کیسا جینا کیسا مرنا

یہ تحریر 245 مرتبہ دیکھی گئی

نیلوفر اقبال کی تخلیقی ہنرمندی کو سب سے پہلے کرنل محمد خاں نے پہچانا۔ بعدازاں احمد ندیم قاسمی نے ان کے افسانے “فنون” میں چھاپے اور پہلے افسانوی مجموعے “گھنٹی” کی ابتدا میں نیلوفر اقبال کی افسانہ نگاری کا باریکی سے جائزہ لیا اور لکھا کہ”وہ جس موضوع کو چھوتی ہے، جس کردار کو اپنی توجہ کا مرکز بناتی ہے اور زندگی کے جس پہلو کی عکاسی کا انتخاب کرتی ہے اسے کسی ہیر پھیر اور ایچ بیچ کے بغیر، انتہائی سلیقے سے نباہتی ہے۔”
“گھنٹی” کے بعد ان کے دو افسانوی مجموعے سامنے آئے ہیں۔ “سرخ دھبے” جو 2012ء میں شائع ہوا اور “سیاہ سونا” جو پچھلے برس چھپا۔ کل ملا کر 43 افسانے ہیں۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنھیں بلاتکلف اردو افسانوں کے کسی انتخاب میں جگہ دی جا سکتی ہے۔
ان کی شہرت کا آغاز “گھنٹی” سے ہوا۔ اس میں ایک ایسے المیے کو سامنے رکھا گیا ہے جس سے جلد یا بدیر اکثر کنبوں کا واسطہ پڑتا ہے۔ ایسا بوڑھا فرد، باپ یا دادا، جس کی صحت جواب دے گئی ہو اور وہ ہر طرح سے دوسروں کا محتاج ہو چکا ہو۔ رفتہ رفتہ اس کی لاچاری پورے کنبے پر بوجھ بن جاتی ہے۔ بیٹا تھوڑا سا بیزار آ چکا ہے مگر بیزاری کو ظاہر نہیں کرتا۔ بیٹے کی بیوی واضح طور پر ناخوش ہے اور پوتا اور پوتیاں اس صورتِ حال سے نباہ کرنے سے بالکل ہی قاصر ہیں۔ بوڑھے اور صاحب فراش آدمی اور شیرخوار بچے میں کوئی فرق نہیں۔ شیر خوار بچے سے محبت کی جا سکتی ہے لیکن بوڑھے اپاہج کو برداشت کرنے کے لیے جس طرح کا ضبط اور صبر درکار ہوتا ہے وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔
ایک لحاظ سے “حساب” بہتر افسانہ ہے۔ “گھنٹی” کا کیا انجام ہوگا اس کا ابتدا ہی میں اندازہ ہو جاتا ہے۔ واقعات کی عمدہ ترتیب قاری کی دلچسپی برقرار رکھتی ہے لیکن “حساب” میں زندگی کی جو لہر بہر ہے اور سمجھوتے اور
انتشار کے جتنے پہلو ہیں وہ افسانے میں بے ساختہ سی دل آویزی پیدا کر دیتی ہے۔ اور بھی کئی افسانے، بالخصوص “برف” قابلِ داد ہے۔
دوسرے مجموعے میں بھی اچھےافسانوں کی کمی نہیں۔ مثلا “مساوات” جس میں پورے کنبے کی خوشی خاک میں مل جاتی ہے کہ جس لڑکی کو باہر پڑھنے کو بھیجا تھا وہ کسی گورے کے بجائے حبشی سے شادی کر بیٹھی ہے۔ آدمی کی رنگت کے معاملے میں ہم کم متعصب ثابت نہیں ہوتے۔ “دھند” جو “گھنٹی” ہی کی معکوس شکل ہے لیکن زیادہ تکلیف دہ اور تکنیکی اعتبار سے زیادہ پختہ۔ “مسلمان” میں طنز کی کاٹ خاصی گہری ہے۔
“سیاہ سونا” میں شامل افسانے پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ نیلوفر اقبال کے تخلیقی وفور میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اگر پہلے دو مجموعوں سے کوئی فرق ہے تو یہ کہ کوئی افسانہ طویل نہیں۔ بات کہنے کا ڈھب آتا ہو تو چند صفحے ہی قاری کو چونکانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ “پھر” تو بالکل آج کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ وکیل اور صحافی کو اس بچی سے کوئی ہمدردی نہیں جو جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہے۔ دونوں کو صرف اپنے حلوے مانڈے سے غرض ہے اور اپنی فضول پوچھ گچھ سے ستم رسیدہ بھی پر مزید ظلم ڈھا رہے ہیں۔ غضب یہ کہ انھیں اپنی غیرانسانی روش کا احساس تک نہیں۔ اخلاقی انحطاط کی یہ تقریباً آخری حد ہے۔ “لفافہ” میں دکھایا گیا ہے کہ ایمان دار آدمی ہمارے معاشرے میں خوار ہی رہے گا اور اول تا آخر بے ایمانوں کا محتاج۔ “ہونہہ” جو مرد عورت کے مکالمے پر مشتمل ہے کسی ریڈیو ڈرامے سے مشابہت رکھتا ہے لیکن ایسا ڈراما، جسم میں سابقہ میاں بیوی بغیر کسی لحاظ کے ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔ ہمارا کون سا ریڈیو سٹیشن نشر کرنے کی جرات کرے گا۔ “سوکری” میں ان لوگوں پر چوٹ ہے جن میں بالکل معمولی سی صلاحیت ہوتی ہے لیکن برخود غلط ہونے کے عالم میں اپنے آپ کو بڑے پائے کا مصور، شاعر اور گائیک سمجھ بیٹھتے ہیں۔ “بت” میں ایک بادشاہ دفعتاً معزول ہونے کے بعد پہلی دفعہ حقیقی طور چین سے جینے کے معنی سے آشنا ہوتا ہے۔ “جنت پلٹ” میں طنز اور مزاح کی چٹپٹہاہٹ ہے اور کہانی “مرکے بھی چین نہ پایا” کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر ہم اپنے تعصبات، شکوک اور حسد یونہی لیے لیے پھریں گے تو پھر کیا جنت اور کیا دوزخ؟ “ڈیپارچر لاؤنج” میں ایک آدمی حادثے میں ختم ہو جاتا ہے مگر اسے ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ زندہ نہیں۔ سنتے ہیں کہ بعض لوگ مر کر بھی خود کو زندہ سمجھتے ہیں اور حیران ہوتے رہتے ہیں کہ ان کی طرف نہ تو کوئی متوجہ ہوتا ہے نہ ان
کی بات سنتا ہے۔ افسانے کاعنوان معنی خیز ہے۔ یاد نہیں آتا کہ اس نوعیت کا افسانہ اردو میں کسی اور نے لکھا ہو۔
معلوم نہیں، نیلوفر اقبال کے افسانوں کا اگلا مجموعہ کب آئے گا۔ ان کی نثر، جس میں جذباتیت کو دخل نہیں، نپی تلی ہے اورافسانہ نویس کی تکنیک سے واقفیت میں بھی وہ اردو کے بہت سے افسانہ نگاروں پر فوقیت رکھتی ہیں۔ ان کا تخلیقی وفور ہی انھیں اپنا سفر جاری رکھنے پر اکسائے تو اکسائے ورنہ پاکستان میں ایسے ناشر بہت کم ہیں جو فکشن نویسوں کو مسلسل مصروفِ عمل رہنے پر راغب کر سکیں۔
سیاہ سونا از نیلوفر اقبال
ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 176؛ چھ سو روپیے