کس کو معلوم ہے نصابِ دل

یہ تحریر 364 مرتبہ دیکھی گئی

غزل بڑی سخت جان صنف ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں اس کی افادیت کو شک کی نظر سے دیکھا گیا۔ بیسویں صدی میں بھی بعض نقاد اور شاعر اس کی مشکیں کسنے پر تلے رہے۔ زور یاروں نے بہت غزل شکنی میں مارا۔ نہ ہوئی پر نہ ہوئی ان کو کوئی فتح نصیب۔ دنیا کو عروسِ ہزار داماد کہتے آئے ہیں۔ غزل کا چال چلن بھی مختلف نہیں۔ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق رنگ روپ بدلتی رہتی ہے۔ اس کا باطنی مرکز قلب مکان ہے۔ جو کم صلاحیت رکھتے ہیں وہ بس سطح پر کاوے کاٹتے رہتے ہیں۔ جو اہل ہیں وہ اس مرکز کو چھو کر امر ہو جاتے ہیں۔

ارشد محمود ناشاد کی غزلوں کے مجموعے کو خورشید رضوی، امین راحت چغتائی، مبین مرزا اور صوفی عبدالرشید کی تائید حاصل ہے۔ ناشاد خوش قسمت ہیں، ناشاد نہیں، کہ ان کے کلام کو مذکورہ بالا اہلِ نظر نے سراہا ہے۔ ان کے تعریفی کلمات اپنی جگہ، یہ تو دیکھنا ہی پڑے گا کہ ان غزلوں میں ہے کیا۔

سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ کتاب میں، اول تا آخر، خواہ مضمون آرائی ہو یا تخیل بافی یا لفظیات، شاعر نے ایک سطح برقرار رکھی ہے۔ اس نے نہ تو خواہ مخواہ زور لگا کر اوپر اٹھنے کی کوشش کی ہے نہ بے احتیاطی سے پستی کو راہ دی ہے۔ ورنہ فی زمانہ بہت سے غزل گو حضرات کے ہاں اتار چڑھاؤ بہت ہیں۔ اس طرح کے نشیب و فراز سے اس مجموعے میں دو چار ہونا نہیں پڑتا۔ صرف ایک غزل “اس کے بھید کو چاند نہ سمجھے، بھید نہ تارا پائے یہاں” میں لفظیات کی وحدت برقرار نہیں، اگرچہ یہاں بھی “بحرِ بسیط” ، “بے توقیروں” اور “بختِ ہما” کی موجودگی سے تذبذب کا اظہار ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کلاسیکی رنگ میں، جو بہرحال پرانا کسی لحاظ سے بھی نہیں اور دورِ حاضر کی غزل سے مناسبت رکھتا ہے، الفاظ کو برتنے کا سلیقہ مجموعے کو استقامت عطا کرتا ہے۔ یہاں بالکل نیا انداز تو نہیں مگر انفرادیت کی جھلک ہے اور یہ بھی ہر کسی کے حصے میں کہاں آتی ہے۔ جب شاعر یہ کہتا ہے کہ “لب و رخسار کے اظہار سے مہلت ملی تو / غزل میں اور بھی کچھ رنگ بھرنا چاہتے ہیں” تو خیال آتا ہے کہ جو کچھ اب تک حاصل ہوا ہے یا جس منزل تک پہنچنے کا موقع ملا ہے اس سے مطمئن نہ ہونے کا اظہار ہے۔ مطمئن ہونا بھی نہیں چاہیے کہ دنیائے فن و ادب میں قناعت پسندی جان لیوا ہے۔ یہ اگلے مجموعے ہی سے پتا چلے گا کہ کچھ اور رنگ بھرنے کی یہ آرزو صادق ہے یا محض خیال آفرینی۔

بعض اشعار تہ دار ہیں جیسے “زمانہ جن کو سمجھتا رہا ہے نقشِ بقا / یہ اب کُھلا ہے کہ سب مرحلے زوال کے ہیں۔” جہاں عروج اور کاملیت کو چھو لیا ہمیشہ وہیں سے زوال کی ابتدا ہوئی۔ بقول سراج اورنگ آبادی: “آخر کو ہر بلندی کرتی ہے عزمِ پستی”۔

“عرصہء عمر کاٹنے کے لیے / لوگ کیا کیا عذاب اٹھاتے ہیں”۔ وقت کو کیسے گزارا جائے، یہ روزِ اول سے انسانوں کے لیے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ طرح طرح سے، اچھے طریقوں اور برے حیلوں کو بروئے کار لا کر، وقت سے نمٹنے کی کوشش کی ہے اور ناکامی کی صورت میں خود کو اور دوسروں کو عذاب میں ڈالا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان کو اگر چند ہزار سال کی زندگی مل جائے تو اس پر کیا گزرے گی۔

انھیں غزلوں میں کہیں نصابِ دل کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ غزل تو نصاب بدلتی ہی رہتی ہے۔ اس لیے شرحیں اور حاشیے، جو کل کارآمد تھے، آج بیکار دکھائی دیتے ہیں۔ ارشد محمود ناشاد بھی اپنی غزل کا نصاب بدلنے کی جرات کریں۔ عروس کو کسی نئے پیرہن میں دیکھیں، نیا پیرایہ دیں۔ پھر انھیں “اساتذہء سخن سے معذرت کے ساتھ” لکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔

رنگ از ارشد محمود ناشاد

تصاویر : مشتاق عاجز

ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی

صفحات: 128؛ پانچ سو روپیے