کئی چاند تھے سرِ آسماں

یہ تحریر 215 مرتبہ دیکھی گئی

“کئی چاند تھے سرِ آسماں” اپنی نوعیت کا انوکھا ناول ہے۔ ثقافتی ثروت سے مالا مال۔ افسانوی ادب میں، بالعموم، واقعات گو حقیقی ہوں، ان کا اظہار فرضی کرداروں کے پردے میں کیا جاتا ہے۔ اس ناول میں کردار، بیشتر، حقیقی ہیں مگر اُن کے شب و روز کی تفصیل، تاریخ کے چوکھٹے میں رہتے ہوئے، فاروقی صاحب کی متخیلہ نے فراہم کی ہے جو اصل نہ ہوتے ہوئے بھی کسی سنگوارے (Fossil)کی طرح اصل ہے۔ یہ تفصیل ایک رفتہ و گزشتہ معاشرے کے ادب آداب، وضع و لباس، رسم و رواج، جذبات و احساسات، عقائد و توہمات، غرض ہر ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔ روایات کا حصر اور گاہے گاہے اُن پر محاکمہ غمّاز ہے کہ اس شہکار کی تکمیل میں تخیل کی زرخیزی ہی نہیں تحقیق کی جاں کاہی بھی صرف ہوئی ہے۔ کینوس کا پھیلاؤ اور جزئیات کا عمق مصنف کے نہایت وسیع مطالعے اور بہت دقیق مشاہدے کا پتا دیتا ہے۔ ایک پوری تہذیب، جو چمک چمک کر پلٹ چکی ہے اور جس کی اساس شعر و ادب کے رچے ہوئے ذوق پر تھی، اس ناول کے صفحات میں ہمیشہ سانس لیتی رہے گی اور یہ اس مٹے ہوئے رچاؤ کا صرف عکّاس ہی نہیں بلکہ شاید اُسے زندہ رکھنے اور آگے بڑھانے کا ضامن بھی ہوگا۔