ڈاکٹر مُبشر حسن کے ساتھ ایک شام

یہ تحریر 655 مرتبہ دیکھی گئی

“ضیاء الحق نے 1979 میں بُھٹو کو قتل کروا دِیا تو میرے گھر پر بھی پولیس کا پٙہرا بیٹھ گیا۔” مُبشر حسن بتانے لگے۔ “جہاں جاتا خُفیہ کا کوئی نہ کوئی بندہ میرا پیچھا کرتا رہتا۔ جو کُچھ میں لکھتا اُسے کوئی چھاپنے پر آمادہ نہ ہوتا۔ اِن حالات میں میں نے خود کو جصروف رکھنے کی خاطر پرندوں کی تصویر کشی کرنے کی ٹھانی۔ کیمرا تو میرے پاس 1965 سے تھا۔ لیکن پرندوں کی عکاسی کے لیے خاص لینز درکار تھے۔ میں نے اپنے دوست رضا کاظم سے ذکر کیا تو وہ امریکہ سے Canon کیمرا اور 800mm اور 220mm کے لینز لیتے آئے۔ یوں میری بٙرڈ فوٹوگرافی کی شروعات ہوئیں۔”

“پرندوں کے جاحول اور عادات سے واقفیت خاصل کرنے کے لیے میں نے کتابیں جمع کرنا شُروع کیں۔ اُس زمانے میں ٹرانسپرینسی فِلم پر کام کرنا مُجھے پسند تھا کیوں کہ ایک تو میں اس سے براہ راست پٙرنٹ لے لیتا اور ساتھ پروجیکٹر پر دوسروں کو دِکھا بھی سکتا تھا۔ میں نے پرندوں کی تلاش میں سمندر سے لے کر پہاڑوں تک کی مُسافت کاٹی اور بیرون مُلک ان کی مخصوص پناہ گاہوں کے سفر بھی کیے۔ پہلے مُجھے شکار کا خبط رہا لیکن 1965 میں بندوق چلانا بند کر دی اور کیمرا لے لیا۔ بھئی شُوٹ ہی کرنا تھا نا
So camera had all the excitement of shooting.”

“لیکن آپ نے پرندوں کی تصویر کشی کا ہی انتخاب کیوں کیا؟” میں نے پوچھا۔
“ایک تو یہ کہ پرندے تصویر بنانے سے منع نہیں کرتے۔ ان میں انفرادیت بھی ہے اور خوُبصورتی بھی۔ میں نے ان کے قریب جانے کے لیے کبھی خود کو کیموفلاج نہیں کیا۔ کیوں کہ میں پرندوں کے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتا۔ جو کرنا ہے سامنے آ کر کرو۔ یہاں ایک پرندہ ہے جس کو ہم نِیل ٹانس بولتے تھے۔ وہ شِیوا دیوتا سےمنسوب ہے
نِیل ٹانس نِیلا رہیئو
میری عرض خُدا سے کہیئو
پرندے کسی نہ کسی روایت یا کہانی سے وابستہ ہیں۔ میں تو ان کو ایسے ہی دیکھتا ہوں۔”

“اِس تصویر کشی کے دوران آپ کو کبھی تنہائی کا احساس ہوا؟”
“بالکل نہیں۔ میرے چار سُو مخلوقِ خُدا بول رہی ہوتی تھی۔ بے شُمار پرندے اِدھر اُدھر آ جا رہے ہوتے تھے۔ ایسے میں تنہائی کیسی!”

“آپ کی سیاست سے طویل وابستگی ہے” میں نے استفسار کیا، “آپ کے خیال میں پرندوں کی تصاویر کا کوئی سیاسی مصرف ہو سکتا ہے؟”
مُبشر حسن کُچھ دیر خاموش رہے۔ پھر نہایت دھیمے لہجے میں بولے

باز چٙھڈ گئے آہلنا
گُھگی پٙردھان ہوئی