چغد ( نثری نظم )

یہ تحریر 215 مرتبہ دیکھی گئی

وہ لڑکا
اب بھی چغد ہے
اتنا ہی احمق ہے
جتنا وہ اس شہر میں تھا
اس زمانے میں تھا ،
جب
دلبری اور دلیری کو
یک جا کرتے ہوئے
برادر خورد کو
تم نے قاصد بنایا تھا
اور
” پیار کا پہلا شہر ” دے کر
اس کی جانب روانہ کیا تھا ،
اس نے یہ کہہ کر
واپس تحفہ کیا تھا :
” یہ شہر میرا دیکھا ہوا ہے
یہ ناول میں نے پڑھا ہوا ہے “
ہائے ، وہ لڑکا کتنا سادہ دل تھا
جو کہتا تھا :
” ہم لڑکے بالے یہ کیا جانیں ؟
استعارے اور اشارے یہ ، کیا جانیں ؟ “
اگر تم منتقم ہوتیں ،
حریف ہوتیں ،
ستم ظریف ہوتیں ،
تو وہ لڑکا
ایک تازیانے کا حق دار تھا
اسی مصنف کی
ایک اور تصنیف کا سزاوار تھا :
“الو ہمارے بھائی ہیں ! “
مگر تم رحم دل تھیں
مہرباں تھیں
نصیب دشمناں تھیں !