کہیں اوٹ میں

یہ تحریر 110 مرتبہ دیکھی گئی

(۱)
ایڈورڈ سعید ۔۔۔۔۔۔کہیں اوٹ میں ٭
چیکو سلوویکیہ کے کافکا و کندیرا کے بعض ادبی آثار کا مطالعہ میرے لیے بڑا چشم کشا ثابت ہوا۔ تاہم کندیرا سے میری شناسائی زیادہ پرانی نہیں۔ ان دونوں میں بہت سی قدریں مشترک ہیں۔ کافکا کی کہانی ”کایا کلپ“ پڑھے مجھے ستائیس اٹھائیس برس ہو گئے مگر میں اس کے سحر سے آج تک آزاد نہیں ہو سکا۔ کندیرا کا ذکر پہلی بار کب سنا، کچھ یاد نہیں۔ البتہ اس کا انگریزی میں ترجمہ شدہ مضمون ”KAFKA’S WORLD“ پہلی بار واشنگٹن سے شایع ہونے والے مجلے ”The Wilson Quarterly“ کے ۱۹۸۸ء کے سرمائی شمارے میں پڑھنے کا موقع ملا تو حقایق کے کئی در مجھ پر وا ہوئے۔ یہ کندیرا سے میرا پہلا تفصیلی تعارف تھا۔ یہ مضمون وہی ہے جو اسی زمانے میں اس کے بصیرت افروز مقالات کے مجموعے ”The Art of the Novel“ میں “SOMEWHERE BEHIND” کے زیر عنوان شایع ہوا۔ کندیرا کی مذکورہ کتاب انگریزی میں ترجمہ ہو کر اگرچہ ۱۹۸۸ء ہی میں شایع ہو چکی تھی مگر میری نظر سے نہیں گزری تھی ”دی ولسن کوارٹرلی“ میں شایع ہونے والا مندرجہ بالا مضمون مجھے اتنا اچھا لگا کہ میں نے اسی زمانے میں اس کا اردو میں ترجمہ کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر یہ ترجمہ چند صفحات سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ۱۹۹۶ء کے اوائل میں کندیرا سے میری محبت اس وقت پھر جاگی جب اس کی مذکورہ بالا کتاب میرے ہاتھ لگی۔ اب میں نے نہ صرف اس نامکمل ترجمے کی تکمیل کا ارادہ کیا بلکہ یہ بھی سوچا کہ کیوں نہ پوری کتاب ہی اردو میں ترجمہ کر ڈالی جائے کیوں کہ ناول کے حوالے سے ایسی بصیرت افروز باتیں اردو میں ضرور منتقل ہونی چاہییں۔ اسی دوران مضمون کا ترجمہ مکمل ہو گیا۔ اس کے چند مقامات میرے لیے الجھن پیدا کر رہے تھے۔ سو میں نے ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن سے رابطہ کیا۔ ان سے پتا چلا کہ میں نے جس مضمون کو اردو کا جامہ پہنایا ہے وہ کئی برس پہلے اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ یہ سن کر اپنی بے خبری پر افسوس ہوا۔ ”آج“ کے شمارے میں کندیرا کی دیگر تحریروں کے ساتھ شایع ہونے والا یہ مضمون جب میں نے پڑھا تو محسوس ہوا کہ اجمل کمال صاحب نے جس متن سے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے وہ بعض مقامات پر اس متن سے بالکل مختلف ہے جو ”دی ولسن کوارٹرلی“ اور ”دی آرٹ آف دی ناول“ میں بعد ازاں شایع ہوا اور جسے میں نے اردو کا جامہ پہنایا ہے۔ چناں چہ میں نے محسوس کیا کہ میرے ترجمہ شدہ مضمون کی اشاعت بے جواز نہیں۔ پھر چند مقامات پر اجمل کمال کا ترجمہ (جو بہ حیثیت مجموعی بہت عمدہ اور کام یاب ترجمہ ہے) نظرثانی کا محتاج بھی نظر آیا۔
میں نے مذکورہ بالا مضمون کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس پر چند حواشی بھی لکھے ہیں۔ علاوہ ازیں میں نے مناسب سمجھا ہے کہ کافکا اور کندیرا کے باب میں چند تعارفی کلمات کا بھی اس مضمون کے آغاز میں اضافہ کردوں۔ چناں چہ کافکا سے آغاز کرتا ہوں:
کافکا ۱۸۸۳ء میں ایک یہودی گھرانے میں بہ مقام پراگ پیدا ہوا۔ اس کا والد تجارت کرتا تھا۔ ادب اور طب کی ابتدائی تعلیم کے بعد کافکا نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پراگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا۔ تحصیل علم کے بعد وہ پراگ انشورنس کمپنی میں ملازم ہو گیا تاآں کہ ٹی بی نے اسے ریٹائرمنٹ پر مجبور کر دیا۔ ازاں بعد وہ برلن کے نواح میں منتقل ہو گیا اور اپنے آپ کو ادب کے لیے وقف کر دیا۔
اس کی زندگی میں اس کی بہت کم تحریریں شایع ہوئیں۔ اسی باعث وہ زیادہ معروف نہ ہو سکا۔ وہ اپنے نامکمل ناولوں کو جو اس کی موت کے بعد بے حد معروف ہوئے، بعد مرگ جلا دیے جانے کا متمنی تھا۔ اس کے دوست میکس بروڈ نے انھیں مرتب کر کے شایع کیا۔ ۱۹۴۵ء کے بعد وہ یورپ کے عظیم ترین ناول نگاروں میں شمار ہونے لگا مگر اس کے ناولوں کے ابہام اور تہہ داری کے باعث نقاد اُن کی مختلف تعبیریں کرتے ہیں۔ یہ ابہام بہت منفرد قسم کا ہے کیوں کہ یہ ایک ایسے اسلوب میں ظاہر ہوا ہے جو بظاہر صراحت کا شہکار ہے۔ اس نے جدید انسان کی نفسیاتی اور باطنی الجھنوں کو الم نشرح کرنے کے لیے ایک نئی قسم کا افسانوی ادب وضع کیا ہے (یہ بات واضح ہے کہ جدید انسان کو ایک ناقابل ادراک وجود کا سامنا ہے)۔ کافکا کے تنہائی کے شکار مرکزی کردار (اگرچہ کندیرا کے خیال میں یہ کردار تنہائی کے نہیں، اپنی تنہائی میں مداخلت کے شکار ہیں) یہ فرض کر لینے کی ہیرووانہ غلطی (HAMARTIA) کا ارتکاب کرتے ہیں کہ مقصد کے حصول کے لیے مزید استقلال اور ذکاوت ذہنی کو بروئے کار لا کر وہ پیش آمدہ سنگینی کے حل میں کام یاب ہو جائیں گے۔ مگر ہر موڑ پر شکست کھاتے ہیں _ حالات کے نئے رخ اختیار کر جانے کے نتیجے میں _ یہ حالات جابرانہ اور آمرانہ نہ سہی، ناگزیر ضرور ہوتے ہیں۔ یہ حیران کن اور خوف ناک صورت حال کسی نہ کسی کردار کے اندر بنیادی تبدیلی کے نتیجے میں ظہور کرتی ہے۔ کہیں ہیرو ناقابل فہم طور پر اپنے آپ کو قید میں پاتا ہے (دی ٹرائیل) یا کسی بڑے کیڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے (Metamorphosis) یا کسی ایسے گاؤں میں ملازمت کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا نظر آتا ہے جہاں اسے یقین ہے کہ اسے ملازمت اختیار کرنے کے لیے متعین کیا گیا ہے۔ ان کایا کلپ منظر ناموں کی علامتی سطح پر توجیہ اور توضیح ہو سکتی ہے مگر کافکا کے ناول نظریاتی تصوریت سے آزاد ہیں اور تمثیلی تعبیر کی کوئی سی بھی کوشش پریشان کن صورت حال پیدا کر سکتی ہے۔ کافکا نے ۱۹۲۴ء میں وفات پائی۔ اگرچہ وہ چیک تھا مگر اس نے اپنی تمام کتابیں جرمن میں لکھیں۔ اس کی زندگی میں اس کی سات کتابیں شایع ہوئیں۔ دی ٹرائیل ۵۲۹۱ء میں اس کی وفات کے بعد شایع ہوئی۔ ”دی کاسل“ ”امریکا“ اور ”دی گریٹ وال آف چائنا“ بالترتیب ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۷ء اور ۱۹۳۱ء میں شایع ہوئیں۔
میلان کندیرا نے نہ صرف اپنے زیر نظر مضمون میں بلکہ اپنے دیگر مضامین میں بھی متعدد جگہ کافکا کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً ”ناول کے فن پر مکالمہ“ میں وہ کہتا ہے کہ ہم اکثر جدید ناول کی مقدس تثلیث کا ذکر سنتے ہیں یعنی پرؤست، جوائس اور کافکا۔ میرے خیال میں اس تثلیث کا کوئی وجود نہیں۔ ناول کی جو تاریخ ذاتی طور پر میرے ذہن میں ہے اس کی رو سے یہ کافکا تھا جس نے نفس کے ادراک کے لیے ایسا اسلوب برتا جو کہ کاملاً غیر متوقع تھا۔ ایک اور جگہ لکھتا ہے: ”کافکا کے ناول خواب اور حقیقت کا بے داغ امتزاج ہیں۔“
میلان کندیرا برنو (پراگ) میں ۱۹۲۹ء میں پیدا ہوا۔ وہ چیکو سلوویکیہ کا ممتاز ترین ادیب ہے۔ ۱۹۶۷ء میں اس کی شادی ویرا ہرینکووا سے ہوئی۔ وہ ایک عرصے تک اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹس پراگ میں اسسٹنٹ پروفیسر اور بعد ازاں پروفیسر رہا۔ اس سے قبل اس نے یونیورسٹی آف پنیز PENNES میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ ۱۹۷۵ء میں اپنی بیوی ویرا کے ساتھ نقل مکانی کر کے وہ پیرس چلا آیا اور اب وہیں اقامت پذیر ہے۔ دراصل ۱۹۶۸ء میں چیکوسلوویکیہ پر حملہ روس کے بعد کندیرا کی کتب پر پابندی لگا دی گئی تھی اور اس پر کسب معاش کے دروازے بند ہو گئے تھے چناں چہ اسے مجبوراً مہاجرت اختیار کرنا پڑی۔
میلان کندیرا پہلا چیک مصنف ہے جس نے اپنے ڈراموں اور کہانیوں میں فرد کی نجی، جذباتی اور جنسی الجھنوں پر توجہ مبذول کی۔ اسٹالینی دور کے دیگر لکھنے والوں کے برعکس جو انسان کو اشتراکی کلیت کا محض ایک جز یعنی اس مشین کا ایک بے حس پرزہ سمجھتے تھے، کندیرا انسان کو آزاد اور منفرد وجود کے طور پر دیکھتا ہے، جسے اس بات کا قلق ہے کہ جابر اشتراکی معاشرے نے انسان کی نجی آزادی سلب کرلی ہے۔ کندیرا کی ایک کہانی ”The hitch hiking Game“ کا مرکزی کردار اسی طرح پریشان نظر آتا ہے جس طرح پراگ کا انجینئر یا کافکا کا کردار K۔ اسے دکھ ہے کہ اس کی زندگی بے ہودہ گفتگو کا ہدف رہتی ہے اور راز نہیں رہ سکتی۔ وہ اس طویل شاہراہ سے پریشان ہے جہاں سے اس کا پیچھا کیا جاتا ہے اور جہاں وہ کسی کی نظر سے بچ نہیں سکتا۔
میلان کندیرا دراصل مربوط اور متوازن فرد اور معاشرے کا خواب دیکھتا ہے۔ اس کے بعض کردار حد سے بڑھے ہوئے صنعتی معاشرے میں اپنے وجود کے اثبات و تلاش کے متمنی نظر آتے ہیں۔ کندیرا کو مغرب کے انسان روح اور جسم کا غیر نامیاتی اتصال دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح اس کی کئی کہانیوں کا مرکزی نکتہ، نفس کی نقش بر آب فطرت ہے۔ کندیرا ”قمار زندگی مردانہ بازیم“ کا علم بردار ہے۔ اس کے خیال میں انسان اور دنیا ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں جیسے رینگنے والا کیڑا SNAIL اپنے گھونگے کے ساتھ۔
کندیرا اپنے مشاہدات سے گہرے اور بصیرت افروز نتائج نکالتا ہے۔ ”ناول کے فن پر مکالمہ“ میں ایک موقع پر وہ کہتا ہے:
” ۱۹۸۶ء میں روس نے چیکوسلوویکیہ پر حملہ کر دیا اور اس کے بعد دہشت گردی اور قتل عام کا جو دور شروع ہوا اس سے کچھ عرصہ پہلے سرکاری سطح پر منظم ایک مہم کا آغاز کیا گیا یعنی ¾ کتوں کا قتل عام۔ یہ واقعہ تاریخ دان کے لیے غیر اہم ہو سکتا ہے لیکن بشریات کے طالب علم کے لیے بے حد اہم۔ اس ایک واقعے سے میں نے اپنے ایک ناول “The Farewell Party” کی تاریخی فضا بنائی۔“
”فیر ویل پارٹی“ میں کندیرا اپنے ایک کردار کے حوالے سے یہ سوال اٹھاتا ہے: کیا انسان اس دھرتی پر رہنے کا مستحق ہے۔ کیا اس سیارے کو انسان کے پنجوں سے آزاد نہیں کرا لینا چاہیے؟٭٭ یہ جملہ میلان کندیرا کی کسی انسان بیزاری کا مظہر نہیں بلکہ اس کرب کا آئینہ دار ہے جو اس دھرتی پر انسان کے بعض ناقابل معافی جرائم کے ارتکاب کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ ”ناول کے فن پر مکالمہ“ میں وہ اپنے موقف کی توضیح کرتا ہے اور کہتا ہے: ”ڈیکارٹ کا مشہور قول ہے کہ انسان فطرت کا آقا اور منتظم ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں معجزے برپا کرنے کے بعد یہ ”آقا اور منتظم“ اب اچانک محسوس کرنے لگا ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔ اب نہ وہ فطرت کا آقا رہا ہے (کیوں کہ فطرت رفتہ رفتہ اس سیارے سے ناپید ہو رہی ہے) نہ تاریخ کا (کیوں کہ تاریخ اس کی گرفت میں نہیں آسکی) نہ وہ خود اپنا آقا رہا ہے (کیوں کہ وہ اپنے نفس کی غیر منطقی قوتوں کا غلام ہو گیا ہے) اگر خدا چلا گیا اور انسان اب آقا نہیں رہا تو پھر آقا کون ہے؟ یہ سیارہ بغیر کسی مالک کے خلا میں حرکت کناں ہے۔ یہ ہے وجود کا ناقابل برداشت ہلکا پن۔“
کندیرا نے لکھا تھا کہ کسی کردار کو زندہ کرنے کا مطلب ہے اس کے وجودیاتی مسئلے کی تہہ تک پہنچنا۔ حقیقت یہ ہے کہ خود کندیرا اس باب میں غیر معمولی مہارت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے اپنی بعض افسانوی تحریروں میں چیکو سلوویکیہ کی ایک نسل کی زندہ دستاویزی تصویر مہیا کر دی ہے۔ وہ اپنے ناول ZERT میں ایک نوجوان کے جذباتی اور اخلاقی زوال کو، جس کا ذمہ دار مجعُول اشتراکی معاشرہ تھا، ایک تلخ مزاح کے ذریعے بیان کر دیتا ہے۔ یہ تلخ مزاح اس کی کئی دیگر تحریروں میں بھی جھلکیاں دکھاتا ہے۔
کندیرا اور کافکا میں فکر اور اسلوب کی گہری مماثلتیں ملتی ہیں اور دونوں کا تقابل حیران کن نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
پیشِ نظر تعارفی سطور زیادہ تر کندیرا کی کتاب ”دی آرٹ آف دی ناول“ ”دی پنگوئن کمپینین ٹو لٹریچر“ اور (London) 1996 WHO IS WHO اور کسی قدر،“آج“ (دوسری کتاب) کی مرہون منت ہیں۔
کندیرا کے مضمون ”Somewhere Behind“ کے زیرِ نظر ترجمے میں کئی مقامات پر محمد سلیم الرحمن نے رہنمائی کی جس کے لیے مترجم ان کا ممنون ہے۔

٭ Somewhere Behind
٭٭ ساقی فاروقی کا کچھوا بھی اسی کرب سے دوچار ہے: “یہ کائنات کیا خوبصورت جگہ ہے مگر افسوس کہ یہاں انسان بہت ہیں۔”