کاغذی عینک سے

یہ تحریر 322 مرتبہ دیکھی گئی

(1)

مشرقی معاشرے میں شادی کے بارے میں بہت سی باتیں کی جاتی ہیں۔ شاید اسی صورت میں عورت پر کھل کر تبصرہ کیا جا سکتا ہے اکثر مردانہ بیٹھکوں کا موضوع  بھی یہی ہوا کرتی ہے۔ جن محافل میں شادی سے متعلق اچھوتے اور رشک آمیز خیالات پائے جاتے ہیں وہ عموماَ غیز شادی شدہ افراد کی ہوتی ہیں۔ ان میں بھی ایسے غیر شادی شدہ افراد جن کی عمر نکل چکی ہو اس بارے میں خاصے متجسس نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں  بعض حضرات کو ہم نے قومی سطح کے  غم کا احساس رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ان کے نزدیک ان کے شادی نہ کرنے کی صورت میں یہ قوم ایک خاص قسم کی مخلوق کی آمد سے محروم ہو گئی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کنوارہ رہ جانے سے انھیں خود تو کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ اس وجہ سے جس دو شیزہ کا حق مارا گیا ہے اس کے لیے فکر مند ضرور دکھتے ہیں۔۔ سو ہمارے جہاں بان غیر شادی شدہ مدبر  حضرات اس غم کو غلط کرنے کے بھی کئی ڈھنگ نکال لیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو درویسشی اختیار کر لیتے  ہیں اور تصوف کی بھول بھلیا میں کھو جاتے ہیں اور کچھ انقلابی تحریکوں کے رہنما بن کر سامنے آتے ہیں۔ شاید بصورتِ دیگر بھی مشرقی شادی کی گھریلو کیفیت انھیں دو رستوں پر چلنے جیسی ہوتی ہے۔  گزشتہ دنوں ایک کرکٹر دوست کی شادی میں جانا ہوا۔ اہتمام ایک ریستوران میں کیا گیا تھا جسے جدید آرائشی انداز اپناتے ہوئے سجایا گیا تھا۔ شرکا پر تکلف لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ حسبِ معمول شرکا انتظامات سے خاصے زیادہ پائے گئے۔ اب خدا جانے کہ ایسے موقعوں پر  ہر شخص  باقاعدہ  طور پر اپنا اپنا مہمانِ خصوصی اور مہمانِ اعزاز  ساتھ لے کر آتا ہے  یا ہمیں ایک کے دو نظر آنے لگتے ہیں۔ ہمارے خیال میں دعوت نامے پر ایک سطر لکھنی چاہئے ” تقریب میں  اجتماعی مہمانِ خصوصی کا انتظام کر لیا گیا ہے لہذا آپ بس خود تشریف لائیے”  ۔ جیسے ہمیں کسی بھی شادی میں ایک ہی صورت میں بیٹھنے کی جگہ ملتی ہے کہ میز پر اضافہ کرسی لگوائی جائے۔  یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک مخلوط پلاٹ والی میز پر ہماری کرسی بھی لگ گئی جس پر دلہا کے  بھائی ایک کرکٹر دوست، ایک مولانا صاحب اور ان کے ملازمین کے ہمراہ  خاصے خوش پوشاک  تازہ شادی شدہ صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ وہ حضرت عالمِ خمار میں تھے۔ ایسی لجاجت سے کھانا پلیٹ میں انڈیل رہے تھےجیسے محبوبہ کی زلفیں سلجھا رہے ہوں۔ کپڑے سے پلیٹ لگنے کا زرا سا احتمال ہوتا تو بجلی کی تیزی سے کمر کو خم دیتے  اور اس لچکدار حرکت پر ہونٹ بھینچ کر مسکرانے بھی لگتے۔ صاحب پرائی شادی میں   خاصے مسرور نظر آرہےتھے ۔ انھیں دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا کہ ہم کسی بھی شخص کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ اس کی شادی شدہ زندگی کیسی گزر رہی ہے۔ ہم نے  ساتھ بیٹھے احباب سے کہا  کہ ان صاحب کی شادی شدہ زندگی بڑی خوشگوار گزرے گی۔ ہماری سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے وہ قدرے حیرت سے استفسار کرنے لگے وہ کیسے؟؟ ہم نے کہا  بھئی سادہ سا کلیہ ہے۔ جس آدمی کو تمام عمر کسی عورت نے اپنے پاس کھڑے بھی نہ ہونے دیا ہو اس کی شادی شدہ زندگی بہت  خوشگوار گزرتی ہے۔ پھر ہم نے خوش پوشاک سے دریافت کیا : سنائیے میاں کیسی گزر رہی ہے؟؟ وہ ذرا  خفگی سے کہنے لگے کہ آج کل جھگڑا چل رہا ہے۔پھر سب یکے بعد دیگرے بیویوں سے جھگڑے کی  کہانیاں سنانے لگے۔دولہا کے بھائی نے بتایا کہ بھیا کی دوسری شادی ہے۔ ہم نے استفہامیہ لہجے میں دہرایا ” دوسری”۔ وہ  مسکرا کر بولے ” پہلے نوبال” ہوگئی تھی۔  کسی بھی تاثر کو سنبھال پانے سے پہلے   دائیں طرف بیٹھے “بت شکم”  مولانا صاحب نے بتا یا کہ وہ تین شادیاں فرما چکے ہیں۔ اس انکشاف پر ہم نے کھانا چھوڑ کر بغور انھیں دیکھا۔ پہلی بار اپنی  پیشئن گوئی غلط ثابت ہوتی نظر آئی۔ یکایک ان کے ایک ملازم نے ہماری غلط فہمی دور کی۔ کہنے لگے مولانا صاحب خاصہ سخت مزاج رکھتے ہیں اور علمِ “زوجہ شناسی ” کے بھی ماہر ہیں۔ لہذا کوئی عام خاتون ان کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی۔ ہم نے دریافت کیا یہ “زوجہ شناسی ” کس بلا کا نام ہے۔ تو بتانے لگے کہ  مولانا کسی بھی شخص کی زوجہ سے تھوڑی دیر گفتگو کے بعد ہی بتا سکتے ہیں کہ  وہ بہکے گی یا نہیں۔ مثلا مولانا نے ایک نا عاقبت اندیش شخص کی بیوی کے بارے میں دعویٰ کیا تھاکہ ضرور بہکے گی۔  پھر وہی خاتون  لغزش  کے بعد مولانا کے نکاح میں  آ گئی  ۔اور  اس نکاح کے بعد بھی مولانا کا دعویٰ درست ثابت ہوا۔

ہم نے کہا اور باقی بیویوں کی بابت کیا کہتے ہو؟؟؟ فرمانے لگے “مولانا کو عورت  کا گھر سے نکلنا پسند نہیں۔ خصوصاَ بازار  آنا جانا۔ آپ فرماتےہیں اس سے بے راہروی پھیلتی ہے۔ عورت چھپ کر بھی جائے تو بھی شیطان نظروں اور وسوسوہ انگیز آوازوں سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ من چلوں کی چھیڑ چھاڑ تو ایک طرف یہاں تو  کمبخت دکاندار تک ٹوکریوں میں پھل اور سبزیاں  اس انداز سے لگاتےہیں کہ دیکھتے ہی انسانی جذبات برانگیختہ ہو جائیں۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ زمانہ مزید خراب ہوتا جا رہا ہے”۔  پھر کہنے لگے” یہی نہیں کہ فقط  دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں بلکہ خود بھی عمل کرتے ہیں۔ اسی لیے صرف روایتی کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں  اور سرِ محفل اگر کوئی ایسی شے ثابت کھانے کے لیے پیش کر دی جائے جس جمالیاتی اختلاف پیدا ہوتا ہو تو کھانا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔  میں نے بغرضِ احتیاط  میز پر سجائے گئے سارے کھانوں کا جائزہ لیا اور اطمینان کا سانس لیا۔۔۔

جاری۔۔۔