہ افسانہ بڑی آسانی سے جذباتیت سے مغلوب ہو سکتا تھا لیکن زاہدہ حنا کسی نہ کسی طور جذباتیت کو طرح دے گئی ہیں۔ پروین عاطف کا “ٹافیاں” ہمارے نام نہاد سیاست دانوں کے منافقانہ رویوں پر چوٹ ہے۔ محمد حمید شاہد نے “معزول” میں دکھایا ہے کہ اطمینانِ قلب باطن کی عطا ہے، ظاہر سے اسے کچھ لینا دینا نہیں۔ مشرف عالم ذوقی کے چار افسانے ہیں۔ ایک کا ذکر پہلے آ چکا۔ سب سے عمدہ افسانہ “کاجو” ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ رفتہ رفتہ کس طرح بہت سے ذائقے یا آرام غریبوں بلکہ متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور اس حد تک کہ نئی نسل ان کے ذائقے اور لطف تو درکنار نام سے بھی واقف نہیں۔ محرومی کا ایک بہاؤ ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا۔ طاہرہ اقبال نے “گلابوں والا ڈیرہ” میں لذتوں کے اسیر، اکڑفوں کے مارے، دوسروں بلکہ اپنوں کا حق چھیننے والے جاگیردار کے انجام کا نقشہ کھینچا ہے۔ دنیوی حرص و ہوس ایک خول یا چھلکا ہے اور جب ٹوٹتا ہے تو اس میں سے کوئی شہزور ہستی برآمد نہیں ہوتی، ایک مفلوج روح بیچارگی کے عالم میں تڑپتی نظر آتی ہے۔ مبین مرزا کے “بے خواب پلکوں پہ ٹھیری ہوئی رات” میں ایک نوجوان کی روداد ہے جسے وقتی طور پر پناہ تو مل جاتی ہے مگر اسے علم ہے کہ اس کے دشمن، جن کی پہنچ بہت دور تک ہے، اسے آخرکار مار ڈالیں گے۔ نصیر احمد ناصر کے تین چھوٹے افسانے خود سوانحی معلوم ہوتے ہیں یا انھیں بیان کرتے ہوئے خود سوانحی رنگ اختیار کیا گیا ہے۔ ان میں پرانی سادگی کو آج کی وحشت زدہ زندگی کے روبرو لا رکھا ہے۔

کتاب میں جوگندرپال، گلزار، احمد ہمیش، انور زاہدی، احمد جاوید، محمد عاصم بٹ اور انوار فطرت کے افسانے بھی ہیں۔

یہ سبھی افسانے، جیسے بھی ہیں، کچھ خوش نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ افسانہ نگار اپنے خیال یا مطلب کو سلیقے سے بیان نہیں کر سکتے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے سامنے جو دنیا ہے وہ مسلسل انتشار کا شکار ہے اور لوگوں کو جانے پہچانے اور ان جانے خطرات لاحق ہیں۔ جو بھی آج افسانہ لکھنا چاہے گا اسے مصائب کا یہ ہفت خواں لازماً طے کرنا پڑے گا۔ بطور فن کار ہم اب بہت کم آزاد ہیں اور ہمیں بڑے بوجھ اٹھا کر چلنا پڑ رہا ہے۔ ہم مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کے کڑے شکنجے میں ہیں اور آفات کی جو لہریں اُدھر سے ہماری طرف آتی ہیں ان کی تیزرفتاری ہر عشرے میں بلکہ سال بہ سال بڑھتی جاتی ہے۔ اس بگڑے ہوئے ماحول کی ترجمانی یہ افسانے کرتے ہیں۔ جن کا مسئلہ ہی فکشن اور شعر میں مافی الضمیر بیان کرنا ہو وہ سچ کیوں نہ بولیں۔

قدیم آوازوں کی کٹنگ پیسٹنگ، مرتب: نصیر احمد ناصر

ناشر: صریر پبلی کیشنز، لاہور و راولپنڈی

صفحات: 376؛ سات سو اسی روپیے