پرانے جنگل میں نئی صدا

یہ تحریر 214 مرتبہ دیکھی گئی

ایک نسل گزری کہ اردو شاعری کے دامن سے محبت کے جذبے کو بڑی حد تک جھٹک کر پرے کیا جا چکا اور اس کی جگہ از قسم انفس و آفاق، وجود و عدم ، لفظ و معنی جیسی تجریدات بھر دی گئی ہیں۔ یہ مگھم معاملات یقیناً ذہن کشا ہیں لیکن ان کی کثرتِ اصرار نے حالیہ شاعری کے بیشتر حصے کو چوبِ صحرا کی طرح خشک اور چکی کے پاٹ کی طرح بوجھل بنا دیا ہے، اور اسی دوران ہلکے پھلکے کومل شیتل موضوعات کہیں پیچھے چلے گئے ہیں۔ اشفاق عامر نے کچھ اپنے ادب کے مطالعے کی وسعت اور کچھ اپنے مزاج کی نرماہٹ کو بروئے کار لا کر سلگتی شاموں کی کسک، ناآسودہ جذبوں کی تڑپ اور بھیگی رتوں کی کوملتا کو لفظوں کا روپ عطا کر دیا ہے۔


یہ کام بظاہر جتنا آسان نظر آتا ہے، اتنا ہی مشکل ہے۔ چبوترے پر کھڑے ہو کر گھن گرج خطاب ہر کوئی کر سکتا ہے، مگر کسی تنہا کنج کے ملگجے میں گھل جانے والی مدھم سرگوشی کو تاثیر سے پر کر دینے کی صلاحیت کسی کسی کو ودیعت ہوتی ہے۔ کلاسیکی اصطلاح میں اس شاعرانہ گن کو ’کیفیت‘ کہتے ہیں، اور یہی وہ شے ہے جو شعر کا مطلب بتاتے وقت پیچھے رہ جاتی ہے۔
یہ کتاب بہت سال پہلے آ جانی چاہیے تھی۔ دیر سے سہی، لیکن امید ہے کہ زیرِ نظر مجموعے میں اردو شاعری کے قاری کو اپنے ذوق کی تسکین کا بہت سامان ملے گا۔

دور تک جاتی ہے ان لفظوں کی خوشبو عامر
شاخ احساس پہ جس وقت ثمر آتا ہے