کشکول

یہ تحریر 76 مرتبہ دیکھی گئی

وہ جن ہاتھوں نے
کھلونوں سے کھلنا تھا
جس عمر میں
جھولوں پہ جھولنا تھا
یہ کسی کی ستم ظریفی نے
ان کے ہاتھوں میں
ٹوٹے کشکول تھما دیے
جن کی آرزوئیں، خواب اور خوشیاں
کشکول میں کھنکتے
سکوں سے منسوب ہوگئی
فٹ پاٹ پہ کھڑی
بوجھل سی معصوم آنکھیں
جو حیا سے جھکی ہوئی ہے
آنسوؤں سے ٹوٹے کشکول کے
پیندے کو تر کر رہی ہے

ریحان علی کی دیگر تحریریں