کتاب: من کی آواز

یہ تحریر 295 مرتبہ دیکھی گئی

تبصرہ: محمد رافع حسن

چاہے دن کے اجالے ہوں یا پھر تاریک رات کی تاریکی۔ چاند کی چاندنی ہو یا پھر سورج کی تپش۔ اگر من زندہ ہو تو سب اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب دل ہی مر جائے تو نہ کوئی رنگ بھاتا ہے نہ کوئی پہناوا۔ یہ دل بھی عجیب ہے۔ پورے جسم اور روح پر ڈیرا ڈال کے بیٹھ جاتا ہے۔ خود پیاسا ہو تو جسم کو نڈھال کردیتا ہے اور روح کو بے قرار۔
افسانہ ادب کی اصناف نثر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ معنوی اعتبار سے یہ ایک چھوٹی کہانی ہے لیکن ادبی اصطلاح میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا قصہ ہوتا ہے جس میں کسی ایک واقعہ یا زندگی کے کسی اہم پہلو کو مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔ وحدت تاثر اور اختصار اس کی اہم صفات ہیں۔ ناول زندگی کا کل پیش کرتا ہے جبکہ افسانہ زندگی کا جز پیش کرتا ہے۔ اس کی طوالت اتنی ہوتی ہے کہ ایک یا آدھی نشست میں قاری ایک افسانہ مکمل کر لیتا ہے۔ افسانے کی ایک اور قسم بھی ہے جو طویل ہوتے ہیں۔ انہیں طوالت کے اعتبار سے ناول تو نہیں کہہ سکتے لیکن انہیں طویل افسانہ کہا جاتا ہے۔


من کی آواز مصنفہ زہرا تنویر کا افسانوی مجموعہ ہے جس میں چودہ افسانے اور بارہ مختصر کہانیاں ہیں۔ مصنفہ کا انداز بیاں عام فہم ہے۔ تقریباً تمام افسانوں اور کہانیوں میں ایک عام انسان کے مسائل کی زندگی پر بات کی گئی ہے۔ کہیں مصنفہ نے ہمیں شامی بھیا سے ملوایا تو کہیں میاں جی کا تعارف کروایا۔ اسی طرح حلیمہ کی بیٹی، ننھے میاں، نیلی آنکھوں والی گڑیا اور بتول آپا سے بھی ملاقات کروائی۔ کہیں پہلے سبق کا احوال تھا تو کہیں سونی کلائیوں کے نوحے۔ غرض ہر افسانہ ہی اپنے اندر ایک پیغام سموئے ہوئے تھا۔

یہ مصنفہ کی پہلی کتاب ہے اور بےشک ایک اچھی کوشش ہے۔ انداز تحریر رواں ہے اور املاء کی غلطیاں بہت کم ہیں۔ ان شاءاللّٰه مستقبل میں مزید اچھا لکھیں گی۔ مصنفہ نے اپنی کہانیوں کے ذریعے کئی ایسے مسائل اور جذبات کی نشاندہی کی ہے جن پر سرعام کھل کر بولنا معیوب اور برا سمجھا جاتا ہے۔ ہم ان باتوں کے متعلق دل میں کتنا کچھ ہی کیوں نہ سوچ لیں لیکن معاشرے میں ان باتوں کو کرنا مشکل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مصنفہ نے اپنی کتاب کا نام “من کی آواز” رکھا ہے۔
کتاب کی طباعت اور معیار بہت اچھا ہے اور قیمت بھی نہایت مناسب ہے۔ اگر آپ یہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو مصنفہ سے رابطہ کریں۔ یہ کتاب آپ کو ناامید نہیں کرے گی۔